او آئی سی اجلاس اور افغانستان

ایڈیٹوریل  منگل 21 دسمبر 2021
یہ اجتماعی مدد کا ہاتھ بڑھانے کا وقت ہے، حمایت روکنے کا نہیں۔  فوٹو: فائل

یہ اجتماعی مدد کا ہاتھ بڑھانے کا وقت ہے، حمایت روکنے کا نہیں۔ فوٹو: فائل

افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی 17ویں اجلاس میں شریک رہنماؤں نے افغانستان میں کسی بھی انسانی المیہ اور بحران کو روکنے کے لیے بھرپورکوششیں کرنے اور عالمی برادری سے تعاون پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب نے افغانستان کے لیے ایک ارب ریال امداد کا اعلان کر دیا۔ او آئی سی نے افغانستان کی مدد کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے اور افغان تحفظ خوراک پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے افغان عوام کی مدد کے لیے 6نکاتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ مسلم امہ اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ افغان عوام کے لیے دو طرفہ یا او آئی سی کے ذریعے افغان نوجوانوں کی تعلیم، صحت، تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کرنا چاہیے۔

او آئی سی، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر مشتمل ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دیا جائے تاکہ افغان عوام کی جائز بینکاری نظام تک رسائی کو آسان بنانے اور افغان عوام کے لیکویڈیٹی چیلنجوں کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔ ہمیں افغان عوام کے غذائی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔

یہ اجتماعی مدد کا ہاتھ بڑھانے کا وقت ہے، حمایت روکنے کا نہیں۔ دنیا اپنی معاشی اور مقامی مجبوریوں سے بالاتر ہو کر سوچے۔ افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کے نتائج ہولناک ہونگے۔ انسانی امداد بغیر کسی شرط کے فراہم کی جائے۔ افغانستان میں معطل بینکنگ سسٹم فوری بحال کرنیکی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا او آئی سی کے رکن ممالک افغان عوام کو ضروری مدد فراہم کرنے اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔ سعودی عرب نے حال ہی میں افغان عوام کے لیے اشیائے خورونوش ہوائی جہاز سے پہنچائی ہیں۔ افغانستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔

عالمی ادارے بھی افغان عوام کی مدد کریں۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰحہ نے کہا سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں یہ اجلاس خوش آیند اور اسلام کے اتحاد اور یکجہتی کے عالمی پیغام کا عکاس ہے۔ امید ہے افغانستان میں تمام فریقین مل کر کام کرنے پر اتفاق کریں گے۔

عالمی برادری کہتی ہے افغانستان کبھی دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بنے اس کے لیے عالمی برادری کو افغانستان کی بھرپور حمایت کے ذریعے مین اسٹریم ممالک میں لانا ہو گا۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے او آئی سی ایشیا گروپ کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہا افغانستان کی60 فیصد آبادی بھوک کا شکار ہے، افغانستان کے مالیاتی بحران کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا آج وقت ہے یہ طے کریں کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے ہاتھ جائے گا یا وہاں کے عوم کو عزت ملے گی۔

او آئی سی افریقن گروپ کی طرف سے نائجیریا کے وزیر خارجہ یوسف محمد نے کہا افغان بہن بھائیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سلمان الجاسر نے کہا افغانستان کی76فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، ضروری ہے کہ افغانستان میں نوجوانوں اور خواتین کی مدد کی جائے۔

ہم افغانستان میں مقامی روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح خوراک اور تعلیم کے لیے امداد فراہم کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری برائے انسانی حقوق مائیکل گرفتھ نے کہا لاکھوں بچے افغانستان میں تعلیم، اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہیں۔ افغانستان میں بینکنگ کے نظام کو بحال کرنا ہو گا، اقوام متحدہ افغان مسئلہ پر او آئی سی کی کوششوں کا ساتھ دیگا۔ اقوام متحدہ آیندہ سال افغانستان کے حوالے سے4.5 ارب ڈالر امداد کی بڑی اپیل کریگا۔

او آئی سی اجلاس میں منظور ہونے والی متفقہ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں معاشی بدحالی مہاجرین کے بڑے پیمانے پر انخلا کا باعث بنے گی، انتہا پسندی، دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ ملے گا جس کے سنگین نتائج علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام پر پڑینگے، قرارداد میں تمام شعبوں میں خواتین کی بامعنی شرکت کی اہمیت، انسانی حقوق بشمول خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کے اڈے یا محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی برادری افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑے۔ افغانستان اقوام متحدہ اور او آئی سی کے منشور میں درج اصولوں اور مقاصد کی پاسداری کرے خاص طور پر خواتین، بچوں کے حقوق کا احترام کرے۔ بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنیوالے بڑے ممالک کو فوری اور پائیدار انسانی امداد فراہم کرے۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی کہ موجودہ ٹارگٹڈ پابندیاں افغانستان میں اداروں، اسکولوں اور اسپتالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انسانی امداد یا اقتصادی وسائل کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ افغانستان کو لیکویڈیٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، بینکنگ چینلز کھولے جائیں۔

اسلامی ترقیاتی بینک سے 2022 کی پہلی سہ ماہی تک ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست کی گئی، رکن ممالک، اسلامی مالیاتی اداروں، عطیہ دہندگان اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے امداد کا اعلان کریں۔

او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ کورونا وبا کے تناظر میں ویکسینز کے ساتھ ساتھ دیگر طبی سامان، افغانستان کے لوگوں کے لیے تکنیکی امداد اور صحت کے دیگر مستقل اور ابھرتے ہوئے خدشات کے تناظر میں تعاون کریگا۔ افغان تحفظ خوراک پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سیکیورٹی سے اپیل کی گئی ہے کہ جب ضروری ہو تنظیم خوراک کے ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے۔

افغان حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے کام جاری رکھیں اور ایک حکمت عملی تیار کرکے تمام افغانوں بشمول خواتین اور لڑکیوں کی افغان معاشرے کے تمام شعبوں میں شرکت کو تقویت دیں۔ اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی ہمدردی سفیر طارق علی بکیت کو او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ میں افغانستان کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اوآئی سی سیکریٹری جنرل کے ساتھ پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی نے کہا رکن ممالک جلد اس فنڈ میں عطیات دینا شروع کردینگے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غیر مستحکم اور افراتفری کا شکار افغانستان کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، یہ 4 کروڑ انسانوں کا مسئلہ ہے، افغان عوام اور طالبان کی حکومت کو الگ کرکے دیکھنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے یہ حقیقت طالبان کو درپیش سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کی ہے، بعض ماہرین اس انداز نظر کو طالبان کی نظر سے نہ دیکھیں، عمران خان کا کہنا یہ ہے کہ افغانستان اور طالبان کو دنیا اس خیال سے الگ کرکے دیکھے کہ دنیا ابھی تک افغانستان کو خطے کے پرانے، سخت گیر اور نظریاتی طور پر غیر تغیر شدہ ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

اسے ایک تبدیل شدہ افغانستان کو دیکھنے کی تمنا ہے، مغربی ممالک کو طالبان میں ایک داخلی تبدیلی کی آرزو ہے، وہ افغان خواتین اور نئی نسل کو خواندگی، آزادی اظہار اور فکری آزادی کی نئی تشکیلات کے ساتھ دیکھنے کی خواہاں ہے، اسے ایک جدید دنیا میں طالبان مخمل میں ٹاٹ کے پیوند کی طرح کا نہیں دیکھنا چاہتے، وہ اسی افغانستان کو امداد دینے کے لیے سوچیں گے جو وقت کے تقاضوں کے شانہ بہ شانہ چلنے پر تیار ہو، یہ یقین دہانی طالبان نے اپنی طرف سے دینی ہے، وقت آگیا ہے کہ طالبان دنیا کو کسی امتحان میں ڈالے بغیر دنیا کے تحفظات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

دنیا طالبان کی ہدایت پر اپنی ترجیحات اور طرز زندگی، معاشی معاملات اور ثقافتی طرز حیات میں شاید ہی کوئی تبدیلی لائے گی، تاہم اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ افغانستان کو ایک بے مثال ماسٹر پلان پیش کرتے ہوئے دنیا کو اپنی طرف لانا ہوگا، او آئی سی کا یہ اجتماع نشستند و گفتند و برخاستند جیسا نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ دنیا نے اقدامات نہ کیے تو داعش اور بدامنی پیدا کرنے والے عناصر مضبوط ہوں گے، اس سے مہاجرین کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا، یہ مہاجرین صرف پاکستان اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک کو بھی ان کا سامنا کرنا ہوگا، وزیراعظم کا کہنا تھا المیہ یہ ہے کہ 41 سال پہلے پاکستان میں افغانستان کے لیے ایک کانفرنس ہوئی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہر معاشرے میں انسانی اور خواتین حقوق کا تصور مختلف ہے، ہمیں اس حوالے سے حساسیت کا ادراک کرنا ہو گا، اگر ڈاکٹروں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کی جائیں تو کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمے داری بھی ہے، کشمیر اور فلسطین کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔