میانمار فوج کے ہاتھوں 40 شہریوں کے قتل عام کا انکشاف

ویب ڈیسک  پير 20 دسمبر 2021
رپورٹ کے مطابق ین نامی ایک گاؤں میں ہوا جہاں میانمار کی فوج نے 14 افراد کو تشدد کے بعد قتل کیا—فائل فوٹو

رپورٹ کے مطابق ین نامی ایک گاؤں میں ہوا جہاں میانمار کی فوج نے 14 افراد کو تشدد کے بعد قتل کیا—فائل فوٹو

میانمار فوج کی جانب سے رواں برس جولائی میں 4 مختلف واقعات میں 40 سے زائد شہریوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ میں عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے کہا گیا کہ میانمار کی فوج نے عام شہریوں کو ایک جگہ جمع کیا اور مردوں کو خواتین سے الگ کرکے پہلے تشدد کیا اور اس کے بعد انہیں قتل کردیا۔

مزید پڑھیں:میانمار میں فوج نے مظاہرین پر ٹرک چڑھا دیا، متعدد زخمی

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کہ ہلاک کیے جانے والوں میں 17 سال کی عمر کے لڑکے بھی شامل تھے جنہیں قتل کرکے انہیں قبروں میں دفن کردیا گیا۔

رپورٹ میں جائے وقوع سے معتلق بتایا کہ حکومت مخالف تنظیم کا مرکز سمجھے جانے والے ضلع سگائینگ کے کانی ٹاؤن شپ میں 4 مختلف واقعات میں میانمار فوج نے شہریوں کا قتل عام کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ قتل عام ین نامی ایک گاؤں میں ہوا جہاں فوج نے 14 افراد کو تشدد کے بعد قتل کیا اور ان کی لاشیں جنگل میں پھینک دیں۔

مزیدپڑھیں: میانمار کی فوجی عدالت نے آنگ سان سوچی کو 4 سال قید کی سزا سنا دی

یہ سمجھا جارہا ہے کہ میانمار فوج کی جانب سے شہریوں کا قتل عام دراصل جمہوریت کی بحالی کے لیے متحارب گروپ کے حملوں کے جواب میں اجتماعی سزا ہے۔

خیال رہے کہ میانمار کی فوج نے رواں برس فروری میں نوبل انعام یافتہ حکمراں آنگ سان سوچی کی جمہوریت حکومت کا تختہ الٹ کر قبضہ کرلیا تھا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔