او آئی سی سے افغانستان تک

ایم جے گوہر  جمعـء 24 دسمبر 2021
فوٹوفائل

فوٹوفائل

مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس نے 21 اگست 1949 کو آگ لگا دی تھی اور مسلمانوں کا قبلہ اول تقریباً 3 گھنٹے تک آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں رہا۔

مسجد کا جنوب مشرقی جانب عین قبلے کی طرف کا ایک بڑا حصہ آگ کے نتیجے میں گر پڑا۔ محراب میں موجود وہ منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی فتح کے بعد وہاں نصب کیا تھا۔ یہ تاریخ کا وہ المناک حادثہ تھا جس نے پوری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو دلی صدمہ پہنچایا۔ قبلہ اول کو نذر آتش کرنے کا دل خراش واقعہ عالم اسلام کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مسلمانوں کے اتحاد، یکجہتی، محفوظ مستقبل اور مقدس مقامات کی حفاظت کے حوالے سے غور و فکر کا سامان بن گیا۔

اسی تکلیف دہ واقعے کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی خاطر دنیا کے 50 سے زائد مسلم ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کا قیام عمل میں آیا جس کا پہلا اجلاس مراکش کے شاہ حسن ثانی کی سربراہی میں رباط میں منعقد ہوا۔ مذکورہ اجلاس کے بعد عالم اسلام کے مسلمانوں کو یہ امید ہو چلی کہ قبلہ اول کے سانحے کے نتیجے میں آج جس طرح دنیا بھر کے مسلمان ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم پر متحد و منظم ہوئے ہیں تو مستقبل میں دنیائے اسلام مغربی سامراج اور اس کی باقیات سے جلد آزادی حاصل کرلے گا۔ مسئلہ کشمیر اور تنازعہ فلسطین کا قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے گا۔

فروری 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا دوسرا اہم اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس کا سہرا اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کاوشوں کے سر جاتا ہے اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل کی سرپرستی اور مالی معاونت بھی اجلاس کے انعقاد کی بڑی وجہ تھی۔ دوسرے سربراہی اجلاس کے مذکورہ دونوں اہم کردار یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل مغرب کی آنکھ کا کانٹا بن گئے۔

اسلام مخالف قوتیں خوف زدہ ہوگئیں کہ اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسلمان ملکوں میں تعاون، اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوگئی تو اسلام مغرب دنیا کے لیے بڑا خطرہ بن جائے گا۔ خفیہ سازشوں کے ذریعے بھٹو کو تختہ دار تک جب کہ شاہ فیصل کو ان کے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں راستے سے ہٹا دیا گیا،اسلامی دنیا کی یہ دونوں توانا آوازیں خاموش ہوگئیں اور پھر 1967 میں امریکا اور مغرب کی سرپرستی میں عرب اسرائیل جنگ سے نہ صرف یہ کہ عرب ملکوں کے اتحاد کا خواب چکنا چور ہو گیا بلکہ مسلم دشمن قوتوں کے حوصلے بھی بلند ہوگئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے بڑے فخریہ انداز میں یہ پیش گوئی کی کہ اب عرب کبھی بھی متحد ہوکر ہمارے لیے خطرہ نہیں بنیں گے، مگر ایک اسلامی ملک ہمارے لیے چیلنج ہے اور وہ ہے پاکستان۔ ڈیوڈ بن گوریان کی اس پیش گوئی کے محض تین سال بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا آغاز ہوگیا۔ یہ جنگ او آئی سی کے مسلم ممالک کے لیے امتحان تھی لیکن وہ اس آزمائش میں پورا نہ اتر سکے۔ آج مسلم دنیا کے 57 ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک آواز ہو کر اپنے مسائل حل کرنے میں کلیتاً کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اپنے اپنے مفادات کے اسیر مسلم ممالک اسلام دشمن قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونے سے گریزاں ہیں۔ کشمیر سے لے کر فلسطین تک اور عراق سے لے کر افغانستان تک مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، لیکن او آئی سی کے پاس سربراہی اجلاس سے لے کر وزرائے خارجہ و دیگر سطح تک کے اجلاسوں میں منظور کی گئی قراردادوں کا نتیجہ محض نشستند، گفتند اور برخاستند سے آگے کچھ نہیں ہے۔

مکہ مکرمہ میں شاہ سلمان نے چودھویں اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب کے دوران مسلم ممالک میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک اپنے اختلافات بھلا کر باہمی تعاون اور اتحاد کا مظاہرہ کریں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان پہلی مرتبہ مذکورہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک ہوئے انھوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ مسلم دنیا کو اس وقت پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کا سامنا ہے۔ مغرب میں اسلام کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفر کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ وہاں جاری سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ہمارے پیارے نبیؐ کی شان میں گستاخی پر مسلم امہ اور او آئی سی کے ردعمل کا فقدان محسوس ہوا، یہ او آئی سی کی ناکامی ہے کہ ہم دیگر ممالک پر یہ واضح نہیں کرسکے کہ ہم اپنے نبیؐ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے فورمز پر انھیں بتانا ہوگا کہ وہ آزادی اظہار رائے کے نام پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔

انھوں نے بجا طور پر کہا کہ بحیثیت ایک تنظیم او آئی سی کو مسلم دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے جبر کی مخالفت کرنی چاہیے۔ لیکن سوال وہی ہے کہ اپنے قیام سے آج تک او آئی سی نے اسلامی ملکوں کے ساتھ مغربی دنیا کے ناروا سلوک پر کیا کردار ادا کیا؟ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کا لہو کیوں بہہ رہا ہے؟ عراق اور افغانستان پر امریکی یلغار کے خلاف او آئی سی نے کیا اقدامات اٹھائے؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا او آئی سی کے پاس کوئی واضح جواب نہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے دو بیرونی قوتوں امریکا اور روس نے کشت و خون اور آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔

دو بڑی طاقتیں وہاں سے ناکام و نامراد لوٹیں لیکن اپنے پیچھے ایسا بدحال افغانستان چھوڑ کر گئیں کہ وہاں آج غربت، بھوک، افلاس، قحط اور امکانی انسانی المیہ جنم لینے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں جس سے لامحالہ منفی اثرات دہشت گردی کا عفریت پھر سر اٹھا سکتا ہے اور پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اس سے بری طرح متاثر ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تواتر کے ساتھ عالمی برادری سے یہ اپیل کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان کے گمبھیر مسئلے کی جانب سنجیدہ توجہ مرکوز کریں۔

افغانستان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں، اس موقع پر افغانستان کو تنہا چھوڑنے کا مطلب اسے غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہوگا۔ او آئی سی کے سربراہ سعودی عرب کی تجویز اور عمران خان کی کاوشوں سے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اقوام متحدہ، امریکا، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور یورپی یونین کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ دنیا طالبان اور افغان عوام کو الگ کرکے دیکھے، اجلاس میں کئی قراردادیں منظور کی گئیں اور اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں تمام شریک ممالک نے افغانستان کی مدد کرنے پر اتفاق کا اظہار کیا اور ایک اسلامی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ او آئی سی کے تازہ اقدامات افغان عوام اور امکانی خدشات و خطرات کے حوالے سے کس قدر موثر ثابت ہوں گے یہ آنے والے وقت بتائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔