وقت کم مقابلہ سخت؟…

امبر دانش  اتوار 19 دسمبر 2021

ہمارے ملک میں جمہوریت کا راج ہے، سندھ کے صوبائی ایوان میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کے اراکین اگر یہ سمجھیں کہ لو، اب ہماری بادشاہت قائم ہوگئی، تو یہ رویہ اور سوچ غلط ہے ، حقیقت میں جمہوریت اور بادشاہت ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔

ذرا سندھ حکومت کے پیش کردہ بلدیاتی ایکٹ 2021 کو ہی لے لیں، سندھ اسمبلی نے اپنی مرضی اور منشاء کے حساب سے بل میں ترامیم کرکے اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنا پر یہ بل پاس کروا لیا اور کراچی شہرکی منتخب کردہ سیاسی جماعتیں احتجاج کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکیں۔

البتہ اس احتجاج سے یہ بات عوام پرعیاں ضرور ہوگی کہ اگر یہ بل گورنر سندھ کی طرف سے تین بار مسترد کرنے پر بھی پاس ہوجاتا ہے تو کراچی میں بلدیاتی حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی آ جائے، کراچی سمیت سندھ پر حکمرانی پیپلز پارٹی کی ہی رہے گی ، لیکن یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سالہا سال سے صوبہ سندھ سے منتخب ہوتی آ رہی ہے اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری اور بلدیاتی حکومت ایکٹ 2013 کے بعد بھی اس صوبے خاص کر کراچی کو ٹرانسپورٹ کے نام پر ایک میگا پراجیکٹ نہ دے سکی، لیکن پھر بھی اپوزیشن میں بیٹھی تمام کراچی سے منتخب کردہ جماعتیں ان سے خوفزدہ ہیں؟

کیا اس خوف کی وجہ یہ ہے کہ کہیں تمام اختیارات اپنی تحویل میں لینے کے بعد پیپلز پارٹی کو اپنے فرائض انجام دینے کا واقعی خیال نہ آجائے اور یہ اس شہر میں واقعی ترقیاتی کام نہ کر ڈالیں؟ یا شاید ان تمام جماعتوں کے خوف کی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔

ایم کیو ایم جو 1988 سے اب تک کے آنے والے انتخابات میں مرکز کے ساتھ مل کر حکومت بناتی رہی، جس نے کراچی جیسے شہر کو فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال جیسے کامیاب ترین میئر دیے، خاص کر پرویز مشرف کے دور میں 2005 میں مصطفیٰ کمال کی کارکردگی بطور ناظم اور ایم کیو ایم کی کارکردگی بطور ٹیم قابل ستائش رہی، جس کا نتیجہ 2008 کے الیکشن میں ایم کیو ایم بڑی کامیابی تھی۔

اسی کارگردگی کی بنا پر 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں بھی ایم کیو ایم نے فتح حاصل کی ، لیکن2013 بلدیاتی ایکٹ کے بعد جب لوکل گورنمنٹ کے اختیارات کم کر دیے گئے، اور نہ ہی صدر جنرل (ر) مشرف کا دور رہا ، تو 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں منتخب ہونے والے میئرکراچی وسیم اختر کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے ، جس کا اثر 2018 کے الیکشن میں نظر آیا اور ایم کیو ایم مرکز میں پچھلے الیکشن کی سترہ نشستوں کے مقابلے فقط 6 نشستیں حاصل کر سکی۔

یہاں تک کہ ایم کیو ایم نے جو 2018 میں تحریک انصاف کے ساتھ وفاق میں شمولیت کے وقت MOU پر دستخط کیے تھے اس میں سے کسی ایک شق پر بھی وفاق سے عمل درآمد نہ کرواسکی۔2016 میں سابق میئر مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کے بانی کی مخالفت اور ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی نئی جماعت پی ایس پی بنانے کا اعلان کیا تو بحیثیت سابق ناظم ان کی پچھلی کارکردگی سامنے رکھتے ہوئے ایسا لگا کراچی کے مسائل اب واقعی حل ہو جائیں گے ، لیکن خلاف توقع پی ایس پی مرکز اور سندھ کی صوبائی اسمبلی میں ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔  جماعت اسلامی کا ذکر یہاں بہت ضروری ہے۔

کراچی کے پہلے ناظم عبدالستار افغانی بھی جماعت اسلامی سے تھے۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی دوسری بار ناظم منتخب ہونے کے بعد انھیں نے بنوایا جو کہ اب سندھ حکومت کے ماتحت ہے لیکن 1985 سے آہستہ آہستہ جماعت اسلامی کا ووٹر ایم کیو ایم اور 2018 جنرل الیکشن تک تحریک لبیک پاکستان کی طرف منتقل ہوتا چلا گیا۔اس بات کا اندازہ یوں لگا لیں کہ جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی میں صرف ایک جب کہ ٹی ایل پی کی دو نشستیں موجود ہیں۔

2018 سے حافظ نعیم صاحب کی سربراہی میں جماعت اسلامی کراچی میں ہونے والے ہر مسئلے پر آواز اٹھاتی نظر آئی جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کچھ حد تک اپنا کھویا ہوا ووٹ واپس لانے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن اگر نعروں اور دعوئوں کی سیاست سے مسائل کا حل نکل سکتا ہوتا تو مصطفیٰ کمال صاحب حال ہی میں بلدیہ ٹاؤن میں ہونے والے NA 249 کا ضمنی الیکشن نہ ہارتے۔

دیکھا جائے تو پچھلی تین دہائیوں سے جماعت اسلامی نے صرف سابق ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں کارکردگی دکھائی، جن کی بلدیاتی حکومت کو مشرف کی بھرپور پشت پناہی حاصل تھی۔مشرف دور گزرنے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد 2015 میں آنے والی بلدیاتی حکومت کی ناکامی کے بعد جو سیاسی خلاء قائم ہوا ، اسے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں نے بھرنے کی کوشش کی۔

تاہم 2018 میں تحریک انصاف نے ’’وزیراعظم کراچی سے‘‘ اور تبدیلی کے نعروں سے ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ، ٹی ایل پی کے مایوس ووٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہی اورکراچی والوں نے کھل کر اس جماعت کو امید کی واحد کرن سمجھ کر ووٹ دیا لیکن نہ ہی وزیر اعظم کراچی سے بن سکے اور نہ ہی شہرکراچی میں تبدیلی لا سکے، یہاں تک کہ 2016 مسلم لیگ ن کی حکومت میں وفاق کی جانب سے شروع ہونے والا واحد گرین لائن بس پراجیکٹ بھی عرصے دراز سے طوالت کا شکار رہا اور وزیر اعظم کے 1100 ارب کے ریلیف پیکیج کے وعدے بھی وفا نہ ہو سکے اور اس جماعت کے لیڈران اپنی ناکامی کا سہرا 18 ترمیم کو دیتے نظر آئے اور ایک بار پھر تحریک انصاف کی کراچی میں ناکامی کے بعد اس شہر میں سیاسی خلاء پیدا ہو چکا ہے۔

اگلے بلدیاتی الیکشن سال 2022 میں متوقع ہیں اور شہرکی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جو جماعت بلدیاتی حکومت میں ڈلیورکردے، جنرل الیکشن میں کراچی اسے بھولتا نہیں ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم جیسی جماعت جو 2016 کے بعد سے کراچی کی بلدیاتی حکومت اور 2018 سے مرکز کا حصہ رہتے ہوئے بھی کراچی شہر میں کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی، پی ایس پی جو اپنی سابقہ کارکردگی کی عوام کو دہائی دیتی رہی، جماعت اسلامی جسے کام کرنے کا موقع مشرف کے دور میں ملا یا پی ٹی آئی جو شہر میں تبدیلی نہ لا سکی، ان تمام جماعتوں کے پاس عوام کے لیے ایسی کیا نئی پیش کش ہے جو عوام انھیں اگلے بلدیاتی الیکشن میں ووٹ دے دیں گے؟ یا اگرکوئی آزاد امیدوار یا کوئی نیا سسٹم بھی الیکشن میں کودنے کی کوشش کرے تو ان کے پاس عوام کے لیے کیا نیا ہے؟

اس بار سوچنا یہ بھی ہے کہ اگر بلدیاتی ایکٹ 2021 نے واقعی مستقبل میں آنے والی بلدیاتی حکومت سے اختیارات لے لیے ہیں تو پھر الیکشن میں جیت کر ایک ناکام بلدیاتی حکومت بنانے کا نتیجہ 2023 کے جنرل الیکشن کراچی سے بری طرح ناکامی ہو سکتی ہے ، کیونکہ جس کسی کو بھی اس شہرکے لیے کام کرنا ہے اسے یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی سندھ سمیت کوئی صوبہ نہیں لانا چاہتا، لہٰذا اسی سسٹم کا حصہ رہتے ہوئے آپ کو اس شہر میں ڈلیورکرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔