وزیر اعظم کا’’یار کر‘‘ ذکا بولڈ، سیٹھی کی باری آگئی

اسپورٹس رپورٹر  منگل 11 فروری 2014
ایڈہاک کمیٹیز بنتی رہیں تو کوئی بھی ہمارے ملک کو سنجیدگی سے نہیں لے گا (وسیم اکرم) عہدیداروں کاآنا جانا لگا رہا تواہم فیصلے نہیں ہو سکیں گے،رمیز  فوٹو:فائل

ایڈہاک کمیٹیز بنتی رہیں تو کوئی بھی ہمارے ملک کو سنجیدگی سے نہیں لے گا (وسیم اکرم) عہدیداروں کاآنا جانا لگا رہا تواہم فیصلے نہیں ہو سکیں گے،رمیز فوٹو:فائل

لاہور: وزیر اعظم نے ’’یارکر‘‘ سے ذکا اشرف کو کلین بولڈ کر دیا، یوں بطور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی باری آ گئی، سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے بورڈ میں بار بار اکھاڑ پچھاڑ کو پاکستان کرکٹ کیلیے نقصان دہ قرار دیدیا ہے، وسیم اکرم نے کہاکہ ایڈہاک کمیٹیز بنتی رہیں تو کوئی بھی ہمارے ملک کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔

رمیز راجہ کے مطابق عہدیداروں کا آنا جانا لگا رہا تو  اہم فیصلے نہیں ہو سکیں گے۔ مدثر نذر نے کہا کہ شائد ہی کوئی ملک اس حوالے سے اتنا بدنام  ہو۔ تفصیلات کے مطابق  چیف پیٹرن وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ روز ذکا اشرف کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے برطرف کر دیا، سابق کرکٹرز نے ملکی کرکٹ ڈھانچے میں عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سابق کپتان  وسیم اکرم نے کہا کہ ایڈہاک کمیٹیز بنتی رہیں تو کوئی بھی پاکستان کرکٹ کو سنجیدگی سے نہیں لے گا، گرین شرٹس ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن شپ میں فیورٹ ہیں، دونوں ایونٹس زیادہ دور نہیں جبکہ ہمارے کھلاڑیوں کو ابھی تک پتہ نہیں کہ ان کے منیجر اور کوچ کون ہوں گے، فیصلوں میں استحکام کیلیے جو بھی چیئرمین ہو اس کا تقرر 2 یا3 سال کیلیے کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ آئی سی سی نے کہا تھا کہ منتخب کرکٹ بورڈ تشکیل دیا جائے لیکن موجودہ صورتحال میں عالمی باڈی کے تحفظات اور خدشات ہی سامنے آئیں گے۔ پی سی بی کے ساتھ مزید کام کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ابھی تک موجودہ صورتحال کی قانونی حیثیت سے واقف نہیں ہوں، اس حوالے سے کوئی بات نہیں کر سکتا تاہم آئینی طور پر جو بھی باگ ڈور سنبھالے اسے دیکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کروں گا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان کے کھلاڑی ایسی صورتحال کے عادی ہیں۔

بورڈ میں اکھاڑ پچھاڑ کا ان کی کارکردگی پر زیادہ فرق نہیں پڑنا چاہیے، ہمارے دور میں بھی ایسی باتیں ہوتی رہتی تھیں، کرکٹرز کا کام کھیلنا ہے، انتظامی معاملات الگ چیز ہیں، ٹیم کی قیادت اور مینجمنٹ مضبوط ہو تو کارکردگی متاثر نہیں ہونی چاہیے، انھوں نے کہا کہ 1،2کھلاڑی زیادہ حساس طبیعت کے ہونے کی وجہ سے اس تشویش میں مبتلا ہوں گے کہ غیر یقینی صورتحال جلد ختم ہو تاہم گزشتہ چند میچز میں کامیابیوں کی بدولت ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہے، ٹیم  کا یہی جذبہ آئندہ ایونٹس میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سابق ٹیسٹ کرکٹرز چاہتے ہیں کہ بورڈ کے مسائل جلد از جلد حل ہوں، جلدکوئی آئے یا جائے تو اہم فیصلے نہیں ہوسکتے، ہوئے بھی تو کمزور ہوں گے، اسی صورتحال کی وجہ سے بگ تھری پر ہمارا موقف کمزور رہ گیا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ایڈہاک کمیٹیزکے تحت فیصلے بھی عبوری ہوتے اور ان کی بعد میں توثیق کرانا پڑتی ہے، بورڈ میں جتنی جلدی استحکام آ جائے پاکستان کرکٹ کیلیے بہتر ہو گا، اس مقصد کیلیے چیئرمین کی تقرری طویل عرصے کیلیے ہونی چاہیے،انھوں نے کہا کہ بگ تھری کے معاملے پر ہم درست موقف نہیں اپنا سکے،آئی سی سی کے بورڈ ممبرز نے دفتر میں بیٹھ کر فیصلے کرلیے تھے، پاکستان نے اننگز اچھی نہیں کھیلی، یہاں تک کہ ووٹ کا استعمال تک نہیں کیا، نئے چیئرمین کو مشورہ ہے کہ جہاں دنیا گئی آپ بھی وہاں جائیں، ملکی کرکٹ کا فائدہ دیکھیں، پیسہ لے کر آئیں،  بگ تھری کے ذریعے بھی ملے تو بُری بات نہیں۔  مدثر نذر نے کہا کہ کوئی ملک شائد اس حوالے سے اتنا زیادہ بدنام نہیں ہوا، آسٹریلوی کرکٹ چیف ویلی ایڈورڈز کی ذکا اشرف کے ساتھ اسی بات پر تو بحث ہوئی تھی کہ ہمارے بورڈ سربراہ اتنی جلدی تبدیل کر دیے جاتے ہیں، لوگ ہماری کرکٹ کیلیے کیا بُرا سوچیں گے ہم خود ہی اسی میں خرابیاں پیدا کرنے میں پیچھے نہیں رہتے، ہمارے کرکٹرز کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دورے سے واپس آئیں گے تو کون چیئرمین پی سی بی ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔