امریکی مسلمان خاتون رکن کانگریس کا نیا کارنامہ

مریم کنول  منگل 21 دسمبر 2021
اسلاموفوبیا کے خلاف بل کی منظوری یقیناً الہان عمر کی بڑی کام یابی ہے۔فوٹو : فائل

اسلاموفوبیا کے خلاف بل کی منظوری یقیناً الہان عمر کی بڑی کام یابی ہے۔فوٹو : فائل

امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) ڈیموکریٹ جماعت کی مسلمان رکن کانگریس 14 دسمبر کو اس وقت پھر خبروں کی زینت بن گئیں، جب ان کا اسلاموفوبیا کے خلاف بل نہ صرف منظور ہوا، بلکہ وائٹ ہائوس نے بھی اس بل کی حمایت کر دی۔

ماضی میں انھیں اپنے مسلمان ہونے کی بنا پر سخت رویوں اور تنقید کا سامناکرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان پر طنز کے نشتر برساتے تھے۔۔۔ اس بل پر بحث کے دوران بھی رپبلکن پارٹی کے رکنِ کانگریس اسکاٹ پیری نے غلط طور پر یہ دعویٰ کیا کہ الہان عمر کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ پھر ایسے الفاظ کانگریس کی کارروائی سے حذف کرنا پڑ گئے۔

الہان عمر کے اس بل پر بحث کے دوران ریپبلکن پارٹی کے رکن اسکاٹ پیری نے کہا تھا کہ امریکی عوام کا پیسہ ان دہشت گرد تنظیموں کو نہیں جانا چاہیے، جن سے اس بل کے معمار منسلک ہیں۔ تاہم کانگریس نے الہان عمر کا پیش کردہ یہ بل منظور کر لیا جس کے حق میں تمام ڈیموکریٹس اور مخالفت میں تمام رپبلکنز نے ووٹ دیا اور اسکاٹ پیری کے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے خارج کر دیا گیا۔

الہان عمر امریکی ایوان نمائندگان میں مشہور ’اسکواڈ گروپ‘ کی چار خواتین میں سے ایک ہیں۔ ان میں راشدہ طلیب اور الہان عمر کو اس وقت امریکی کانگریس کی پہلی مسلم خواتین رکن بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا، جب وہ 2018ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر کام یاب ہوئی تھیں۔

راشدہ طلیب میشی گن سے اور الہان عمر مینیسوٹا سے کام یاب ہوئی ہیں، جب کہ الیگزنڈریا اوکاسیو نیویارک سے اور ایانا پیریسلے میساچیوسٹس سے منتخب ہوئیں۔ ان چاروں میں سے تین امریکا میں پیدا ہوئی تھیں جب کہ الہان عمر کی پیدائش صومالیہ میں ہوئی، جس کے بعد کم عمری میں ہی ایک پناہ گزین کے طور پرامریکا چلی آئی تھیں۔ وہ کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام مسلم خاتون ہیں۔

امریکا منتقل ہونے سے قبل الہان عمر کو کینیا کے تارکین وطن کے کیمپ میں بھی رہنا پڑا تھا۔ امریکی کانگریس کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’یہ جیت اس آٹھ سالہ بچی کے لیے ہے جو تارکین وطن کے کیمپ میں تھی۔ یہ جیت اس لڑکی کے لیے ہے جسے زبردستی کم عمری میں شادی کرنی پڑی تھی۔ یہ جیت ہر اس شخص کے لیے ہے جسے خواب دیکھنے سے روکا گیا تھا۔

ان چاروں خواتین کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس کہا تھا ’’یہ خواتین دراصل ان ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور پر نا اہل اور تباہی کا شکار ہیں اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرپٹ ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ’’یہ خواتین بہت چالاکی سے امریکا کے عوام، جو کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقتور قوم ہیں، کو بتا رہی ہیں کہ ہمیں حکومت کو کیسے چلانا ہے۔‘‘

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’’یہ خواتین جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان مکمل طور پر تباہ حال اور جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کریں اور پھر واپس آکر ہمیں بتائیں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے۔

الہان عمر اور رشیدہ طلیب فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر یہودی مخالف ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ ان دونوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

مسلمان خاتون رکن الہان عمر کے اس بل کا نام ’بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ‘ ہے، جس کا مقصد ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے، جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے محکمۂ خارجہ کے علم میں لائے۔

اس نمائندے کی تعیناتی صدر کے ذریعے ہو گی اور واضح رہے کہ ایسا ہی ایک نمائندہ پہلے ہی امریکی محکمۂ خارجہ میں موجود ہے جس کا کام عالمی سطح پر یہود مخالف واقعات کو رپورٹ کرنا ہے۔ یہ بل گذشتہ کئی مہینوں سے ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کمیٹی میں موجود تھا مگر گذشتہ چند دنوں کے واقعات نے اس بل میں نئی روح پھونک دی ہے جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا ہے۔

نومبر کے اختتام میں رپبلکن نمائندہ لورین بوبرٹ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اْنھوں نے الہان عمر کو ’جہاد سکواڈ‘ کا حصہ کہتے ہوئے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اْن کا یہ کہنا تھا کہ وہ کانگریس کی ایک لفٹ میں الہان عمر کے قریب اس لیے محفوظ محسوس کر رہی تھیں، کیوں کہ الہان عمر اپنا بیگ زمین پر رکھ کر کہیں بھاگ نہیں رہی تھیں۔ اس کے کچھ دن بعد رپبلکن نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے الہان عمر کو ’جہادی‘ قرار دیا۔

چنانچہ گذشتہ دو ہفتوں کے واقعات کے تناظر میں اس بل کی منظوری کو اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ بعدازاں الہان عمر نے ٹوئٹر پر کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے اور ایک مضبوط اشارہ ہے کہ اسلاموفوبیا کو کہیں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ’نفرت کے خلاف کھڑے ہونے سے آپ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں، مگر ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ مضبوطی سے کھڑے رہیں۔‘ علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس نے بھی اس بل کی حمایت کی اور کہا کہ آزادی مذہب بنیادی انسانی حق ہے۔ چناں چہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن اس بل کی حمایت کریں گے، مگر اْن تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی اس بل کو سینیٹ سے منظور ہونا ہو گا جہاں سو نشستوں میں سے 50 رپبلکنز کے پاس، 48 ڈیموکریٹس کے پاس اور دو نشستیں آزاد اْمیدواروں کے پاس ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الہان عمر نے کہا کہ ’ہم مسلم مخالف تشدد میں بے انتہا اضافے میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسلاموفوبیا اپنی نوعیت میں عالمی معاملہ ہے اور ہمیں اس کے خلاف عالمی کوششیں کرنی ہوں گی۔‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔