لائیو اسٹاک غذائیت کا اہم ترین ذریعہ…

رفیع اللہ میاں  اتوار 19 دسمبر 2021

جب صحت اور غذائیت کی بات آتی ہے تو ایک بہت اہم اور حساس چیز ہم سے نظر انداز ہو جاتی ہے، یہ ہے صحیح آگاہی، درست معلومات۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا رسائی کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ غلط یا ناقص معلومات نے بھی ’’آگاہی‘‘ کی شکل اختیارکر لی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ فروخت کے لیے بھی کمپنیاں جھوٹ پر مبنی ایڈورٹائزنگ ترتیب دیتی ہیں، اور عوامی آگاہی کے عمل کو منفی طور پر متاثرکردیتی ہیں، دیکھا جائے تو یہ ایک واضح مجرمانہ فعل ہے۔

اس کی واضح اور بڑی مثال دودھ کی ہے،کمپنیوں کی جانب سے کھلے دودھ کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس کے بدلے وہ پروسیسڈ اور ڈبے کا دودھ پیش کرتی ہیں۔ شعورکا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں صحت اور غذائیت پر بہتر رائے کے لیے کسی کمپنی کے جھوٹے اشتہار پر بھروسا کرنا چاہیے یا ڈاکٹرز سمیت کسی اچھے ریسرچ پیپرکی طرف رجوع کرنی چاہیے۔ چناں چہ صورت حال یہ ہے کہ لوگوں کی ایک اکثریت میں صحت کے لیے ڈیری مصنوعات اور انڈوں کے فوائد سے متعلق ناکافی آگہی پائی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں اربوں لوگ روزانہ دودھ اور ڈیری مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے نہ صرف دودھ اور ڈیری مصنوعات غذائیت کا ایک اہم ذریعہ ہیں، بلکہ یہ ڈیری ویلیو چَین میں کسانوں ، پروسیسرز ، دکانداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرزکے لیے روزی روٹی کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں ، لیکن ان کو حاصل کرنے کے لیے صارفین، انڈسٹری اور حکومتوں کو تازہ ترین معلومات کی ضرورت ہے کہ دودھ اور دودھ کی مصنوعات انسانی غذائیت میں کس طرح حصہ ڈال سکتی ہیں، اور کس طرح ڈیری اور ڈیری صنعت کی ترقی خوراک کی حفاظت کو بڑھانے اور غربت کے خاتمے میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہے۔

حیرت اور افسوس تب زیادہ ہوتا ہے جب پاکستان جیسے زراعت پر انحصار کرنے والا ملک خوراک اور غذائیت کے مسائل میں گرفتار ہوتا ہے اور ایک بڑی آبادی مناسب غذا سے محروم نظر آتی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب انسانی جسم کو درکار غذائیت میسر نہیں آتی تو یہ رفتہ رفتہ خطرناک اور مہلک بیماریوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔

یقیناً ایسی کئی میڈیا اسٹوریز آپ کی نگاہوں سے گزری ہوں گی اورکچھ تنظیمیں ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ ڈیری شدید اور مہلک یعنی کرونک بیماریوں میں اضافہ کرتی ہے، جن میں موٹاپا، ٹائپ 2 ذیابیطس، امراض قلب (کارڈیو ویسکولر)، آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھربھرا پن اور سخت ہوجانا) اور کینسر شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو انھی وجوہ پر ڈیری کے فوائد کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹس ریسرچ بیسڈ نہیں ہوتیں بلکہ یہ تشہیری مواد کا حصہ ہوتی ہیں، دوم اس کے برعکس قابل اعتماد ذرایع اور اداروں کی جانب سے ریسرچ اسٹڈیز تواتر کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں باقاعدہ سائنسی طریقے سے ڈیری مصنوعات کی افادیت اور خدشات سے متعلق ثبوت حاصل کیے گئے ہوتے ہیں۔ ابھی جو تازہ ترین تحقیقی ثبوت ملا ہے (طبی جریدہ نیچر، 10 فروری 2016) وہ یہ ہے کہ دودھ پینے اور ڈیری مصنوعات کے استعمال سے بچپن کے موٹاپے کا خطرہ خاطر خواہ طور پر کم ہو جاتا ہے۔ جب کہ بڑوں میں ڈیری مصنوعات کے استعمال سے یہ دیکھا گیا کہ ان کی جسمانی ساخت بہتر ہوئی، ڈائٹ کے دوران ان کا وزن تو کم ہوا لیکن کمزوری نہیں آئی۔

اس کے علاوہ امراض سے متعلق تحقیقی نتائج بھی جھوٹی تشہیر کے برعکس تھے۔ تحقیقی مطالعے کے دوران دیکھا گیا کہ دودھ پینے اور ڈیری مصنوعات کھانے سے ٹائپ 2 ذیابیطس، امراض قلب، بالخصوص فالج کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہڈیوں کے معدنی ٹھوس پن پر بھی دودھ اور ڈیری پروڈکٹس کا مفید اثر دیکھا گیا، جب کہ ہڈیوں کے فریکچر سے اس کا کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔ مختلف قسم کے کینسر کے خطرے کی کمی سے بھی اس کا تعلق دیکھا گیا جن میں کولوریکٹل (بڑی آنت کا) کینسر، پیشاب کی تھیلی (بلیڈر) کا کینسر، معدے کا کینسر اور چھاتی کا کینسر شامل ہیں۔ جب کہ پینکریاز ، اووری اور پھیپھڑوں کے کینسر سے اس کا کوئی تعلق نہیں ملا۔

مختصر یہ کہ اس تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کا کسی بھی قسم کی شرح اموات سے کوئی تعلق پایا نہیں گیا۔ دستیاب سائنسی شواہد مجموعی طور پر اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کے استعمال سے وہ غذائیت پوری ہونے میں بھرپور مدد ملتی ہے جس کی غذائی ماہرین کی جانب سے سفارش کی گئی ہے اور بہت زیادہ عام اور شدید (کرونک) بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہیں، جب کہ ان کے بہت کم منفی اثرات رپورٹ ہوئے ہیں، اگر صرف گائے کے دودھ کی بات کی جائے تویہ تقریباً 87 فی صد پانی اور 13 فی صد ٹھوس اجزا پر مشتمل ہوتا ہے۔ دودھ کے چربی والے حصے میں چربی میں حل ہونے والے وٹامنز ہوتے ہیں۔

چربی کے علاوہ دیگر ٹھوس چیزوں میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، پانی میں حل ہونے والے وٹامنز اور معدنیات شامل ہیں۔ دودھ میں موجود یہ غذائی اجزا اسے تقریباً مکمل فطری غذا بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل ڈیری فوڈز ایسوسی ایشن کے مطابق دودھ سے بنی مصنوعات میں اعلیٰ معیار کے پروٹین ہوتے ہیں، دودھ کے صرف پانی والے حصے کے پروٹینز 18 فی صد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کیسین ایک قسم کا پروٹین ہے جو صرف دودھ میں پایا جاتا ہے، یہ تمام ضروری امینو ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ دودھ میں کل پروٹین کا 82 فی صد ہے اور اسے دیگرکھانے کی پروٹین کی جانچ کے لیے ایک معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پروٹین کا کام یہ ہے کہ جسم کے بافتوں کی تعمیر اور مرمت اور اینٹی باڈیز بنانے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی ہے، یہ اینٹی باڈیز پھر خون میں جا کر گردش کرتی ہیں اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتی ہیں۔ دودھ میں درج ذیل غذائی اجزا بھی ہوتے ہیں: کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم اور پوٹاشیم۔ دودھ میں پایا جانے والا کیلشیم جسم میں آسانی سے جذب ہو جاتا ہے، جب کہ فاسفورس ایک ایسی چیز ہے جو کیلشیم کے جذب ہونے اور جسم کے اندر اس کے استعمال ہونے میں کردار ادا کرتی ہے۔

ہڈی بنانے کے لیے کیلشیم کو مناسب مقدار میں فاسفورس کی ضرورت ہوتی ہے، اور دودھ ان دو معدنیات کو تقریباً اسی تناسب میں فراہم کرتا ہے جو ہڈی میں پایا جاتا ہے۔ دودھ رائبوفلیوِن (وٹامن B2) کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے جو صحت مند جلد اور آنکھوں کے ساتھ ساتھ وٹامن A اور D کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔ بالغوں میں کیلشیم کی کمی، دیگر عوامل کے ساتھ، ہڈیوں کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے ، جسے آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھربھرا پن) کہتے ہیں۔ ملک میں غذائیت کے حصول کو مزید بہتر بنانے کے لیے لائیو اسٹاک کے شعبے پر خاص توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔