بدلتی اقدار اور ٹیکنالوجی

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  جمعـء 24 دسمبر 2021
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

راقم الحروف کے ایک کالم ’’ دین، ٹیکنالوجی اور اقدار‘‘ پر ایک قاری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’آپ کی دی گئی چند مثالوں سے یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ یہ ٹیکنالوجی واقعی ہماری دینی اقدارکو بھی تبدیل کر سکتی ہے؟‘‘ ایک کالم میں اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ کسی موضوع پر کھل کر بات کی جاسکے، اسی لیے مذکورہ موضوع کے حوالے سے یہاں مزید گزارشات پیش کی جاری ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی معاشرے کے جیسے نظریات ہوتے ہیں، ان کا علم بھی ان ہی نظریات کی روح سے جان حاصل کرتا ہے اور پھر اس علم سے جو بھی کچھ برآمد ہوتا ہے خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی ، وہ بھی ان ہی نظریات سے ہم آہنگ ہوتا ہے ، چنانچہ اب مغرب سے جو بھی ٹیکنالوجی ہمارے ہاں آرہی ہے وہ اپنی اقدار بھی ساتھ لا رہی ہے۔ بظاہر یہ ٹیکنالوجی یا اشیاء بے ضرر لگتی ہیں ، لیکن ان کے اثرات رفتہ رفتہ سامنے آتے ہیں۔

مثلاً فریج اور ڈیپ فریزرکا استعمال دیکھیں، جب تک یہ ہمارے ہاں نہیں آئے تھے ، ہماری قدروں میں یہ بات شامل تھی کہ جو بھی کھانا بچ جاتا کسی پڑوسی یا مانگنے والے کو دے دیتے، شادی بیاہ کا کھانا بچ جانے پر فوراً تقسیم کردیتے ، لیکن اب جن گھروں میں یہ سہولیات ہیں ، ان کے ہاں ایسا کم ہی ہوتا ہے حتیٰ کہ قربانی کے موقعے پر ڈیپ فریزرگوشت سے بھردیے جاتے ہیں۔

اسی طرح سے یہ کہا جاتا ہے کہ دین نے ترقی سے کب روکا ہے؟ چنانچہ دین کی قناعت ، توکل ، صبر و شکر کی تعلیمات کو نظر اندازکر کے زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل کرنے کے لیے ہم اپنی خواتین کو بھی ملازمت پر بھیج دیتے ہیں، اولاد کو کمانے کے لیے بیرون ملک بھیج دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ زمانہ ترقی کر گیا ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، ہزاروں میل دور بیٹھ کر بچوں سے بات کر سکتے ہیں۔

مہینوں کا سفرگھنٹوں میں کرسکتے ہیں پھر بھلا دولت کمانے اپنی اولادوں کوگھر سے اور ملک سے باہرکیوں نہ بھیجیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ اسی معاشرے کی اقدار ہمارے حصے میں آرہی ہیں، یعنی ڈے کیئر سینٹر، اولڈ ہاؤس اور سرد خانے۔ غورکریں ڈے کیئر سینٹر کا مطلب ہے کہ والدین اپنے بچوں کو وہ وقت نہیں دے رہے جو ہم پہلے دیتے تھے۔

اولڈ ہاؤس کا مطلب ہم اپنے بزرگ والدین کی خدمت نہیں کر رہے جیسا کہ ہمارے معاشرے کی اقدار تھیں، نیز جب والدین انتقال کر جاتے ہیں تو میت مختلف اداروں کے سرد خانے میں پڑی رہتی ہیں کئی دنوں تک، جبتک اولاد کی فلائٹ کئی روزکا سفر کر کے ایئر پورٹ نہ پہنچے، جب کہ ہماری اقدار تو یہ تھی کہ مسجد سے میت کا اعلان ہوتا اور چوبیس گھنٹوں سے پہلے ہی تدفین ہو جاتی اور جب تک عزیز رشتہ دار اکٹھے ہوتے میت گھر ہی میں رہتی اورگھر والے مغفرت کے لیے کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے۔

اب سرد خانے میں میت کئی دنوں تک پڑی رہتی ہے اور میت کے گھر آنے تک میت تنہا ہی ہوتی ہے، اس کے پاس کوئی مغفرت کے لیے کچھ پڑھنے والا بھی نہیں ہوتا ہے۔ہم میں سے اکثر یہ بات نہیں بھولے ہونگے کہ ہمارے بزرگ پہلے یہ ایک دعا ضرور مانگتے تھے کہ اللہ انھیں مرتے وقت کلمہ نصیب کرے، یقیناً آج بھی ہم میں سے اکثر یہ جواب دیں کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں مگر آج ٹیکنالوجی کے سبب ایسا عملاً مشکل ہے۔ مثلاً آپ کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں کسی شہرکی طرف سفر کر رہے ہوں، یا اپنی مرسڈیزمیں، ہمارے پاس موسیقی سننے اور دیکھنے کے مواقع ہوتے ہیں اور ہم انجوائے بھی کرتے ہیں۔

ذرا تصورکریں اگر اس عمل کے دوران ایکسیڈنٹ ہو جائے تو کتنوں کوکلمہ پڑھنے کا موقع ملے گا؟ہمارے پاس ذاتی گاڑی آجائے تو اس میں میوزک کا استعمال کرنا چاہتے ہیں ، نیز وہ خواتین جو پردہ کرتی ہیں ان میں سے بھی کچھ کا کہنا ہوتا ہے کہ اپنی گاڑی میں ہی تو بیٹھے ہیں ، برقعہ پہننے کی کیا ضرورت؟  ٹی وی چینلزکو بھی بہت سے لوگ جن میں مذہبی لوگ بھی شامل ہیں، غیر اقداری ہی نہیں سمجھتے بلکہ سمجھتے ہیں کہ اس سے دین کا انقلاب لے آئیں گے۔ پی ٹی وی کو جنرل ضیا الحق کے زمانے میں اسلامی بنانے کی کوششیں کی گئیں ۔

مثلاً خواتین کو بغیر دوپٹے کے پیش کرنے کا حکم بھی جاری ہوا تو ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایک لڑکی جو ڈرامے کے منظر میں سو رہی ہے اور بستر سے اٹھتی ہے تو سر پر دوپٹہ ہوتا ہے، ایسا کیسے ممکن ہے کہ سوتے ہوئے بھی لڑکیاں دوپٹے سر پر لے کر سوئیں، یہ تو حقیقت کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ جب ماڈل گرل کو کسی شیمپو کے اشتہار میں سر پر دوپٹہ اوڑھا دیں گے تو اشتہارکا مقصد فوت ہو جائے گا۔ بات تو درست تھی کہ ایک غیر اسلامی اقدار والی ٹیکنالوجی کو اسلامی کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ معاملہ صرف یہی نہیں بلکہ ان مذہبی افراد کا بھی ہے جو ان چینلز پر نظر آتے ہیں۔

سحر اور افطار کے وقت۔ ہماری دینی اقدار تو یہ تھی کہ روزے کی حالت میں عصر سے مغرب تک قرآن کی تلاوت کرتے، ذکر کرتے، دعا مانگتے کہ یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے مگر ان چینلزکی آمد کے بعد اب گھر گھر سحر اور افطار کے وقت ’’ اسلامی پروگرام ‘‘ سے انجوائے کر رہے ہوتے ہیں جس میں اشتہاروں کے وقفوں میں میوزک، محرم نا محرم کے نظارے اور مزیدار پکوانوں کے منظر بھی شامل ہوتے ہیں خواہ گھر بیٹھے یہ منظر دیکھنے والے شخص کے کچن میں کچھ بھی نہ ہو۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ کھانے کے بعد پھل کے چھلکے دروازے سے باہر یوں کھلے نہ پھینکو۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ گفتگو میں بھی فضول خرچی نہیں ہونی چاہیے، حدیث بھی ہمیں بتاتی ہے کہ وضو کے دوران بھی چند قطرے اضافی شامل کرنا درست نہیں، سنت ہمیں سادگی کی تعلیم دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ چپل اورکپڑے بھی مرمت کرکے استعمال کر لینے چاہئیں۔

اب ذرا مذہبی پروگراموں پر ہی غورکریں ہم ٹچ موبائل، پروگراموں کے لیے اشتہاری مواد، اسٹیج کی اسکرین، چائنا کی لائٹس اور اپنے کپڑوں پر لگائے گئے پیسے اور وقت کا استعمال، سنت کی تعلیم کی روشنی میں کس قدرکر رہے ہیں؟ وقت کرتا ہے برسوں پرورش، حادثہ کوئی یک دم نہیں ہوتا۔ آج ہم بعض اسلامی ممالک کی پالیسیوں پر سخت نالاں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ وہاں کے عوام کیوں غیر اسلامی اقدار والے پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں؟ اس لیے کہ جس طرح جدید ٹیکنالوجی کا ہاتھ اس شہزادے کی تربیت میں شامل ہے ، اسی طرح وہاں کے عوام پر بھی اس ٹیکنالوجی کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بات صرف یہ سمجھنے کی ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں اور ہمیں کس طرف جانا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم زندگی گزارنے کے لیے فرعون والی زندگی کی خواہش کریں اور انجام کے لیے موسیٰ کا انتخاب کریں، ہم جس کا انتخاب کریں گے انجام بھی ویسا ہی ہوگا ، ہم مغرب جیسی ترقی اور ٹیکنالوجی چاہیں گے تو پھر بچپن ہمارا ڈے کیئر سینٹر میں اور بڑھاپا اولڈ ہاؤس میں ہی گزرے گا کیونکہ مغرب کی یہی اقدار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔