ملکی سیاسی منظر نامہ

ایڈیٹوریل  منگل 28 دسمبر 2021
پاک بھارت پالیسیوں پر بھی نظر ثانی پر ایک اصولی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

پاک بھارت پالیسیوں پر بھی نظر ثانی پر ایک اصولی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی سیاست شدید اعصابی جنگ کی حالت میں ہے۔ بیان بازی عروج پر ہے ،کچھ روز قبل سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور ن لیگ کے مرکزی رہنما نے ایک نجی چینل کو بیان میں انکشاف کیا تھا کہ سیاسی صورت حال میں ایک بڑا واقعہ ہونے والا ہے، انھوں نے قیاس آرائی کی کہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ بیان روز آتے ہیں، اسی سے ملتی جلتی خبروں نے عوام سے سیاسی معقولیت کے اظہارکی طاقت چھین لی ہے۔

عوام روز نئی نئی افواہوں ، خبروں اور تجزیوں پر اعتبار اورکسی اطلاع کی صداقت پر اعتبارکرنے کے لیے تیار بھی نہیں ہوتے۔ صحافت کے ایک معتبر دانشور مارشل میکلوہن نے ایک بارکہا تھا کہ جرنلزم اپنی توسیع اور طاقت کے باعث عوام کی دلچسپی سلب کرکے انھیں سنی سنائی باتوں سے بیزار و لاتعلق کر دے گی، وہ گونگے ، بہرے بن کر سیاسی زندگی کے رحم و کرم پر مجبور ہونگے ، پتا نہیں ملکی سیاست نے وہ ناخوشگوار ہدف پا لیا ہے یا نہیں؟ تاہم ڈیل اور سیاسی گٹھ جوڑ کی روایتی معروضیت و واقعیت قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ فیک نیوز، سوشل میڈیا نے اقدار بدل دی ہیں، دیگر صحافتی نفاستیں جنھیں سیاست ، صحافت، اخلاقیات ، اقتصادیات و سماجیات کا زیور سمجھا جاتا تھا ، موجودہ سیاسی کلچر نے تیز ہواؤں کی نذرکردی ہیں۔

قوم ذہنی طور پر ایک بے سمتی کا شکار ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست کی مرکزیت ڈسٹرب ہے ، حکومت اقتصادی دباؤکا شکار جب کہ معاشی صورتحال کو مختلف عناصر کے دباؤ، حکمت عملی، پالیسیوں اور طے شدہ اہداف کی تکمیل سے مشکلات کا سامنا ہے۔

سیاسی ماحول کو مربوط ریاستی اور حکومتی اقدامات کے تسلسل کی ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے۔ اسے سیاسی ، معاشی اور سماجی سسٹم کو متحرک رکھنے میں مشکل درپیش ہے، ایک بے ہنگم سماجی ماحول نے عوام کو بے یقینی کی دھند کے حوالے کردیا ہے۔ سیاسی رہنما سیاسی لہر سے لاتعلق ہیں، بڑی سیاسی جماعتیں ایک انتخابی موسم کے انتظار میں ہیں، انھیں منشور، انتخابی گہما گہمی اور ووٹرز سے قریبی رابطے کے فقدان نے ابلاغ سے محروم کردیا ہے۔

پارٹی کارکنوں کو وہ سیاسی فضا بھی میسر نہیں جو ایک سبک رو سیاست کی ضرورت ہوتی ہے، بددلی ، مایوسی ، بیروزگاری غربت اور مہنگائی نے پوری سیاسی تہذیبی بساط کو الٹ پلٹ کردیا ہے۔ ایک اقتصادی دانشور نے کہا ہے کہ جب اقتصادی طور پر عوام کو کوئی مربوط پالیسی اور ایک غیر مبہم معاشی منظر نامہ نظر نہ آئے تو انھیں ایک اجتماعی بے یقینی گھیر لیتی ہے، ان کے لیے افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کا دوسرا راستہ نہیں، ملکی صورتحال ایک لتھڑے ہوئے سیاسی نظام کی تصویرکشی کرتی ہے جسے وہ حکومتی عناصر سنبھالے ہوئے ہیں، جنھیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے۔

ملک کے فہمیدہ افراد کو تشویش اس سسٹم سے ہے جو عوام کو معاشی انحطاط کے سدباب کے لیے بے بس نظر آتا ہے، اقتصادی و معاشی حالات کس کے بس میں ہیں، کون عوام کی فوڈ سیکیورٹی کے بارے میں فکرمند ہے اور اس کے پاس اختیار اور محکمہ جاتی طاقت بھی ہوکہ عوام کو مصائب سے بچا سکے، عوام کو روزگار اور مہنگائی سے بچانے کے لیے اقدام کرنے پر تیار بھی ہے۔

معاشی مبصرین نے ہاتھ اوپر اٹھا دیے ہیں، ایک اقتصادی ماہر نے جنھیں حکومت ابتدائی دنوں میں معیشت اور مالیات کی بہتری کے لیے لائے تھی ان کا ایک اخبار میں ایک بیان شایع ہوا کہ تکنیکی طور پر انھوں نے محسوس کیا ہے کہ ملک میں وہ صورتحال نہیں جو بتائی جارہی ہے۔ اس مبصر نے کہا میرے اندازے کے مطابق اکاؤنٹنگ کی اصطلاح میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، لیکن حکام حقیقت نہیں بتا رہے، جو بھی آتا ہے وہ عوام سے کہتا ہے کہ کمرکس لو مہنگائی کا ایک اور ریلا آنے والا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت سے کسی کا ہاتھ نہیں ہٹا ، اداروں کی پالیسی 20روز کی نہیں 20 سال کی ہوتی ہے ، کوئی عقل کا اندھا اگر یہ سوچ رہا ہے کہ کسی ایک شخص کی پالیسی ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہے۔

ادارے کی پالیسی ہوتی ہے، اداروں کے تھنک ٹینک طویل المدتی پالیسی بناتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حکومت کے تعلقات بالکل ٹھیک ہیں، نواز شریف واپس آنا چاہیں تو 24 گھنٹوں میں ویزا اور اپنی جیب سے ٹکٹ دوں گا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی نے کم ووٹ نہیں لیے۔ میں سندھ کے 7 روزہ دورے پر آؤں گا، لوگوں کی تکالیف کو خود کم کروں گا، مراد علی شاہ سے کہوں گا کہ مرکز کے ساتھ مل کرکام کریں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے۔

مشیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا ہے کہ عوام مزید مہنگائی کے لیے کمر کس لیں۔ ساڑھے تین سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپسی کا ترمیمی فنانس بل منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل بھی فنانس بل کے ساتھ اسمبلی میں پیش ہوگا۔ مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ 12 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ میں چھٹا جائزہ پیش ہوگا ، اس سے پہلے پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پوری کردے گا۔

ذرایع کے مطابق آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قرض کی قسط ترمیمی فنانس بل سے مشروط ہے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ ترمیمی فنانس بل اسمبلی سے پاس کرانا ضروری ہے لہٰذا ترمیمی فنانس بل آرڈیننس سے نافذ نہیں ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ معاشی مسائل کا حل کوئی پیش نہیں کرتا لیکن عوام کے دل کی دھڑکن تیز کرنے والے بیانات کی وہ پٹاری جلد کھول لیتے ہیں، کبھی کوئی کہتا ہے کہ گیس کے ذخائر ختم ہونے والے ہیں ، عوام کوئی اور ایندھن اور توانائی کی عادت ڈال لیں ، حکمران ساڑھے تین سال کی مدت گزرنے کے باوجود عوام کو یہ نہیں بتا سکے کہ ان کے اب تک کے اقدامات ، پروگرام اور پالیسیوں کے حوصلہ افزا نتائج عوام کو مسائل سے نکالنے میں کامیاب رہے، ملک میں کوئی صنعتی پالیسی نہیں آئی، جس سے صنعتی ترقی کے پھیلاؤ میں مدد ملتی۔

ایک بھی ایسا صنعتی ادارہ قائم نہیں کیا گیا جو پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا نعم البدل ثابت ہوتا، حکومت نے کبھی نہیں بتایا کہ کون سی پالیسی اختیار کی گئی جس کے تحت انڈسٹریز کو فائدہ پہنچانے والے اداروں میں تبدیل کرکے ملکی خزانے کو بیمار صنعتوں کے روگ سے چھٹکارا دلایا گیا، اقتصادی طور پر عوام کو عارضی اور خیراتی اقدامات سے فائدہ دینے کے جتن کیے گئے، اب بوٹی بھنگ کی کاشت کے لیے حکومت نئی منصوبہ بندی کررہی ہے، کل وہ چرس اور ہیروئن کے فوائد سے متعلق نئی تحقیق سے قوم کو آگاہ کرے گی۔

حکومت نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن ایسی بے ہنگم پالیسیوں کے تحت منعقد کرائے اور شدید مشکلات دیکھیں ، بدنامی کا سامنا کیا، لیکن ان بلدیاتی انتخابات سے بھی سبق نہیں سیکھا، اب پنجاب کے بلدیاتی معرکے کا انتظار اسی مہم جوئی اور بے جا خود اعتمادی کے ساتھ کرنے جا رہے ہیں۔

خارجہ پالیسی کے موضوع پر ماہرین افغانستان کی مشکل ترین صورتحال پر خبر دارکرچکے ہیں ، حکومت عالمی برادری کو افغانستان کے ممکنہ انسانی سانحہ اور مالی و غذائی بحران کی سنگینی سے متعلق حقائق کا حوالہ دے رہے ہیں لیکن عالمی برادری اور یورپی ممالک طالبان پر اعتبارکرنے کے لیے نامعلوم بالاتر قوتوں کا انتظار کر رہے ہیں، حالانکہ ملک کے جید تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ خود افغانستان کے ہاتھ میں ہے۔

طالبان اپنے طرز عمل، پالیسیوں اور داخلی سماجی و سیاسی نظام کی اصلاح کریں ، خواتین اور بچیوں کی تعلیم اور سماجی آزادی کا یقین دلائیں، رسوم اور سخت پابندیوں میں نرمی لانے کا عندیہ دیں تو دنیا ان کی طرف توجہ دینے پر مجبور ہوگی، لیکن طالبان اسٹک اینڈ ڈیگر Stick and daggerکی پالیسی سے ہٹنے پر تیار نہیں، اس طرح تو نہیں ہوتا اس طرح کے کاموں میں۔ دوسری طرف حکومت سعودی عرب ، یمن ، ایران اور مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال کا ادراک کرے۔

عالم اسلام کو جن خطرات اور مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے کیا طریقے اور حکمت عملی نافذ کی گئی۔ پاک بھارت پالیسیوں پر بھی نظر ثانی پر ایک اصولی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے، عوام جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نتیجہ خیز دیکھنے کے منتظر ہیں، یہ اطلاع دل شکن اور غمزدہ کرنے والی ہے کہ کشمیرکا ذکرکرنے کی طاقت بھی اب ہم سے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں چھین لی گئی، خدا کرے یہ تاثر اور افواہ غلط ہو، ہمیں ملکی سیاست کے منظر نامہ کو حقائق کے شفاف آئینہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔