بلدیاتی اسپتال پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا اعلان

اسٹاف رپورٹر  منگل 7 دسمبر 2021
 پی ایم ڈی سی کو سندھ کے میڈیکل کالجوں سے متعلق خط لکھاتھا لیکن ان کی طرف سے جواب دیا گیا ہے کہ ہم 65فیصدمارکس سے نمبرکم نہیں کرسکتے،ڈاکٹر عذرا پیچوہو
۔ فوٹو: فائل

 پی ایم ڈی سی کو سندھ کے میڈیکل کالجوں سے متعلق خط لکھاتھا لیکن ان کی طرف سے جواب دیا گیا ہے کہ ہم 65فیصدمارکس سے نمبرکم نہیں کرسکتے،ڈاکٹر عذرا پیچوہو ۔ فوٹو: فائل

 کراچی: صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہونے کہا ہے کہ کے ایم سی سے ملنے والے اسپتال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائیں گے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہونے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سندھ میں مثالی ہے یہ کسی اورصوبے میں نہیں ان کا کہنا تھاکہ میں نے پی ایم ڈی سی کو سندھ کے میڈیکل کالجوں سے متعلق خط لکھاتھا لیکن ان کی طرف سے جواب دیا گیا ہے کہ ہم 65 فیصدمارکس سے نمبرکم نہیں کرسکتے۔

پیر کو سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ ہم محکمہ صحت میں 33 منصوبے مکمل کرنے جارہے ہیں، این آئی سی وی ڈی، فاطمید سمیت بہت سے ادارے ہیں جن کوگرانٹ دیتے ہیں،چائلڈ لائف فاؤنڈیشن اورپی پی ایچ آئی سے ماں اوربچے کی صحت کے پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے معاہدہ کیاہے،ہم چاہتے ہیں کہ ماں اوربچے کے صحت کے پروگرام کوبیسک ہیلتھ یونٹس میں زیادہ توجہ دیں۔

انھوں نے کہاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سندھ میں مثالی ہے یہ کسی اورصوبے میں نہیں ہے، ماں اوربچے کے پروگرام پرتوجہ دینے سے اموات میں کمی آئی ہے یہ پروگرام گورنمنٹ ڈسپینسریزتھرمیں پائلٹ پروجیکٹ کے طورپرشروع کرارہے ہیں،کمیونٹی مڈوائف کے ذریعے بھی سہولت دی جارہی ہیں، ایمبولینس سروس بھی دی جائے گی،ماں اوربچے کی صحت اہم ہے۔

ڈاکٹر عذرا نے کہاکہ ڈاؤیونیورسٹی اسپتال میں ہم نے سہولتیں بڑھائی ہیں،لور بون میرولیورٹرانسپلانٹ نشے کے عادی افراد کاسینٹر،گامانائیف سینٹرسمیت اہم اقدامات کیے گئے ہیں،گمزمیں بھی جدید طریقہ علاج کی تمام سہولیات دی ہیں جس سے پوراملک مستفید ہورہا ہے،پروٹون تھراپی یونٹ بھی گمزمیں دیاہے، ریفارمز سپورٹ یونٹ بنانے جارہے ہیں۔صحت مند زندگی کے لیے اوراپنے آپ کوبیماریوں سے بچاؤکے لیے آگاہی دیں گے،ٹیلی ہیلتھ یونٹ بھی بنائے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ سندھ میں علاجمفت ہے اوپی ڈی انشورنس میں نہیں ہے،بلڈ پریشرذیابیطس کے لیے زندگی بھردوائی کھانی پڑتی ہے یہ کوربھی نہیں ہے،دوسرے صوبوں میں گورنمنٹ اسپتالوں کی صورتحال خراب ہورہی ہے،انشورنس کے پیسے پرائیویٹ اسپتالوں کوملیں گے، ہم چاہتے ہیں معیاری علاج سب کے لیے ہو۔

صوبائی وزیر صحت نے کہاکہ سندھ کے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے پی ایم ڈی کیٹ کوخط لکھا تھا جس میں میرٹ پچاس فیصد کرنے کی سفارش کی گئی تھی لیکن ان کا کہنا جواب آیا ہے کہ ہم 65فیصدمارکس سے کم نہیں کرسکتے،میڈیکل یونیورسٹیزکے معیارکوبہتربناناچاہیے لیکن معیارکے نام پرآؤٹ مضامین سے یہ مختلف ٹیسٹ لے رہے ہیں پی ایم سی ایکٹ میں جوتبدیلیاں لائی گئی ہیں وہ ناگوارہیں آنے والی جوبھی حکومت ہوگی اس ایکٹ کی نفی کرے گی۔

انھوں نے کہاکہ کے ایم سی سے محکمہ صحت سندھ کو ملنے والے اسپتال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرچلائیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ عوام کوبہترصحت کی سہولت دیں، نجی انتظامیہ اسپتال چلائے گی محکمہ صحت صرف مانیٹرنگ کرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔