جدلیات کے تین اصول

عمران شاہد بھنڈر  پير 10 فروری 2014
ibhinder@yahoo.co.uk

[email protected]

اگرچہ یونانی فلسفی تشکیل و ارتقا کے ان سائنسی اصولوں کو دریافت نہ کرسکے جو فطرت، سماج اور انسانی ذہن میں یکساں کارفرما ہوتے ہیں، تاہم اس کے باوجود جدلیات کابانی ہیراکلیٹس کائنات میں جاری حرکت وتبدیلی جب کہ ’تضاد‘ کو ان کی علت (Cause) کے طور پرتسلیم کرتے ہوئے جدلیاتی سائنس کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ جدید سائنس اس اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ ارتقا کے تصورکی بنیاد میں حرکت و تبدیلی کا ازلی و ابدی قانون پیوست ہے۔ حرکت و تبدیلی کے متضاد عمل کو ایک آفاقی اصول کے طور پر تسلیم کرنے کا مطلب جدلیات کے احاطے میں داخل ہونا ہے، لیکن جدلیات محض متضاد، حرکت اور تبدیلی پر ہی نہیں ٹھہرتی، بلکہ سماج کی تشکیل و ارتقا کے ان باطنی قوانین کو بھی دریافت کرتی ہے، جو سماج کی خود رو تشکیل کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تفہیم کے بعد سماجی حرکت کو متعین کرنے والی کسی خارجی علت (Cause) کی ضرورت نہیں رہتی۔

جدلیاتی سائنس کو تاریخ میں پہلی بار ایک جامع فلسفیانہ نظام کی شکل میں جرمن فلسفی جارج ہیگل نے پیش کیا۔ ہیگل ایک خیال پرست فلسفی تھا،تاہم اس نے جدلیات کے اہم ترین اصول دریافت کیے۔ یہی تین اصول بعد ازاں مارکسی مفکر فریڈرک اینگلز نے مستعار لیے اور انھیں مادی جدلیات کی تشکیل و توضیح کے لیے استعمال کیا۔ 1914 میں جب جنگ عظیم جاری تھی تو ولاد میرلینن،ہیگل کی ’’منطق کی سائنس‘‘ کے مطالعے میں مصروف تھا، تاکہ وہ سماج میں متضاد قوتوں میں مضمرلازمیت کا ادراک کرسکے کہ جو تبدیلی کی حرکت کو متعین کرتی ہیں۔لینن کا ہیگل کی جدلیات کی قرأت نے لینن کی جدوجہد کو درست خطوط میں استوار کرنے میں رہنمائی کی، جس کا نتیجہ 1917 کے روسی انقلاب کی شکل میں سامنے آیا۔ لینن کی ’’منطق کی سائنس‘‘ کو اس کی ’’فلسفیانہ بیاض‘‘ (والیم 38)کہا جاتا ہے، جس میں ہیگلیائی جدلیات کے تینوں اصولوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جدلیات کا پہلا اصول’’ مقدار کی معیار میں تبدیلی‘‘ ہے۔ فطرت ہو یا انسانی سماج، ان میں تبدیلی کا عمل ہمہ وقت جاری رہتا ہے، مگر یہ تبدیلی محض ایک شکل سے کسی دوسری شکل ہی میں تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ اس تبدیلی میں سماج کی تشکیل و ارتقا کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ سماج اور فطرت میں تبدیلی کا عمل تو ہمہ وقت جاری رہتا ہے، مگر جدلیات مقدار کی معیار میں تبدیلی کی وضاحت کرتی ہے۔

اگر مثال کے طور پرسرمایہ داری نظام پر غور کریں تو اس کے آغاز سے اب تک اس کی ہیئت میں بہت زیادہ تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔پیداواری طریقۂ کار میں تبدیلی کے علاوہ بنیاد (Base) یعنی معیشت اور بالائی ساخت (Superstructure) یعنی آئیڈیالوجی، مذہبی عقائد، ثقافتی اشکال اور سیاسی طریقۂ کار وغیرہ کے رشتوں کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے، مگر ابھی تک جو شے مستقل ہے اور جس کی وجہ سے موجودہ نظام کو سرمایہ داری نظام کہا جاتا ہے، وہ ہے اس نظام میں نجی ملکیت کا قائم رہنا۔ لہذا ہم سرمایہ داری نظام میں مقداری تبدیلیوں کا تو ذکرکرسکتے ہیں مگر اس معیاری تبدیلی کا واقع ہونا ابھی باقی ہے کہ جس سے سرمایہ داری نظام کے ان ملکیتی رشتوں کا انہدام ہو، جن پر یہ تمام تبدیلیوں کے باوجود قائم رہتا ہے ، تاکہ ایک مختلف نظام وجود میں آسکے۔ مختلف نظام کی تشکیل و ارتقا محض چند افراد کی باطنی خواہش کے تحت ممکن نہیں ہوتی، یہ سماج میں موجود متضاد قوتوں کی جدلیاتی پیکار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کا تعلق سماجی سطح پر طبقات کے درمیان تضادات کی گہرائی،ان کی نوعیت اور درست سمت میں برپا ہونے والی طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

جدلیات کا دوسرا اصول ’’نفی کی نفی‘‘ ہے۔ نفی (Negation) صرف ایک منطقی مقولہ (Logical Category) ہی نہیں جو خیال پرست فلسفی کی ذہنی اختراع تھا۔ یہ سماجی تشکیل و ارتقا کی لازمی شرط ہے۔ کارل مارکس کے الفاظ میں سماجی وجود کی موجود اشکال کی’ نفی‘ کے بغیرکسی بھی قسم کا ارتقا ممکن نہیں ہے ۔’نفی‘ کی حقیقی قوت کو 1789 کے فرانسیسی انقلاب کی صورت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، جس میں جدلیات کے دونوں اصول کارفرما نظر آتے ہیں یعنی جاگیرداری نظام کے تشکیل کردہ رشتوں کی نفی ہوئی، ان میں معیاری تبدیلی واقع ہوئی، گزشتہ پیداواری رشتوں کا انہدام عمل میں آیا اور ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ ان معنوں میں جدلیاتی نفی تشکیل وارتقا کے عمل کے دوران میں نئے اور پرانے نظام میں نہ صرف ربط بلکہ تسلسل کو بھی قائم رکھتی ہے۔جدلیاتی نفی کوئی ایسی حتمی علیحدگی یا فتق(Rupture) کو بروئے کار نہیں لاتی کہ جس کا پرانے نظام سے تعلق اور تسلسل ہی منقطع ہوجاتا ہے۔ مابعد جدید مفکروں نے حتمی علیحدگی کا تصور پیش کیا تھا کہ جس کے تحت نئی وجود میں آنے والی شے گزشتہ کے ساتھ ربط کا مکمل انکار کرتی ہے۔ژاک دریدا نے مابعد جدیدیت پرہیگل کی پیروی میں تنقید کی اور حتمی علیحدگی کے تصور کو غلط گردانا۔ ہیگل نے اس کے لیے رد و نمو(Sublate) کی اصطلاح استعمال کی ہے کہ جس کے تحت پرانی ساختوں میں مضمر تمام قدامت پسندانہ رجحانات کو مسترد کردیے جاتے ہیں، جب کہ ترقی پسندانہ عوامل کو محفوظ کرلیا جاتا ہے، تاکہ ارتقا کا سفر جاری و ساری رہے۔ سرمایہ داری نظام اور اس کا دفاع کرنے والے بورژوا فلسفوں میں ’نفی‘ کے تصور میں محض مقداری تبدیلیوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، مگر معیاری نفی کا انکار کردیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کو ایک حتمی نظام تسلیم کرنے کا مطلب جدلیات کے سائنسی اصولوں یعنی نفی کی نفی اور مقدار کی معیار میں تبدیلی سے انحراف کرنا ہے مگر تاریخ جدلیات کے اصولوں کا انکار نہیں ان کا اثبات کرتی ہے۔

جدلیات کا تیسرا مگر اہم ترین اصول ’’تخالفین کی وحدت اور جدوجہد‘‘ ہے۔ فطرت ہو یا سماجی تشکیل کا کوئی عمل ، وہ سماج میں متحرک قوتوں کے مابین ’تضاد‘ کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔بورژوا فلسفوں کی خامی یہ ہے کہ وہ ’تضاد‘ کو معروض (Object)  کے اندر نہیں بلکہ خارج میں اس کے ’تخالف‘ کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔ اس فلسفے کا بنیادی نقص یہ ہے کہ یہ حرکت اور تبدیلی کے لیے ایک خارجی علت (Cause)کا جواز تلاش کرتے ہوئے پُراسراریت کے لیے راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ آئزک نیوٹن نے کائنات میں جاری حرکت کے لیے ایک خارجی ہاتھ ضروری گردانا، مگر ہیگل نے نیوٹن کے ’’سائنسی نتائج‘‘ کو مسترد کردیا۔ جدلیات وضاحت کرتی ہے کہ حرکت یا تبدیلی، تضاد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور تضاد معروض سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ کوئی بھی معروض دیگر معروضات سے عدم ارتباط کے نتیجے میں تشکیل و ارتقا کے عمل سے نہیں گزر سکتا، مگر یہ تمام معروضات ایک دوسرے میں نفوذ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔جہاں ہر معروض کا ظاہر اس کا اثبات کراتا ہے تو وہاں اسی معروض کے جوہر تک پہنچنے کا عمل اس کی نفی کے پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوں کہ سرمایہ داری طریقۂ پیداوار میں دو متضاد طبقات کے وجود کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے،مگر یہ دونوں طبقات ایک ہی پیداواری طریقۂ کار میں موجود ہوتے ہیں۔

دونوں میں سے کسی ایک کا انہدام ہو تو دوسرا بھی اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دونوں ہی ایک دوسرے میں سرایت کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو ذرایع پیداوار کا مالک ہے اور دوسرا وہ جو اپنی محنت کی اجرت وصول کرتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد سرمایہ داری نظام کی شناخت کو برقرار رکھتا ہے ۔ان طبقات کے درمیان جدوجہد سماجی ارتقا کا باعث بنتی ہے۔ لینن کے الفاظ میں ’’ترقی تخالفین کی جدوجہد کا نام ہے۔‘‘ سرمایہ دار اور محنت کش ایک دوسرے کا متضاد ہیں، مگر تخالفین کی وحدت کے جدلیاتی اصول کی تفہیم اس بظاہر تضاد کو دیکھ کر نہیں ہوتی۔ ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ ہر معروض کے اندر ہی اس کی نفی کا تصور موجود ہوتا ہے، یعنی جب محنت کش طبقات اس جدوجہد میں فتح سے ہمکنار ہوتے ہیں تو سرمایہ داری نظام میں ایک معیاری جست لگتی ہے۔ محنت کشوں کی فتح سے نہ صرف مقتدر طبقات کی نفی ہوتی ہے بلکہ محنت کشوں کے اپنے اس وجود کی بھی نفی ہوتی ہے، جو فتح یعنی معیاری جست سے قبل موجود تھا۔ جدلیات یہ بتاتی ہے کہ تخالفین کی جدوجہد میں صرف ایک وجود (Being) کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اس وجود کے دونوں پہلوؤں یعنی اثبات اور نفی کی بھی نفی ہوتی ہے۔ نفی کا ہر عمل ایک متعین (Determinate) عمل ہوتا ہے، اور معروض چونکہ اثبات اور نفی کی وحدت ہوتا ہے، اس لیے ہر نفی اس وحدت کی نفی ہوتی ہے۔ پرولتاریہ انقلابی تبدیلی کے بعد پرولتاریہ نہیں رہتا، کیونکہ ملکیتی رشتوں کا انہدام اسے ایک مختلف شناخت دیتا ہے۔

مابعد الطبیعاتی فلسفے کے برعکس جدلیات میں تفکر کا عمل ’تضادات‘ کے بغیر طے نہیں ہوتا۔جدلیات میں تضادات کی نوعیت کی تفہیم سماجی عمل کی درست تحقیق کے لیے لازمی ہے، ورنہ ہم ہر وقت ’دانشوروں‘ کی پیشین گوئیاں پڑھتے رہتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سماجی و سیاسی عمل کا رخ موڑ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں اس قسم کے تبصرے سماج میں مضمر حقیقی قوانین سے متصادم ہوتے ہیں۔ جس سماج میں جتنے غیر تربیت یافتہ دانشور ہوتے ہیں، ان کی آرا سماجی عمل کی تفہیم کوگنجلک بنانے کے سوا اورکوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔