جولائی تا نومبر؛ 857 ملین ڈالرکے موبائل فون درآمد کیے گئے

عثمان حنیف  بدھ 22 دسمبر 2021
مقامی سطح پر زیادہ تر 2Gسیٹ تیار کیے جارہے ہیں، لگژری موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں
 فوٹو: فائل

مقامی سطح پر زیادہ تر 2Gسیٹ تیار کیے جارہے ہیں، لگژری موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں فوٹو: فائل

 کراچی: مقامی طور پر تیارکردہ موبائلز فونز کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کے باوجود موبائل فونز کی درآمد میں اضافہ جاری ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس ( پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق نومبر 2021ء میں 212 ملین ڈالر کے موبائل فونز درآمد کیے گئے جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں موبائل فونز کی درآمد پر مجموعی طور پر 857 ملین ڈالر خرچ کیے گئے۔

گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 5ماہ میں 724 ملین ڈالر کے موبائل فونز درآمد کیے گئے تھے۔ اسی طرح نومبر میں بھی موبائل فونز کی درآمد میں، ماہانہ بنیاد پر، 41.6 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس سلسلے میں ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے سائی گلوبل کے سی ای او نعمان احمد نے کہا کہ موبائل فونز کی درآمد میں اضافے کی کئی وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ تو صارفین یعنی استعمال کنندگان کی تعداد کا بڑھنا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ مقامی مینوفیکچررز اب بھی موبائل فونز کے پارٹس درآمد کررہے ہیں اور یہاں انھیں اسمبل کرکے فروخت کررہے ہیں۔

آئی سی ٹی ایکسپرٹ پرویز افتخار نے کہا کہ اس وقت 70 فیصد موبائل فونز کی درآمد سی بی یو سے SKD/CKD پر آگئی ہے، جب کہ سام سنگ اور Xiaomi کی پیداوار شروع ہونے کے بعد مزید 20فیصد درآمدات SKD/CK پر آجائیں گی۔ پاکستان میں مقامی مینوفیکچررز زیادہ تر ٹو جی فون تیار کرتے ہیں۔

دوسری جانب درآمدکردہ موبائل فونز میں بڑا حصہ مہنگے لگژری موبائل فونز کا ہوتا ہے جنھیں فلیگ شپ ماڈلز بھی کہا جاتا ہے۔ ان موبائل فونز کی قیمت ایک ہزار ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق جنوری تا اکتوبر 2021ء کے درمیان مقامی مینوفیکچررز نے 18.87 ملین موبائل فون سیٹ تیار کیے ۔ ان میں سے 7.93 ملین فور جی موبائل فون تھے، جب کہ اسی عرصے کے دوران 9.45 ملین فون درآمد کیے گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔