سانحۂ سیالکوٹ اور بھارت

عثمان دموہی  اتوار 19 دسمبر 2021
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان اور سری لنکا کے مثالی تعلقات ہمیشہ ہی بھارت کوکھٹکتے رہے ہیں۔ بھارت دراصل سری لنکا کو اپنی ہوس ملک گیری کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

اس نے سری لنکا کی آزادی کے بعد سے ہی اسے کمزور کرنے کے لیے اس کے لیے مختلف مسائل پیدا کیے اور پھر ہمدردی کرتے ہوئے انھیں خود ہی حل کرتا رہا جس کا مقصد اسے مرعوب کرکے اپنی طفیلی ریاست بنانا تھا اور بعد میں بھارت میں ضم کرنا تھا تاکہ بھارت کی سرحدیں کشمیر سے کولمبو تک دراز ہو سکیں اور وہ ایک مہان دیش بن سکے۔

بھارتی حکمرانوں کا اکھنڈ بھارت بنانے کا منصوبہ بہت پرانا ہے، وہ دراصل شمال میں متنازعہ جموں کشمیر سے لے کر سری لنکا تک اور مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں برما تک اپنی سرحدیں وسیع کرنا چاہتا ہے مگر یہ ان کا خواب ہمیشہ ہی خواب رہے گا۔

اس میں انھیں کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوگی اس لیے کہ بھارت کے تمام ہی پڑوسی بھارتی حکمرانوں کی بدنیتی اور توسیع پسندی کے رجحان سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں۔ وہ کشمیر پنجاب اور آسام کے علاقوں کو اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہوئے نہیں تھکتے مگر یہ علاقے بھی انھوں نے زبردستی بھارتی یونین میں شامل کیے ہیں ، وہاں کے عوام بھارت کے تسلط سے آزاد ہونے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

سری لنکا کو اگر برطانوی حکومت نے آزادی دیتے وقت اس کی سالمیت کو قائم رکھنے کی گارنٹی نہ دی ہوتی تو بھارت اسے اس کی آزادی کے بعد ہی ہڑپ کر جاتا ، تاہم وہ ابھی بھی اس پر قبضہ کرنے کے اپنے منصوبے سے باز نہیں آیا ہے۔ سری لنکا پر قبضہ کرنے کے منصوبے کے تحت چند سال قبل سری لنکا کے جنوبی علاقوں پر اس کے تربیت یافتہ تامل ٹائیگرز نے قبضہ کرلیا تھا۔ بھارت ان کی درپردہ مالی اور حربی مدد کر رہا تھا۔

تامل ٹائیگرز سری لنکا کے مقبوضہ علاقوں کو ایک نیا ملک بنانا چاہتے تھے مگر سری لنکا کی حکومت اور عوام کس طرح اپنے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتا دیکھ سکتے تھے چنانچہ وہ کئی برس تک تامل ٹائیگرز کو ملک سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے مگر جب تامل ٹائیگرز مزید علاقوں پر قابض ہونے لگے تو سری لنکا کی اس وقت کی حکومت نے اپنے قریبی دوست پاکستان سے مدد مانگی۔

پاکستان پہلے ہی بھارتی جارحیت کا شکار ہو چکا تھا۔ پاکستان کو دولخت کرنے کا ذمے دار بھارت ہے چنانچہ پاکستانی حکومت نے سری لنکا کو بھارتی جارحیت سے بچانے کے لیے اس کی بھرپور مدد کی۔ پاکستان نے نہ صرف اسے موثر ہتھیار پہنچائے بلکہ اس کی فوج کو بہترین ٹریننگ دی اور پھر پاکستان سے تربیت یافتہ سری لنکن فوج نے تامل ٹائیگرز کو شکست فاش دے کر جہنم رسید کردیا اور اپنی سرزمین کو قابضین سے بچا لیا۔ سری لنکا کے حکمران اور عوام پاکستان کے آج بھی اس احسان کے لیے شکر گزار ہیں اور پاکستان کو اپنا دوست ہی نہیں اپنا مخلص ہمدرد اور جان نثار سمجھتے ہیں۔

بھارتی حکمران پاک سری لنکا دوستی پر اب بھی سخت پریشان ہیں ساتھ ہی پاکستان دشمنی میں انتہا کو پہنچ چکے ہیں ان کا تو بس نہیں چلتا ورنہ پاکستان کو کبھی کا بھارت کا حصہ بنا چکے ہوتے۔ وہ پاک سری لنکا دوستی میں دراڑ ڈالنے کے لیے اکثر مداخلت کرتے رہتے ہیں وہ کسی طرح اس دوستی کو ختم کرانے کے درپے ہیں اس سلسلے میں وہ 2009 میں پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں سے حملہ کروا چکے ہیں مگر خوش قسمتی سے سری لنکا کی ٹیم اس حملے میں محفوظ رہی تھی۔ لگتا ہے بھارت اپنے جاسوسوں کو پاکستان میں داخل کر چکا ہے بلکہ اس نے کچھ مقامی لوگوں کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے۔

گزشتہ سال لاہور میں حافظ سعید کے گھر کے قریب ہونے والا کار بم دھماکا پاکستان میں موجود اس کے ایجنٹوں نے ہی کرایا تھا ، اس کے علاوہ بھارت بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخوا تک گاہے بہ گاہے اپنے ایجنٹوں سے حملے کراتا رہتا ہے۔ بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی تحریک بھی اسی کی مالی معاونت سے چل رہی ہے وہ دراصل کشمیریوں کی آزادی کی حمایت کرنے پر پاکستان سے یوں بدلہ لے رہا ہے۔ جہاں تک بلوچستان کا معاملہ ہے وہ لاکھ کوشش کرلے تو بھی بلوچ عوام اس کی سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور بلوچستان میں موجود بھارتی ایجنٹوں کا پاک فوج کی مدد سے صفایا کرکے دم لیں گے۔

گزشتہ دنوں سیالکوٹ کی ایک فیکٹری کے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے منیجر پریانتھا کمارا کو فیکٹری میں ہی کام کرنے والے ورکرز اورکچھ باہر کے لوگوں نے مل کر نہایت بے دردی سے قتل کردیا تھا اور اس کی لاش کو نذر آتش بھی کردیا تھا۔ اس سانحے نے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اس میں شک نہیں کہ پاکستانی مسلمان نبی آخر الزماںؐ کی ناموس کے لیے ہر وقت اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔

ناموس رسالت کے قانون کے تحت کسی بھی گستاخ رسول کو جرم ثابت ہونے پر عدالت سزائے موت دے سکتی ہے مگر پاکستان میں بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے اس قانون کی آڑ میں اپنے دشمنوں پر ناموس رسالت کی توہین کا الزام لگا کر انھیں خود ہی ٹھکانے لگانا شروع کردیا ہے۔ اب تک جتنے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں ان میں تہمت زدگان پر اکثر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔

سیالکوٹ کے واقعے نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ جن دو نوجوانوں نے اس سانحے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے انھیں کہیں بھارتی ایجنٹوں نے تو ترغیب نہیں دی تھی؟ ہو سکتا ہے انھوں نے لالچ میں آ کر یہ کام انجام دیا ہو۔

اس کیس کو اس زاویے سے بھی دیکھنا ضروری ہے کیونکہ جس فیکٹری میں یہ واقعہ رونما ہوا وہ اپنی بین الاقوامی شہرت اور اسپورٹس کے سامان کی ایکسپورٹ میں بھارت کو مات دینے کی وجہ سے اس کی نظر میں کھٹک رہی ہوگی وہ سری لنکن شہری کی پاکستان کی فیکٹری میں اپنی ماہرانہ خدمات انجام دینے پر بھی برہم ہوگا پھر وہ ناموس رسالت کے نام پر اس سری لنکن شہری کو ہلاک کرا کے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوگا پھر اس لیے بھی بھارت پر شک ہوتا ہے کہ اس کے میڈیا نے اس واقعے کا پروپیگنڈا کرنے میں انتہا کردی تھی۔ مزید یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کے لیے کبھی کچھ بھی کرسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔