بھارتی فوج میں عہدوں کے حصول کی دوڑ

تنویر قیصر شاہد  پير 27 دسمبر 2021
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

دسمبر2021 کے دوسرے ہفتے(8دسمبرکو) جنرل بپن راوت زندگی سے رخصت ہو گئے۔ جنرل بپن راوت بھارتی فوج کے سابق سربراہ بھی تھے اور پہلے ’’سی ڈی ایس‘‘ بھی ۔ اُن کی وفات پر پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی بھارتی حکومت سے تعزیت کی ہے۔ یہ شاید ہمسائیگی کا تقاضا بھی ہے اور انسانی جانوں کے اتلاف پر رنج کا فطری اظہار بھی۔

جنرل بپن راوت اپنی اہلیہ( مدھو لیکا راوت) کے ساتھ اُس ہیلی کاپٹر (Mi17 V5) میں سوار تھے جس میں 14دیگر مسافر بھی تھے۔ مسافروں میں کئی سینئر فوجی افسر بھی تھے۔ راوت صاحب لیکچر دینے کے لیے تامل ناڈو جا رہے تھے کہ راستے میں مبینہ طور پر اُن کا ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا۔ ہیلی کاپٹر کو آگ لگ گئی اور وہ جملہ سواریوں سمیت زمین بوس ہو گیا۔ چودہ میں سے تیرہ مسافر جان کی بازی ہار گئے۔ جنرل بپن راوت بھی اہلیہ سمیت آنجہانی ہو گئے ۔

جنرل بپن راوت کی بے وقت موت نے بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کوبڑا نقصان اور دھچکا پہنچایا ہے۔ آنجہانی جنرل، مودی جی کے دل اور نظریات کے بڑے ہی قریب پائے جاتے تھے۔ موصوف بھارتی وزیر اعظم کی آنکھ کا اشارہ خوب سمجھتے تھے۔ وہ پاکستان کے خلاف وہی زبان اور بیان بروئے کار لاتے تھے جو نریندر مودی کو محبوب اور مرغوب تھی۔

پاکستان کے خلاف جنرل بپن راوت کا خبثِ باطن کسی سے مخفی نہیں تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ نریندر مودی ، یوگی ادیتیا ناتھ، بپن راوت، راجناتھ سنگھ اور اُجیت ڈووَل پاکستان کے خلاف یک زبان بھی رہے ہیں اور یک رُخ بھی ۔ان میں خوب گاڑھی چھنتی اور ان کے  درمیان خوب منڈلی جمتی رہی ۔ بپن راوت کی رخصتی سے اس دوستی کا ایک ضلع ٹوٹ گیا ہے ۔

نریندر مودی اور جنرل بپن راوت کی نظریاتی ہم آہنگی ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ جنرل بپن راوت کو بھارتی فوج کا2016 میں اُس وقت سپہ سالار بنا دیا گیا جب بپن راوت سے دو سینئر جرنیل موجود تھے۔ بپن راوت کو سُپر سیڈ کرکے بھارتی فوج کا چیف بنایا گیا ۔ اس اقدام سے کئی بھارتی فوجی جرنیلوں کی دل آزاری تو ہُوئی لیکن فوجی ڈسپلن کی خاطر وہ یہ توہین پی گئے۔ جب تک جنرل بپن راوت بھارتی سپہ سالار رہے، وہ پاکستان کے خلاف مسلسل لب کشائی کرتے رہے۔

یہاں تک کہ پاکستان کے خلاف جعلی فوجی آپریشنوں کی کامیابی کے کھوکھلے دعوے بھی کرتے رہے۔ یہ بڑھک بازیاں مودی جی کو سُوٹ کرتی اور دل کو بھاتی تھیں۔ ان اقدامات نے مودی اور بپن راوت کو مزید قریب کر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جونہی جنرل بپن راوت کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا، نرنیدر مودی نے انھیں ’’چیف آف ڈیفنس اسٹاف‘‘ (CDS) کے عہدے پر فائز کر کے گویا انھیں ایکسٹینشن دے دی۔

یہ بالکل نیا عہدہ تھا اور خاص جنرل بپن راوت کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھارتی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو مطعون کرتی تھی کہ پاکستان میں سپہ سالار کو ایکسٹینشن دی جاتی ہے لیکن مودی جی کو بھی مجبوراً اپنے ایک جرنیل کو توسیع دے کر ’’سی ڈی ایس‘‘ بنانا پڑ گیا ۔

اصول یہ بنایا گیا ہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف 65سال کی عمر تک اس عہدے پر فائز رہ سکتا ہے۔ جنرل بپن راوت اس عمر تک پہنچنے سے قبل ہی آنجہانی ہو گئے۔ مرتے وقت جنرل بپن راوت کے پاس تین اہم ترین فوجی عہدے تھے: وہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے مستقل چیئرمین تھے اور وزارتِ دفاع میں تخلیق کیے جانے والے ایک نئے عہدے کے ہیڈ بھی ۔ بپن راوت کی موت سے نریندر مودی اور بھارتی ملٹری کے لیے کئی بحران پیدا ہُوئے ہیں اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔

مودی جی کو اس کا خاصا قلق ہے۔ بپن راوت کے بعد یہ عہدہ ختم نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اب اسے مستقل حیثیت دی جا رہی ہے؛ چنانچہ بھارتی فوج میں کئی جرنیل اس عہدے کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ۔ اس عہدے کو پانے والے کئی اُمیدوار میدان میں آ چکے ہیں ۔ اس عہدے کی بڑی دھاک بھی ہے اور اس کا اثرو رسوخ اور دائرۂ کار بھی خاصا وسیع ہے۔ اس لیے لا محالہ طور پر ہر بھارتی جرنیل کی فطری خواہش ہے کہ وہ اس عہدے کو حاصل کر سکے ۔

لیکن کیا ’’سی ڈی ایس‘‘ کا یہ عہدہ پانے کے لیے بھارتی فوج میں سینئر ترین جرنیل ہونا ضروری ہے ؟ نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے۔ کئی بھارتی جرنیل اس سے اتفاق نہیں کر پارہے۔ ایک سابق بھارتی آرمی چیف، شنکر رائے چوہدری، دبنگ اور غیر مبہم لہجے میں یہ کہتے سنائی دیے ہیں کہ ’’سی ڈی ایس‘‘ کا یہ عہدہ پانے کے لیے کسی سینئر  ترین جرنیل کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لیے لازم یہ ہے کہ کوئی جرنیل بھارتی وزیر اعظم کو کتنا مرغوب اور محبوب ہے۔ یہ خالصتاً ذاتی پسند اور ناپسند کا فیصلہ ہے ۔ اس کے لیے میرٹ ضروری ہے نہ لیاقت و قابلیت ۔ نیا ’’چیف آف ڈیفنس اسٹاف‘‘ وہی بنے گا جسے پیا چاہیں گے اور پیا یعنی وزیر اعظم نریندر مودی کی نظریں اس بارے میں متلاشی ہیں۔

شنکر رائے چوہدری ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کو انٹررویو دیتے ہُوئے کہتے ہیں: ’’ جب بپن راوت کو حکومت نے براہِ راست پہلا سی ڈی ایس چُنا تھا تو کیا وہ بھارتی فوج کے سینئر ترین جرنیل تھے ؟ ہرگز نہیں۔اب مگر یہ اصول طے پاجانا چاہیے کہ سی ڈی ایس کے چناؤ کے لیے بنیادی اور لازم شرائط کیا ہوں؟ اور یہ بھی کہ نیوی اور ایئر فورس سے بھی افسروں کا انتخاب اس عہدے کے لیے کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔‘‘

یوں تو اس عہدے کے لیے ، فطری طور پر، کئی اُمیدوار میدان میں ہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ بھارتی فوج کے موجودہ سربراہ، جنرل ایم ایم نروانے، اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں ۔ جنرل نروانے کسی پروانے کی طرح ’’سی ڈی ایس‘‘ کے پُرکشش عہدے کی شمع کے گرد دیوانہ وار گردش کررہے ہیں۔ جنرل نروانے کے علاوہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ(ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری) اور انڈین نیوی کے سربراہ( ایڈمرل آر ہری کمار) بھی دوڑ میں برابر کے شریک ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل نروانے اپریل2022میں ریٹائر ہو رہے ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل بپن راوت کا سی ڈی ایس بناتے وقت خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ ( 1) جنرل بپن راوت پاکستان بارے کیا خیالات رکھتے ہیں ؟(2) بپن راوت نے چین کو کتنا اور کہاں تک ٹف ٹائم دیے رکھا ؟ (3) چین اور بھارت کی باہمی عسکری کشمکش میں بپن راوت کی قیادت میں بھارتی فوج کو کہاں تک کامیابیاں ملتی رہی ہیں ؟ (4) امریکی ڈیفنس معاملات کو وہ کہاں تک اور کتنی گہرائی تک جانتے پہچانتے ہیں؟اور اب جب کہ جنرل بپن راوت مستقل طور پر منظر سے ہٹ چکے ہیں، بھارتی اسٹیبلشمنٹ نئے ’’سی ڈی ایس‘‘ کے انتخاب سے قبل ایسے بھارتی جرنیل کی تلاش و جستجو میں ہیں جس میں مذکورہ یہ تمام خوبیاں اور اوصاف بدرجہ اتم پائے جاتے ہوں۔

بھارتی فوج میں نئے عہدے کی یہ دوڑ نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو کب یہ خوبیاں اور اوصاف کس نئے بھارتی جرنیل کی شخصیت میں ملتے ہیں؟ معروف بھارتی جریدے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نے مگر خبر دی ہے کہ جب تک نئے ’’سی ڈی ایس‘‘ کا فیصلہ نہیں ہوتا، پہلے کی طرح جنرل نروانے ہی ’’چیئرمین آف دی چیفس آف اسٹاف کمیٹی‘‘ کا عہدہ سنبھالے رہیں گے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔