کارل مارکس

ناصر منصور  اتوار 26 دسمبر 2021
 ہائی گیٹ قبرستان کا سب سے مقبول باسی ۔ فوٹو : فائل

 ہائی گیٹ قبرستان کا سب سے مقبول باسی ۔ فوٹو : فائل

ہائی گیٹ لندن کے قبرستان میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد معلوم اور نامعلوم افراد مدفون ہیں لیکن اس قبرستان کا ایک مکیں ایسا بھی ہے جس کی قبر پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے ملتے ہیں۔ کارل مارکس جسے پیار سے مور بھی کہا جاتا تھا ہی وہ ہائی گیٹ کا سب سے مقبول مکیں ہے جس کی یادگار کے سامنے ہر روز سیکڑوں اور بعض موقعوں پر تو ہزاروں چاہنے والے گل ہائے عقیدت پیش کرنے حاضر ہوتے ہیں۔

علم و عمل کی دنیا کی اس عظیم ہستی کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں براعظم یورپ، شمالی و جنوبی امریکا، افریقہ اور ایشیا پیسفک سے تعلق رکھنے والے انقلابی شامل ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک لاکھ افراد اس قبرستان میں آسودۂ خاک یکتا انقلابی فلسفی کی یادگار کو وزٹ کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ کے کئی ایک نام ور کرداروں اس اساتیری حیثیت کے حامل ذہن سے اظہار محبت کے لیے اس کی آخری آرام گاہ پر وفا کا قرض چکانے آئے۔ ایک مہا انقلابی کو ایک اور عظیم انقلابی بھی انقلابی سلام کرنے پہنچا وہ لینن تھا جو 1903 میں لندن میں منعقدہ روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کی کانگریس کے اختتام پر دیگر روسی انقلابیوں کے ہم راہ مارکس کی قبر پر جمع ہونے والوں میں شامل تھا۔

مارکس کی یادگار پر عمومی طور پر پیرس کمیون کے دن، یکم مئی اور مارکس کے یوم پیدائش پر ہزاروں انقلابی آتے ہیں اور انسانی تاریخ کے عظیم فلسفی اور انقلابی کو یاد کرتے ہیں۔ عرصہ ہوا ہائی گیٹ قبرستان میں داخلہ کے لئے ساڑھے چار پاؤنڈ فی فرد فیس عائد کر دی گئی ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق تقریبا پانچ لاکھ پاؤنڈ سالانہ داخلہ فیس کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔ سرمایہ داری نے مارکس کی قبر سے بھی کمائی کا ذریعہ ڈھونڈ نکالا۔

مارکس کی ساتھی جینی وان ویسٹ فیلن کا انتقال 1881 میں اور مارکس کا انتقال 1883 میں ہوا۔ دونوں کی تدفین جس مقام پر ہوئی وہیں مارکس کا نواسہ ہیری لانگیوٹ اور ملازمہ ہیلینا ڈیمورتھ بھی مدفون ہیں۔ خاندان کی جانب سے ایک مشترکہ کتبہ نسب کیا ہے جس پر مدفون کے نام کندہ ہیں۔ مارکس کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس میں مارکس کے شایان شان خصوصی یادگار تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی، اسی سلسلے میں مارکس کے دوست اور جرمن ایس ڈی پی کے رہنما آگاسٹ بائبل نے ایک خط اینگلز کو یادگار کی تعمیر سے متعلق تحریر کیا، اینگلز نے جواباً لکھا کہ مارکس کی قبر پر لگا کتبہ مور کے خان دان کو عزیز تھا اس لیے طے ہوا کہ جب مارکس کو نئے نمایاں مقام پر منتقل کیا جائے گا تو اسی خاندانی کتبہ کو بھی نسب کیا جائے گا۔

قبرستان کے جس حصے میں مارکس کا اصل مقام مدفون تھا وہ نمایاں مقام نہیں تھا اس پر ایسا وقت بھی آیا کہ دہائیوں یہ جگہ عدم توجہ کا شکار رہنے کی بنا پر اگنے والی جھاڑیوں نے قبر کو آنے والوں کی نظر سے مکمل طور پر اوجھل کردیا تھا۔ لیکن 1923 میں برطانوی کمیونسٹ پارٹی اور ورکرز (کمیونسٹ) پارٹی آف یو ایس اے کی کوششوں سے قبر کی جانب توجہ مبذول ہوئی اور 1954 میں مارکس اور ان کے ساتھ دیگر مدفون افراد کو نئے اور نمایاں مقام پر دوبارہ منتقل کیا گیا اور 1956 میں یادگار کی تعمیر مکمل ہوئی۔

اس یادگار کو لارنس بریڈشا نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کی نقاب کشائی 1956 میں کمیونسٹ پارٹی آف گریٹ برطانیہ کے جنرل سکریٹری کامریڈ ہیری پولیٹ کی قیادت میں ایک تقریب میں کی گئی تھی، پارٹی نے یادگار کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے۔ یادگار سنگ مرمر کے پیڈسٹل پر رکھے کانسی کے بنے مارکس کے ایک بڑے مجسمے پر مشتمل ہے۔ جہاں خاندانی کتبہ کے ساتھ ہی شہرۂ آفاق تخلیق کمیونسٹ مینی فیسٹو کے آخری جملہ “ورکرز آف آل لینڈز یونائیٹ” کے علاوہ مارکس کے “تھیسس آن فیورباخ” میں تحریر قول “فلسفیوں نے مختلف طریقوں سے دنیا کی تشریح کی ہے اصل کام اسے بدلنا ہے” بھی کندہ ہے۔

مارکس کی یادگار کے اردگرد دنیا کئے ایک انقلابی بھی مدفون ہیں، جن میں جنوبی افریقہ کی کمیونسٹ پارٹی کے چیرمین ڈاکٹر محمد یوسف ڈوڈو، عراقی کمیونسٹ پارٹی کے سعد سعدی علی، کردش انقلابی نزہد احمد عزیز آغا، کرس ہارمن جیسے آدرش وادی شامل ہیں۔

ایک حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ مارکس کا قریب ترین مدفون پڑوسی ایک پاکستانی کرامت حسین (ستارہ قائداعظم ) ہے، یہ کون ہیں؟ اس بارے کچھ معلومات میسر نہیں۔

جہاں مارکس اور اس کے نظریات سے محبت کا اظہار 19 ویں صدی کے اختتام سے لے کر پوری 20 ویں صدی تک اور اب 21 ویں صدی میں بھی تسلسل سے جاری ہے، اس کی یادگار پر رکھے تازہ پھول اس کا ثبوت ہے، وہیں مارکس اور مارکس کے نظریات سے نفرت کرنے والے دائیں بازو کے انتہاپسند اور فاشسٹ گروہ مارکس کی یاد گار کو مسلسل حملوں کی زد میں رکھے ہوئے ہیں۔ کیا عجب اتفاق ہے کہ مارکس اور مارکس کے نظریات سے نفرت کے ضمن میں نسل پرست، فاشسٹ، دائیں بازو کے انتہاپسند، مذہبی انتہا پسند، سرمایہ پرست قوتیں اور لبرلز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

مارکس کی یادگار پر پہلا حملہ 1960 میں پائپ بم کے ذریعے کیا گیا۔ پھر 1970 میں یادگار کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں مجسمہ اور یادگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یادگار پر “ساوستکا” ( ہٹلر کا نشان) پینٹ کیا گیا، اس کے بعد نیا مجسمہ نصب کیا گیا۔ 2019 کے ماہ فروری میں دو مرتبہ یادگار کو دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے نقصان پہنچایا۔ کتبے پر کندہ عبارت کو ہتھوڑے سے توڑا گیا، یادگار پر ایک بار پھر نفرت انگیز نعرے تحریر کیے گئے۔

مجھے پچھلے دنوں لندن میں کچھ دن قیام کے دوران مارکس کی یادگار پر جانے کا موقع ملا۔ میرے ساتھ فیصل ایدھی بھی تھے۔ جب یادگار پر پہنچے تو دیکھا کہ تازہ پھولوں کا ایک بڑا گل دستہ ویتنام کے ایک ادارے کے کارکنوں کی جانب سے رکھا گیا تھا۔ ہم کافی دیر وہاں موجود رہے، کئی ایک کمیونسٹ راہ نماؤں کی قبروں پر بھی گئے۔ اسی دوران ایک نوجوان کیوبن جوڑا اپنے دو بچوں کے ہمراہ پھول لیے پہنچا تھا اور دیر تک سر جھکائے احتراماً خاموش کھڑے نظر آئے۔ میں نے وہاں مختلف بودوباش اور نسلوں کے درجنوں وفود کو یادگار پر آتے اور محبوب انقلابی فلسفی کو خراج تحسین پیش کرتے دیکھا۔

مارکس اور مارکس کا نظری ورثہ آج بھی سرمایہ کے جبر کے خلاف انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔