تم اور تمہاری شناخت

راؤ سیف الزماں  جمعـء 24 دسمبر 2021
فوٹوفائل

فوٹوفائل

ان دنوں وطن عزیز پر الزامی گھٹاؤں کا زور ہے بادل گرج رہے ہیں بجلی کڑک رہی ہے کہیں کہیں ژالہ باری کی کیفیت بھی ہے لیکن زمین ہے کہ سیراب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ، فضا میں کدورت ہے۔

ماحول ایک عجیب سی کہانی سنا رہا ہے ، لیکن اس کہانی کا انجام سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے ہم کہاں کس سمت میں میں سفر کر رہے ہیں ؟ ہماری منزل کیا ہے کیا ہم ایک ملک میں رہتے ہیں؟ پاکستانی ہیں ؟ کیا ہمارا کوئی آئین ہے دستور ہے ، کیا ہم کبھی آزاد ہوئے تھے ؟ آخر ہم کون ہیں ، ہماری پہچان کیا ہے ؟ کون راہبر ہے کون راہزن ؟ ایک وڈیو آتی ہے ایک جاتی ہے ایسے ایسے راز کھلتے ہیں کہ الامان ، اگر کسی کو جمہوریت پسند نہیں تو کوئی اور نظام نافذ کروادے لیکن ملک و قوم کو اسطرح ذلیل تو نہ کروائے۔

پاکستان کو دنیا کے سامنے شرمندہ ہوتے ہوئے چوہتر سال ہوگئے قوم کو تنزلی کا سفر طے کرتے ہوئے پچاس برس ہو چلے کب آپ کا دل بھرے گا ؟ کب آپ اس ملک اس قوم کی جاں بخشی فرمائیں گے ؟ معیشت ڈوب گئی ملک ایک بار ٹوٹ چکا قوم اور قومی احساس ریزہ ریزہ ہوگیا قوم ایک منتشر گروہ بن چکی ، مہنگائی بڑھتے بڑھتے جان لیوا حد پر جا پہنچی لیکن آپ کے تجربات ختم ہوکر نہ دیے ،برسوں سے آپ قوم کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ یہ سیاستدان کرپٹ ہیں یہ سویلین گندے لوگ ہیں یہ بات بھی civilians کو ہی سمجھا رہے ہیں ’’ لڑو اور حکومت کرو‘‘ کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں لیکن یہ بات اب تک سمجھ میں نہ آسکی کہ پھر آپ جاتے کیوں ہیں ؟

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بہت سی تقاریر سننے کو ملیں لیکن سپریم کورٹ کے معروف وکیل علی احمد کرد صاحب کی تقریر نے دل جیت لیا کیونکہ اسمیں حقائق تھے اسمیں زندگی کا رمز تھا ، سچ تھا ، بے خوفی تھی مستقبل کے اندیشے تھے ۔ خواہ وہ تقریر کسی کو اچھی لگی یا نہیں خواہ وہ تقریر کسی کو خوفزدہ کر گئی لیکن اس تقریر میں ایک پاکستانی کے دل کی آواز تھی شور تھا وہ تقریر بجا طور پر مستقبل کا ایک ایسا منظر نامہ تھا جسکے وجود میں ایک بڑے انقلاب کی لہریں جنم لیتی دکھائی دے رہی تھیں اور آج ملک و قوم کو اسی جذبے کی ضرورت ہے آج ہم چونکہ چنانچہ نہیں سننا چاہتے۔

ہمیں علاج درکار ہے وڈیوز نہیں ،آج ہم جینا چاہتے ہیں ۔آپ کی خاندانی سیاست سے ہمیں کیا مطلب جس میں ایک بھائی ڈیل کرتا ہے دوسرا بھائی شور مچاتا ہے ، ایک بیٹا انقلاب کا داعی ہے ،والد سیاست میں استعمال ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

آج ہمیں ایجنٹ درکار نہیں ہیں ، شیرکی دہاڑ نہیں شیر چاہیے۔  مشیر خزانہ نے کہا کہ پٹرول اب ہر ماہ بڑھے گا اور بجلی بھی تو یقین کیجیے قوم کی جان نکل گئی کیونکہ وہ تو پہلے ہی فاقہ کش ہوچکے تین میں سے ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں تو اب کیا ہوگا ؟ کیا یہ مارے پکارے لوگ احتجاج کے لیے اپنے گھروں سے نکلیں گے؟ کیا انھیں ظالم کے گھر کا پتہ معلوم ہوجائے گا کیا یہ اپنے حقیقی مسائل سے آگاہ ہوجائیں گے ؟ کیا یہ جعلی اور جھوٹے کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں بیوقوف بننا چھوڑ دیں گے؟

شاید ، شاید کبھی ایسا ہوجائے اور یہ سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، پٹھان نہ رہیں اور مسلکوں ، فرقوں کی سیاست سے باہر نکل کر صرف اپنی جنگ لڑیں اپنے لیے جئیں اپنے لیے مریں ، اپنی صفوں میں سے رہنما چنیں جس نے کبھی کچے مکانات دیکھے ہی نہیں جو کبھی کسی جھونپڑی میں گیا ہی نہیں اسے آپ کے مسائل کا ادراک بھی کیسے ہوگا؟ وہ توفائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھ کر آپ کی قسمت کے صفحات تحریر کرتا ہے اور پھر اسی انداز میں کسی دن کسی سال آپ کا سودا کردیتا ہے۔

اپنے لیڈر کو پہچانیے یہ videosوالے آپ کے رہنماء نہیں ہوسکتے ممکن ہے یہ اوروں سے کچھ بہتر ہوں اور موجودہ حکومت سے تو100%بہتر ہونگے لیکن ان کے شایانِ شان نہیں کہ یہ آپکی رہنمائی کے دعویدار بھی ہوسکیں ۔کیا آپ بھول گئے کہ یہی لوگ کچھ عرصہ قبل ایک ایکسٹینشن کے ووٹرز بنے تھے ! کیا آپ بھول گئے کہ یہی جماعت سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ گئی تھی ۔کیا جمہوریت پر ان کے شب خون محض اس لیے معاف کر دیے جائیں کہ یہ بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی ہیں ہرگز نہیں اب انتخاب ہی کرنا ہے تو پھر کوئی مصلحت نہیں ، عجلت کا کوئی فیصلہ نہیں جو خرابی ہونی تھی سو ہو چکی۔ یاد رکھیے گا کہ ملک کا اگر کوئی وفادار ہے تو وہ صرف تم ہو اگر کسی نے ظلم و ستم سہے ہیں تو وہ صرف تم ہو جو عوام ہو۔

یہ محلوں میں رہنے والے نواب زادے ، شہزادے نہیں ، اگر وطن کی زمیں پر ہل چلا تو وہ ہاتھ تمہارا ہی تھا ترقی کے بیج تم نے ہی بوئے ہیں جن بڑی بڑی ملوں سے دھواں نکلتا ہے یہ مشینیں تم چلاتے ہو ، کپاس ، گندم، سبزیاں ، چاول ، دالیں یہ نعمتیں تم اگاتے ہو تو پھر خوفزدہ کیوں ہو ؟ یہ لوہے جیسے ہاتھ اپنا حق مانگتے ہوئے کانپتے کیوں ہیں ؟ ملک تو آپ چلاتے ہیں معیشت اس کے علاوہ کیا ہے کہ وہ تمہاری محنت شاقہ ہے تو پھر تم ہی محکوم کیوں ہو کبھی سوچو کہ تم ہی پھر غلام کیوں ہو ؟ کیوں تمہارے بچے ٹوٹے پھوٹے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔

کیوں علاج کے نام پر تمہیں ادویات نہیں ملتیں؟ مہنگائی کا سارا بوجھ تمہاری پیٹھوں پر ہی کیوں لاد دیا جاتا ہے ؟ کیا تم آج بھی غلام ہو ، محکوم ہو ، ان جاگیرداروں کے، وڈیروں کے ، بندوقوں کے ! کیا غلامی تمہاری فطرت میں رچ بس گئی ہے ، کیا مخلوقات میں تم اشرف نہیں رہے ؟ کیوں ہر طاقت ور تمہیں محکوم بنالیتا ہے کیوں ہر حکومت تمہیں بھیڑ بکری کی مانند گردانتی ہے کیوں تمہاری محنت سے مشقت سے کمائی ہوئی پائی پائی کو ظالم حکمران لوٹ لیتے ہیں کیا تم اندھے ، گونگے ، بہرے ہو؟ کیا قومیں ذاتیں برادریاں تمہیں ظالم کے ظلم سے بچا لیتی ہیں ؟ کیا تم ان میں تقسیم ہوکر مہنگائی اور غربت کی چکی میں پسنے سے محفوظ ہو جاتے ہو ؟ تمہیں تو اللہ ایک آزاد ملک عطا کرچکا تو پھر اب کن دیشوں کو آزاد کروا رہے ہو؟ جو مرگیا وہ کتنا ہی عظیم سہی لیکن اسے دفنانے کے بعد زندہ کیوں رکھتے ہو۔

تاریخ تم سے یہ سوال کر رہی ہے تاریخ تم سے تمہاری شناخت پوچھ رہی ہے ایک ترقی یافتہ دنیا تم پر نوحہ کناں ہے ، جو ماتم تم کرتے ہو کیا اس ماتم کے لیے تمہاری اپنی ذات کچھ کم ہے کیا اب کوئی ستم باقی ہے جو تمہیں اپنے آپ پر کرنا ہے ؟ کبھی شیر کے نعرے کبھی تلوار کے کبھی بوٹ کے نعرے کبھی بلے کے ، جن کے جانے کے بعد تمہیں ان کی یاد آتی ہے انھوں نے تو تمہیں زندگی میں کبھی یاد نہیں کیا۔  آج تمہارے بچے بے یارو مدد گار ہیں تمہاری آنیوالی نسلیں بھی اتنی مقروض ہیں کہ وہ قرضہ اتارے نہیں اترے گا جب کسی کرپٹ حکمران نے ملک کا پیسہ لوٹا تم نے کیا کہا یاد تو ہوگا کہ ’’ہمارا کیا جاتا ہے۔‘‘ یاد ہے یا بھول گئے؟

لیکن وہ سب تو تمہارا ہی جارہا تھا ، آج جو بجلی ، گیس، اشیائے خورونوش ، پٹرول مہنگا ہے کیوں ہے ؟ اس لیے کہ جو لوٹا جارہا تھا وہ تمہارا ہی مال تھا لیکن تم نے اس وقت بجائے کوئی تحریک چلانے کے چپ رہنے کو ترجیح دی! لیکن آج مسئلہ شناخت کا درپیش ہے ہم کون ہیں ؟ کیا ہیں کس لیے ہیں ہماری قوم کیا ہے ہمارے رہبر کون ہیں انتخاب کے لیے ہمارا اصول کیا ہے؟ بہت سارے سوالات ہیں جو ہمیں اپنے آپ سے کرنے ہیں اور جواب بھی دینے ہیں کہ کیا زندگی اسی ڈھب سے گزارنی ہے کیا کبھی اپنے لیے اپنی آیندہ نسل کے لیے ظلم اور نا انصافی پر کوئی احتجاج نہیں کرنا؟ یونہی خاموش رہنا ہے ایک آخری سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندہ بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔