مصر میں حنوط شدہ 3ہزارسال پرانی ممی کو ڈیجیٹل طریقے سے کھول دیا گیا

ویب ڈیسک  منگل 28 دسمبر 2021
جدید ترین ڈیجیٹل تھری ڈی کا استعمال کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی

جدید ترین ڈیجیٹل تھری ڈی کا استعمال کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی

قاہرہ: مصر میں 3 ہزار سال پرانی مشہور حنوط شدہ امین ہوٹیپ اول کی ممی کو ڈیجیٹل طور پر ’کھول‘ دیا گیا، 1881 میں دریافت ہونے کے بعد اس کے ماسک کو ہٹایا نہیں گیا لیکن اب پہلی مرتبہ اس کے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جارہا ہے۔

جدید ترین ڈیجیٹل تھری ڈی کے ذریعے محققین نے 1525 سے 1504 قبل مسیح تک حکمرانی کرنے والے فرعون کے لیے استعمال ہونے والی ممی بنانے کی نئی تکنیکوں کا پتا لگایا ہے۔

مزیدپڑھیں: مصر سے دریافت ہونے والی چار ہزار سال پرانی ممی کا معمہ حل

وزارت سیاحت اور نوادرات نے ایک بیان میں کہا کہ اس تحقیق کی قیادت قاہرہ یونیورسٹی میں ریڈیولوجی کے پروفیسر سحر سلیم اور معروف مصری ماہر زاہی حواس نے کی۔

انہوں نے بتایا کہ سحر سلیم اور زاہی حواس نے اعلی درجے کی ایکس رے ٹیکنالوجی، سی ٹی اسکیننگ کے ساتھ ایمن ہوٹیپ کی ممی کو ڈیجیٹل طور پر کھولنے کے لیے جدید کمپیوٹر سوفٹ ویئر پروگرامز کا استعمال کیا جس میں ممی کو چھونے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مصر سے 2500 سال قدیم ممی کے مزید 13 تابوت برآمد

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ بادشاہ امین ہوٹیپ اول کا چہرہ، ان کی عمر، صحت کی حالت، ممی کی منفرد ممی بنانے اور دوبارہ دفنانے کے بارے میں بہت سے رازوں انکشاف ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امن ہوٹیپ پہلا فرعون تھا جسے بازوؤں سے ممی بنایا گیا تھا اور آخری فرعون تھا جس کا دماغ کھوپڑی سے نہیں نکالا گیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔