بے قصور ہوتے ہوئے بھی ’قصور وار‘ کیوں۔۔۔؟

سارہ احمد  منگل 21 دسمبر 2021
ظالم بے خوف پھرتا ہے، اور مظلوم کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ فوٹو : فائل

ظالم بے خوف پھرتا ہے، اور مظلوم کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ فوٹو : فائل

ہمارے معاشرے میں خواتین کا معاملہ یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ کسی ظلم کا شکار ہوجائیں، تو مظلوم ہونے کے باوجود وہ ظالم سے زیادہ ڈر رہی ہوتی ہیں کہ اب ان کی ساری زندگی لوگوں کی عجیب وغریب باتیں سنتے ہوئے ہی گزرے گی۔

جب کہ ہمارے پس ماندہ سماج میں عورت کو کبھی خاندانی یا قبائلی غیرت کے نام پر ’کاری‘ قرار دیا جاتا ہے، تو کبھی دو گروہوں کے درمیان لڑائی کی آگ بجھانے کے لیے ’ونی‘ کے نام پر اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے عذاب میں جھونک دیا جاتا ہے۔۔۔ کبھی اس کا دامنِ عصمت تار تار کر کے دشمن یا مخالف کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب اسی ستم رسیدہ عورت کا معاشرے میں کیا مقام ہوتا ہے یا اسے معاشرہ کس انداز میں قبول کرتا ہے۔ اس کا اندازہ تو متاثرہ عورت کو ہی ہو سکتا ہے۔ یہ کیسی ستم رسیدہ ہوتی ہے کہ اسے زندگی پر موت پیاری لگنے لگتی ہے۔

کیا گھر اور خاندان اور کیا دوسرے لوگ۔۔۔ سب ہی اس سے روکھا اور بے گانہ رویہ روا رکھتے ہیں۔ اسے ہر دم محرومی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ صورت حال کسی بھی عورت کے لیے اس پر گزر جانے والے سانحے سے بھی بڑا ہوتا ہے۔۔۔ اس کی زندگی کی ہر سانس اس کے لیے سزا بن جاتی ہے۔

قبائلی روایات اور خاندانی عزت کے نام پر عورت کو درندگی اور ظلم کا نشانہ بنانے کے خلاف کئی صدائیں بلند ہوئیں، مگر زیادتی کا شکار خواتین کو حصول انصاف میں ہمیشہ مشکلات پیش آتی ہیں، کیوں کہ انہیں اپنی جنگ تن تنہا ہی لڑنا پڑتی ہے۔ پھر اکثر وہ بدنامی کے خوف سے وہ خود بھی ہمیشہ کے لیے گوشہ نشیں ہونے کو ترجیح دیتی ہیں۔

جو خواتین ہمت سے کام لیتی ہیں اور حصول انصاف کی جد وجہد کرتی ہیں، تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے یا عدالت میں جانے کے بہ جائے کوئی سمجھوتا کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ کبھی دھونس اور دھمکی سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی بعض خواتین پھر پیچھے ہٹ جاتی ہیں، لیکن جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر انصاف تک رسائی کی جدوجہد کرتی ہیں، وہ یقیناً قابل تقلید مثال ہیں۔

ایسی خواتین کو معاشرے میں اپنا اعتماد بحال کرنے اور اپنا مقام بنانے کے لیے گُھٹ گُھٹ کر جینے کے بہ جائے عزم و ہمت سے کام لینا چاہیے۔ ایسے ہی ظلم کا شکار مختاراں مائی نے بھی ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جد وجہد کا آغاز کیا۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف صدیوں سے جاری ظالمانہ رسوم کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کا کام کیا، بلکہ انہوں نے اپنے علاقے کی خواتین کو اس ظلم سے بچانے کے لیے بھی آواز بلند کی۔ اپنے علاقے میں تعلیم اور طب کے کاموں سے بھی منسلک ہیں۔

انہوں نے اپنے گاؤں میں خواتین کے لیے ایک امدادی مرکز بھی قائم کیا ہے۔ کینیڈا کی لیورنیٹن یونی ورسٹی نے تعلیم اور حقوق نسواں کی بے مثال جد وجہد کو سراہتے ہوئے مختاراں مائی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔ مختاراں مائی کی جدوجہد زیادتی کا شکار ہونے والی معصوم عورتوں اور بچیوں کے لیے قابل تقلید مثال بن چکی ہے۔

اس معاشرے میں زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کو جینے کے لیے اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔ معاشرے میں عدم تحفظ اور منفی رویے کا شکار بننے کے بہ جائے اپنا مقام حاصل کرنا ہوگا۔ یہ درست ہے کہ زیادتی کا شکار بننے والی خواتین معاشرے میں کوئی مقام نہیں رکھتیں۔ ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، جیسے اس سارے معاملے میں خود ان کا اپنا قصور ہو۔ اس ضمن میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔

لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم کا شکار ایک عورت کو برابر کا شہری سمجھیں۔ اور ایسا انصاف پسند معاشرہ تشکیل دیں کہ جہاں ہر فرد سے ہمارے رویے بھی انصاف پر مبنی ہوں۔ جہاں ہر شخص بالخصوص ہر عورت محفوظ ہو۔ معاشرے میں احساس تحفظ بہت بڑا سائبان ہوتا ہے، جو ہر عورت کا حق ہے، پھر اس معاملے میں متاثرہ عورت کا اعتماد بحال کرنے کے لیے لوگوں کا ساتھ بھی ضروری ہے، تاکہ اسے معاشرے کا ایک مکمل رکن بنا سکیں اور اسے انصاف دلا سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔