ہمارے رویے

عابد محمود عزام  اتوار 26 دسمبر 2021
 فوٹوفائل

فوٹوفائل

انسان کا ہر عمل سوچ و فکرکی بنیاد پر وجود میں آتا ہے اور عمل کو انسانی رویے کا نام دیا جاتا ہے۔ رویے سے مراد انسان کی شخصیت کا وہ عنصر ہے، جو اسے سوچنے، محسوس کرنے اورکوئی عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ انسان کوئی بھی رویہ دنیا میں اپنے ساتھ لے کر نہیں آتا ، بلکہ اس کے رویوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت سے عوامل و اسباب اور محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔

رویوں کی تشکیل میں اردگرد کا ماحول ، رسوم و رواج ، روایات ، تہذیب و ثقافت ، قوانین ، مذہب ، تعلیم ، مزاج ، رشتے، تعلقات، تجربات اور واقعات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ انسان اپنے ارد گرد کے ماحول سے جو سیکھتا ہے، وہی اپناتا ہے۔ انسان جہاں رہتا ہے ، جہاں اس کی پرورش ہوتی ہے ، وہ والدین سے سچ جھوٹ سنتا اور بولتا ہے۔ کھیلتا کودتا ہے۔ تعلیم و تربیت حاصل کرتا ہے ، لوگوں سے ملتا ہے ، روزی کماتا ہے۔

اپنی زندگی کے دیگر معاملات سرانجام دیتا ہے وہ ذہنی، جسمانی، نفسیاتی، خاندانی، معاشرتی و سیاسی طور پر جن تبدیلیوں اور کیفیات سے گزرتا ہے۔ تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں، بازاروں اور دفاتر میں وقت گزارتا ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے رویوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

رویے ہر ایک کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان جوکچھ بھی عمل کرتا ہے، وہ بہت حد تک رویوں کے زیراثر ہوتا ہے۔ رویے ہماری سوچ اورکردارکے رْخ کو متعین کرتے ہیں۔ کامیاب زندگی مثبت رویوں، جب کہ ناکام زندگی منفی رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ منفی بات میں سے مثبت پہلو نکالنے کا رویہ اپناتے ہیں اورکچھ کا رویہ مثبت بات میں سے بھی منفی پہلوکشیدکرلیتا ہے۔

برستی بارش کے قطرے سیپ اور سانپ دونوں کے منہ پرگرتے ہیں، لیکن سیپ اس قطرے کو موتی اور سانپ زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ مثبت اور منفی رویوں کا ہے۔ مثبت رویے مشکل حالات میں بھی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔ منفی رویے خوشیوں میں بھی پریشانیوں کا زہرگھول دیتے ہیں۔ معاشروں کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب رویوں میں پنہاں ہوتے ہیں۔ مثبت رویوں سے مثبت تبدیلی آتی ہے۔

منفی رویوں سے معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کے افراد کا مجموعی رویہ اس قوم کی پہچان ہوتا ہے۔ اگر ہم تعلیم یافتہ اورباشعور لوگ ہیں تو اس کا اظہار ہمارے رویوں سے ہونا چاہیے۔ ہمیں کوئی کام اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ سب ہی کررہے ہیں، بلکہ اس لیے کرنا چاہیے کہ وہ درست کام ہے ، اگر بیشتر لوگ کوئی غلط کام کررہے ہوں تو بھی ہمیں اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے عمل اور رویوں سے ثابت کرنا چاہیے کہ ہم باشعور قوم کے افراد ہیں۔ یہ رویے ہی دنیا میں ہماری پہچان اور شناخت بنتے ہیں۔ یہ رویے دنیا میں ہمیں عزت کی بلندیوں پر بٹھاتے ہیں یا ذلت کی گھاٹیوں میں گراتے ہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کہ ہر فرد اپنی حیثیت میں جن رویوں کو پروان چڑھاتا ہے، وہی رویے ہمارے اجتماعی سماج کی تشکیل کرتے ہیں۔ انفرادی رویے ہی اجتماعی رویوں کو جنم دیتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں نہ صرف انفرادی رویے، بلکہ اجتماعی رویے بھی بہت حد تک محض انفرادی مقاصد اور مفادات کے حصول کا ذریعہ نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک بہترین معاشرہ نہیں بن پایا۔ جن رویوں کو مہذب معاشروں میں سماجی رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے، ہمارے ہاں انھیں نظر انداز کردیا جاتا ہے اور ہم اجتماعی طور پر ان کے بارے میں بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہت سے رویوں کو انفرادی سطح پر نا پسندیدہ تصور بھی کیا جاتا ہے، لیکن اجتماعی سطح پر ان کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی، بلکہ موقع ملنے پر ہم خود اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔

قطار میں اپنی باری کا انتظارکرنے کے بجائے قطار توڑکر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہوئے سب سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا اس کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کے بہت سے رویے ہماری زندگی میں شامل ہیں، جن کی زبان سے ہم مذمت کرتے ہیں، لیکن جب عمل کرنے کی باری آتی ہے تو عمل نہیں کرتے۔

عام طور ہم اپنے رویوں کی اصلاح کرنے کے بجائے ان کی ذمے داری دوسرے افراد اور حالات پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ زندگی میں کامیابی اور ترقی حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچوں، خیالات اور رویوں کی ذمے داری قبول کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے خیالات اور رویوں کی مکمل ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔ ان کے جو بھی اچھے یا برے نتائج ہوں، ان کے ذمے دار خود کو سمجھنا چاہیے۔ ذمے داری لینے سے انسان کی عزت نفس اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ترقی کے مواقع ملتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنا آسان ہوتا ہے۔

ذمے داری قبول کرنے سے انسان کو اپنی شخصیت کے کمزور اور مضبوط پہلوئوں کی پہچان ہوتی ہے۔ انسان اپنی زندگی، اپنے خیالات، احساسات، اپنے الفاظ اور اپنے کردار خود تخلیق کرتا ہے۔

جو خیالات اس کے ذہن میںآتے ہیں،جو الفاظ وہ بولتا ہے،جس ردعمل کا اظہار کرتا ہے، ان سب کا ذمے دار وہ خود ہے۔ انسان جب اپنے رویے کی ذمے داری قبول نہیں کرتا تو نقصان اسی کی ذات کو پہنچتا ہے ، وہ پریشان رہتا ہے۔ غصہ،خوف ، احساس کمتری، ناراضگی اور شک جیسے منفی احساسات جنم لیتے ہیں۔ اپنے رویوںکی غلطی کا الزام دوسروں پر لگاکر انسان خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ انسان کو اپنے رویوں کی نگرانی کرتے رہنا چاہیے۔ جب رویے بگڑتے نظر آئیں، ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔ ہمیشہ مثبت سوچتے ہوئے بہتری کی طرف سفر جاری رکھنا چاہیے۔

موجودہ دور میں ہمارے رویے مجموعی طور پر زوال اورگراوٹ کی طرف مائل ہیں۔ بیشتر لوگوں کے رویے منفی ہیں ، وہ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ قول اور عمل کا تضاد نمایاں ہوتا چلا جارہا ہے۔ جھوٹ، دھوکا، تنگ دلی، فضول گوئی، بے صبری، خودنمائی، دروغ گوئی، وعدہ خلافی، دشنام طرازی، لڑائی جھگڑے، ایذا رسانی، نفرت، غصہ، تخریب کاری، مسلکی و سیاسی منافرت، حرام کاری، کام چوری، بدعنوانی، ہٹ دھرمی، حرص اور منافقت جیسی برائیاں ہمارے معاشرتی رویوں میں شامل ہوتی جارہی ہیں۔ برائی کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ قوانین کا احترام ختم ہوچکا ہے۔

محبت اور ہمدردی عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ مادیت کا غلبہ ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں ایسی کوشش کی ضرورت ہے جو معاشرے کو آئیڈیل معاشرہ بنادے۔ خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی جانب رہنمائی کرے۔ لوگوں میں خوفِ خدا ، فکرِ آخرت اور حب رسول کا جذبہ پیدا کردے۔ امداد باہمی، محبت، اعتبار، وسعت نظری، سچائی، انصاف، امانت داری، ہمدردی، فیاضی، صبر و تحمل، خود داری، شائستگی، ملنساری، فرض شناسی، وفا شعاری، مستعدی، احساس ذمے داری، خوش گفتاری، نرم مزاجی، راست بازی، فراخ دلی اور امن پسندی جیسی اچھائیاں ہمارے رویوں کا حصہ بن جائیں۔ کردار کو بدلنے ، سیرت کو سنوارنے اور رویوں کو مثبت بنیادوں پر تعمیرکرنے کی ایک ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت ہے۔

ہم آج ہی سے اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنا شروع کردیں اور اپنے منفی رویوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کرنا شروع کر دیں۔ اس کے لیے زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی، صرف اپنے رویے تبدیل کرنا پڑیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔