افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ کیلئے سرکاری مہر والی سیل کا انکشاف

ویب ڈیسک  بدھ 8 دسمبر 2021
کنٹینر میں بھارت کیلئے ڈرائی فروٹ کی کھیپ ظاہر کی گئی لیکن اس میں کروڑوں مالیت کا سگریٹ، چھالیہ اور کیمیکل موجود تھا۔ فوٹو:فائل

کنٹینر میں بھارت کیلئے ڈرائی فروٹ کی کھیپ ظاہر کی گئی لیکن اس میں کروڑوں مالیت کا سگریٹ، چھالیہ اور کیمیکل موجود تھا۔ فوٹو:فائل

لاہور: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کیلئے سرکاری مہروالی مخصوص سیل اور حساس آلات کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ 

محکمہ کسٹمز سنٹرل زون نے ڈیرہ غازی خان سے واہگہ جانے والے کنٹینر پر لگے بوگس ٹریکر اور کسٹم سیل پکڑ لئے، جس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ کیلئے سرکاری مہروالی مخصوص سیل اور حساس آلات کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع محکمہ کسٹم نے بتایا کہ کنٹینر چمن سے واہگہ کے لئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت لے جایا جارہا تھا، واہگہ بارڈر پر کنٹینر کو بھارتی ٹرک پر منتقل کیا جانا تھا، کنٹینر میں بھارت کیلئے ڈرائی فروٹ کی کھیپ ظاہر کی گئی لیکن اس میں کروڑوں روپے مالیت کا سگریٹ، چھالیہ اور کیمیکل موجود تھا۔

ذرائع کے مطابق ٹریکر فراہم کرنے والی کمپنی کے دو ٹریکرز کنٹینر پر نصب جب کہ یکساں نمبر والے دو ٹریکر واہگہ میں کمپنی دفتر میں موجود ہیں، محکمہ کسٹم کے بعض اہلکاروں نے سمگلرز کو ٹرانزٹ ٹریڈ کنٹینرز پر لگائے جانے والی مخصوص کسٹم سیل فراہم کیں، ٹریکرز اور سیل کی اسمگلرز کو فراہمی میں مبینہ طور پر کسٹم اہلکار اور نجی کمپنی کا اسٹاف شامل ہے۔

کلکٹر کسٹم ملتان عمران چوہدری نے تمام انکشافات کے حوالے سے رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کردی ہے، جب کہ اسمگلرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ٹریکر فراہم کروالی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے گئےہیں، اور ٹریکرز کی اسمگلرز کے پاس موجودگیکے بارے میں وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ جب کہ ایف بی آر نے مخصوص ٹریکرز اور کسٹم سیل سمگلنگ کیلئے استعمال ہونے پر تمام نظام کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے ٹریکرز اور کسٹم اسٹیکرز کے اجراءکو فول پروف بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔