بنگلہ دیش

زبیر رحمٰن  جمعـء 24 دسمبر 2021
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

بنگلہ دیش بننے کا عمل اچانک روبہ عمل میں نہیں آیا۔ برسوں سے اس کا لاوا اندر سے پک رہا تھا، ہاں مگر 16 دسمبر 1971 کو انڈین جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے گئے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ پاکستان بننے کے چند برس بعد مشرقی پاکستان میں عام انتخابات ہوئے جس میں ’’جگتو فرنٹ‘‘ یعنی متحدہ محاذ نے کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ کو صرف 19 نشستیں حاصل ہوئیں۔ ساری کی ساری نشستیں ’’جگتو فرنٹ‘‘ نے حاصل کیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان نے 26 نشستیں حاصل کیں۔

چار نشستیں کمیونسٹ پارٹی نے براہ راست حاصل کیں باقی نشستوں پر دیگر جماعتوں میں کام کرنے والے کمیونسٹ کارکن تھے۔ ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والے چار کمیونسٹ امیدواروں نے مسلم اکثریتی علاقوں سے نشستیں حاصل کیں۔ سلہٹ جوکہ جماعت اسلامی کا گڑھ کہلاتا تھا وہاں جماعت کے امیدوار کو کمیونسٹ پارٹی کے ہندو اقلیت کے امیدوار نے شکست دی تھی۔ بعدازاں جگتو فرنٹ کی حکومت تشکیل پا گئی۔

جن میں کل 308 نشستیں تھیں مگر کچھ عرصے بعد ہی اس حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج قائم کردیا گیا، جب کہ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے ساتھ جن ٹریڈ یونین میں کمیونسٹ کام کرتے تھے ان پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ حکمرانوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہاں کی قومی زبان ’’اردو‘‘ ہوگی۔ اس پر عوام نے خاص کر طلبا نے 1952 میں تحریک چلائی۔ اس تحریک میں سلام، موتیا، برکت سمیت چار طلبا رہنما شہید ہوگئے۔

اس وقت نورالامین مشرقی پاکستان کے گورنر تھے۔ آج ڈھاکا میڈیکل کالج کے پاس شہیدمینار قائم ہے۔ کوئی بھی غیر ملکی مہمان یا حکمران ڈھاکا جاتا ہے تو شہید مینار پر ضرور پھولوں کی چادر چڑھاتا ہے۔ 1954 میں پاکستان کی حکومت نے بنگلہ زبان کو بھی اردو کے ساتھ ساتھ قومی زبان کے طور پر تسلیم کرلیا۔ مشرقی پاکستان کی 55 فیصد آبادی بنگلہ زبان بولتی، پڑھتی اور لکھتی تھی، آج وہ 17 کروڑ ہوگئی ہے، اگر ہمارے حکمرانوں کو ذرا سی سوجھ بوجھ ہوتی تو شروع میں ہی بنگلہ زبان کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر تسلیم کرلیتے تو یہ نوبت نہ آتی۔

ہرچند کہ بنگالی 55 فیصد تھے مگر ہر شعبہ ہائے مملکت میں گنتی کے افراد تھے۔ مہنگی ہوتی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں 375 چائے کے باغات کے منیجروں میں سے صرف 3 منیجرز بنگالی تھے۔ ان ناانصافیوں اور غیر قانونی عوامل سے مشرقی پاکستان کے عوام اکتا گئے تھے۔ ادھر انھیں غلطیوں کے مد نظر عوامی لیگ نے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو اپنے گرد جمع کرلیا۔

جب عام انتخابات ہوئے تو مشرقی پاکستان کی 160 قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے 158 نشستیں عوامی لیگ نے حاصل کیں۔ مسلم لیگ نے ایک نشست حاصل کی اور ایک نشست چٹاگانگ میں چکم قبیلے کے امیدوار کے مقابلے میں عوامی لیگ نے اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں لائی۔ انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کے عوام نے آواز بلند کی کہ پنڈی نہیں ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا۔ 2 فروری 1971 میں قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکا میں بلانے کا اعلان ہوا تھا مگر اسے ملتوی کردیا گیا۔

پھر 26 مارچ 1971 میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس منعقد ہونے سے ایک روز قبل 25 مارچ کو مشرقی پاکستان میں آپریشن کر دیا گیا ۔ مغربی پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ سے کامیاب ہونے والی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ جو بھی اسمبلی کے اجلاس میں ڈھاکا جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

1971 میں نیشنل سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ میجر جلیل نے پورے بنگلہ دیش میں شہروں اور دیہاتوں میں کمیون کا نظام قائم کرنا شروع کردیا تھا۔ ’’کمیون‘‘ کا مطلب پیداوار سب مل کر کرنا اور ہر ایک کو ضرورت کے لحاظ سے اشیا مہیا کرنا۔بنگلہ دیش اس لیے لکھا کہ 26 مارچ شام 4 بجے 1971کو شیخ مجیب نے ریڈیو بنگلہ دیش سے نئے ملک کا اعلان کیا تھا۔ کمیون کی تشکیل میں کمیونسٹ پارٹیوں کے کارکنان بھی شامل تھے۔

شیخ مجیب نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد فرانس کے اخبار ’’لاموندے‘‘ میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مغربی پاکستان کے رہنما سمجھ دار نہیں ہیں، ہم نے کمیونزم کو روک کے دکھایا۔‘‘ اسی قسم کا ذوالفقار علی بھٹو نے ’’اکنامسٹ‘‘ اخبار کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا برسوں تک جو کام نہیں کرپایا ہم نے چند دنوں میں کمیونزم کو روک دیا۔یعنی طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے اور سامراجی آلہ کار بنے رہنے کو ترجیح دی۔ پاکستان میں بنگلہ دیش کی ترقی کا ایک حلقے میں بڑا چرچہ ہے جب کہ تقسیم در تقسیم سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اس لیے کہ انڈیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت دنیا کی 40 فیصد غربت برصغیر میں پلتی ہے۔

اس لیے کہ یہ نام نہاد آزادی تو حاصل کرلی لیکن طبقاتی نظام کا خاتمہ کیا نہ ریاستی جبر کا۔ آج بنگلہ دیش میں ایک غیر ہنرمند مزدور کی کم ازکم تنخواہ 5,500 ٹکا یعنی 11,000 روپے جب کہ ہنرمند مزدور کی تنخواہ 8,000 ٹکا یعنی 16,000 روپے ہے۔ آج بھی ڈھاکا شہر میں 15 لاکھ افراد پاؤں سے رکشہ چلاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں کم ہیں۔ اس سے مزدوروں اور کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حکومت بجلی، گیس اور پٹرول پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو رعایتیں دے کر برآمدات میں اضافہ کرتی ہے، چونکہ پیداوار پر خرچ کم آتا ہے یعنی لاگت کم آتی ہے اس لیے سستی قیمتوں میں گارمنٹ کے ملبوسات برآمد کرپاتی ہے۔ اس وقت چین کے بعد ملبوسات سب سے زیادہ برآمد بنگلہ دیش کرتا ہے، اگر حکومت سرمایہ داروں کو سبسڈیز دینا بند کردے تو مغربی ممالک ملبوسات ویتنام سے لینا شروع کردیں گے۔

بنگلہ دیش میں 9گھنٹے کی مزدوروں کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ کوئی میڈیکل اتفاقیہ اور سالانہ چھٹیاں نہیں ہوتیں صرف عیدالافطر میں 11 چھٹیاں ملتی ہیں۔ اشیا خوردنی کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں لیکن تنخواہ یہاں سے بھی کم ہے۔ لہٰذا استحصال کا پیمانہ بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت کا ایک ہی جیسا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں گارمنٹس فیکٹریوں میں 90 فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔ یہ شرح کمبوڈیا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

کمبوڈیا میں خواتین گارمنٹ کے شعبے میں 95 فیصد ہیں۔ اس وقت یہ خطہ ایشیا میں سب سے زیادہ افلاس، غربت اور بھوک کا شکار ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جوڑنے یا توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور ریاستی جبر کے خاتمے میں مضمر ہے جس طرح دنیا میں سیکڑوں ممالک، صوبوں، خطوں اور اضلاع میں کمیون نظام رائج ہے جہاں 100 فیصد لوگ خواندہ ہیں، کوئی بے روزگار ہے اور نہ کوئی بھوکا۔ سب اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے کام کرتے ہیں اور ضرورت کے لحاظ سے اشیائے ضروریات مہیا ہوتی ہیں، یہی دنیا کے مستقبل کا مقدر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔