کام سے اخلاص، کام کی عظمت

عبد الحمید  جمعـء 24 دسمبر 2021
gfhlb169@gmail.com

[email protected]

چند دن پہلے کچھ خواتین اسکول ٹیچرز سے ایک عزیزہ کے طفیل تفصیلی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں خواتین اسکول ٹیچرز کو اپنے فرض کی ادائیگی میں حائل رکاوٹوں سے آگہی ہوئی۔

اس وقت ان مسائل و مشکلات کا تذکرہ مقصود نہیں البتہ ایک بات جو سبھی خواتین ٹیچرز نے کہی وہ یہ کہ اگر ان کی تعیناتی ان کے گھر وں سے اتنی دور ہو کہ بعد دوپہر اسکول سے فارغ ہو کر گھر واپس نہ پہنچ سکیں تو ایک اکیلی خاتون کے لیے ہمارے معاشرے میں مکان کرائے پر لینا،بچوں سے دوری اور ان کی نگہداشت نہ کر سکنا اور ساتھ ہی اپنے گھر پر توجہ نہ دے سکنا اکثر اوقات بہت تکلیف دہ بن جاتا ہے۔

ایک خاتون ٹیچر کے لیے دوسرے شہر۔ قصبے یا گاؤں میں رہائش اختیار کرنا اور اپنی عزت کو بچا کر رکھنا واقعی بہت مشکل امر ہے۔ بہر حال خواتین ٹیچرز کے اس گروپ سے ملاقات میں ان کے مسائل کے علاوہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس حکومت میں اپنے لیے سہولت محسوس کرتی تھیں،خوش تھیں اور اس پسندیدگی کی وجہ کیا ہے۔

اس گروپ میں کوئی درجن بھر خواتین ٹیچرز تھیں۔ ایک دو کو چھوڑ کر باقی تمام ٹیچرز نے کہا کہ وہ پی پی پی کی حکومت کے دور کو بہتر سمجھتی ہیں۔ اس دور میں ان کی تنخواہ بھی بڑھی اور سہولتیں بھی زیادہ تھیں۔ جب ان سے یہ معلوم کیا گیا کہ وہ کون سی سہولتیں تھیں جو ان کی پسندیدگی کی وجہ بنیں تو انھوں نے بتایا کہ پی پی پی دور میں انھیں بہت آزادی حاصل رہی ہے مثلاً یہ کہ اسکول دیر سے پہنچنے پر کوئی باز پُرس نہیں ہوتی تھی اس لیے دیر سے پہنچنا کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔

بغیر پیشگی اطلاع اور اجازت چھٹی کی جا سکتی تھی۔ مزید یہ کہ اسکول کے اوقات ختم ہونے سے پہلے چلے جانا معمول کی بات تھی۔ اسکول معائنے شاذو نادر ہی ہوتے تھے اور انتظامیہ کے سرپرائز دورے یا تو ہوتے ہی نہیں تھے اور اگر کوئی دورے پر آ بھی جاتا تھا تو غیر حاضر ٹیچرز کو کوئی نقصان نہیں ہوتا تھا۔ یہ سوال کرنے پر کہ پنجاب میں کس حکومت کے دور کو وہ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہیں تو فوراً شہباز شریف کے دور کو بہت تنقید سے پیش کیا گیا۔ خواتین ٹیچرز کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کی وزارتِ اعلیٰ میں ہر وقت چوکس رہنا پڑتا تھا، اسکول دیر سے پہنچنے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا۔

اسکول سے رخصت لینے کے لیے باقاعدہ درخواست کی منظوری ضروری تھی۔ چھٹی کی درخواست کی منظوری ضروری نہیں سمجھی جا سکتی تھی۔ آئے دن انتظامیہ کی طرف سے اوقات کی پابندی اور بہتر نتائج کے حصول کے لیے سر کلر جاری ہوتے رہتے تھے۔ سرپرائز وزٹ بھی بہت ہوتے تھے اور اگر کوئی ٹیچر اسکول سے بغیر پیشگی اجازت غائب ہوتی تھی تو اس کی سروس ختم ہونے کا خطرہ ہوتا تھا۔ خواتین ٹیچرز کی نظر میں یہ ایک انتہائی پریشان کن صورتحال تھی۔ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ دور دوبارہ لوٹ کر آئے۔ شاکی خواتین میں سے کسی ایک نے بھی اس بات کو نہیں سراہا کہ یہ اقدامات تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مددگار تھے۔ خواتین ٹیچرز یہ چاہتی تھیں کہ ان کا کوئی مواخذہ کرنے والا نہ ہو۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بے گناہ سری لنکن منیجر کی ہلاکت اور اس کی لاش جلائے جانے کا دلخراش واقعہ رونما ہو چکا ہے جو ہم پاکستانی مسلمانوں کے قومی ماتھے پر ایک بد نما داغ لگا گیا ہے۔ اس واقعہ کی تہہ میں جو محرکات تھے اُن میں ایک تو کم و بیش وہی تھا جو یہ خواتین ٹیچرز پیش کر رہی تھیں یعنی اپنے فرض سے غفلت،کوتاہی،تن آسانی اور ملک کے مستقبل سے کھیلنا۔ سیالکوٹ واقعے میں تقریباً ہر ایک نے یہ بات کی کہ غیر ملکی مینیجر اپنے کام اور فرض کی ادائیگی سے بہت مخلص تھا۔

وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے کارکنوں اور عملے کو کام پر ابھارتا رہتا تھا۔ ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے ہمہ تن کوشاں رہتا تھا اور کام نہ کرنے والوں سے بے جا نرمی کا قائل نہیں تھا۔آپ ہمارے پیارے وطن کے طول و عرض میں سرکاری دفاتر کا جائزہ لے لیں۔ہر دفتر دو چار ایسے آفیشل کے سر پر چل رہا ہوتاہے،کام کرنا جن کی عادتِ ثانیہ ہوتی ہے۔ جب تک جاب نہیں ملتی ہم بڑے پھرتیلے ہوتے ہیں۔ سفارشیں کروا کے، رشوتیں دے کر، منتیں کر کے، بڑوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر جاب لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جاب ملتے ہی ہمارے طور طریقے بدل جاتے ہیں۔

پرائیویٹ اداروں میں صورتحال کچھ بہتر ہے لیکن قومی سطح پر ہمارا مزاج کام اور محنت کو پسند نہیں کرتا۔ جو کوئی کام لینے کی کوشش کرے اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور جو نہ خود کام کرے اور نہ ہی کسی کو پوچھے اسے بہت مقبولیت ملتی ہے، بہت سراہا جاتا ہے بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بہت خاندانی آدمی ہے۔

سری لنکن منیجر اس لحاظ سے خاندانی آدمی نہیں تھا۔ فیکٹری کے پاکستانی مسلمان ورکروں نے اپنی جاب سے انصاف کرنے والے، غیر مسلم مہمان کو اپنی راہ سے ہٹانے کے لیے دینِ اسلام کی غلط توجیح کی اور نعرے لگاتے ہوئے نہ صرف اس کی جان لے لی بلکہ میت کو بھی جلا ڈالا۔میت کو آگ دکھانے والے اس رسول کے پیرو کار ہونے کے دعوے دار تھے جس کو رب العزت نے قرآن میں رحمت العالمینﷺ کہہ کر متعارف کرایا۔

وہ پیارا رسول جو طائف کی گلیوں میں لہو لہان،پتھر مارنے والوں کے لیے نیک خواہشات رکھ رہا تھا۔جو پتھر مانے والوں کو گستاخِ رسول نہیں بلکہ ناسمجھ جان کر اُن کے ایمان لانے کی امید رکھتا تھا۔ جو ابوجہل اور امیہ بن خلف کی اذیتوں کو ہنس کر سہہ جاتا تھا۔ جو عبداﷲ بن اُبی کی حرکتوں پر خاموشی اختیار کرتا تھا۔ کیا ہم اسی رسول کے اسوہ ء حسنہ کے پیرو کار ہیں۔

حسنِ معاملہ،حسنِ اخلاق ہی محبت کا دوسرا نام ہے اور محبت فاتحِ عالم ہوتی ہے۔ وہ دین جو اﷲ کی کتاب میں ہدایت دے کہ دین میں کوئی جبر و کراہ نہیں،جو یہ ارشاد فرما رہا ہو کہ تمھارے لیے تمھارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین،اس عظیم دین کے پیروکار ایک مخلص،محنتی اور فرض شناس انجینئر کو رحمتِ دوعالم کا نام لے کر صرف اس لیے مار دیں، جلا دیں کہ وہ نہ خود کام چور تھا اور نہ ہی کام چوری کی حوصلہ افزائی کرتا تھا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہم کام کرنا نہیں چاہتے،کام نکالنا چاہتے ہیں۔ہم کام کی عظمت کے انکاری ہیں۔

خواتین ٹیچرز کے ساتھ گفتگو سے بھی یہی تاثر ملا کہ وہ اپنے فرض کی ادائیگی سے نہیں بلکہ آزادی اور سہولتوں سے دلچسپی رکھتی ہیں۔ اساتذہ نے ہی قوم کی تعمیر کرنی ہوتی ہے۔ اساتذہ قوم کے کردار کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے اس اہم رول کا ادراک کر کے فرض نبھائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہو گا۔اﷲ کرے ہمارے مہمارانِ قوم خود کو اس خوبصورت کردار میں ڈھال لیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔