نسل پرستی کیخلاف جدوجہد کرنے والے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ انتقال کرگئے

ویب ڈیسک  اتوار 26 دسمبر 2021
آرچ بشپ ڈیسمینڈ ٹوٹو کو 1980 میں نوبل انعام برائے امن دیا گیا، فوٹو: فائل

آرچ بشپ ڈیسمینڈ ٹوٹو کو 1980 میں نوبل انعام برائے امن دیا گیا، فوٹو: فائل

کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقا کے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے نوبل انعام يافتہ رہنما آرچ بشپ ڈيسمنڈ ٹوٹو 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افريقا کے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے عالمی شہرت یافتہ رہنما آرچ بشپ ڈيسمنڈ ٹوٹو کا انتقال ہوگیا۔ انھیں 1984 ميں نوبل امن انعام سے نوازا گيا تھا۔

نسلی امتیاز کیخلاف ان کی جدوجہد کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ جنوبی افریقا کے صدر سرل راما فوسا نے آرچ بشپ کے انتقال کی تصديق کردی۔ امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے انھیں 2009 میں صدارتی میڈل آف فریڈم  کے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

99 سالہ آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کافی عرصے سے بیمار تھے اور ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ اُن کے انتقال پر عالمی رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور جنوبی افریقا میں حکومتی سطح پر سوگ منانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔