سوبھوگیان چندانی؛ ایسے لوگ اب کہاں

زاہدہ حنا  بدھ 29 دسمبر 2021
zahedahina@gmail.com

[email protected]

چند دنوں پہلے انجمن ترقی پسند مصنفین اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے پاکستان کے عظیم سپوت اور انقلابی دانشور سوبھو گیان چندانی کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

میری خوش نصیبی تھی کہ مجھے بھی اس یادگار محفل میں اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ صحت کے بعض مسائل کے باعث میں اس سیمینار میں شریک نہ ہوسکی جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔ کامریڈ سوبھو جیسی عظیم، ہمہ جہت ، علمی اور سیاسی شخصیت کے بارے میں جتنا بھی لکھا اورکہا جائے کم ہے۔کامریڈ سوبھوکی زندگی ان لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر انسانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا راستہ اختیارکرنا چاہتے ہیں۔

سوبھو لاڑکانہ کے ایک گاؤں بندی میں 3 مئی 1920کو پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے حوالے سے ہمارے معروف دانشور، شاعر اور مصنف مسلم شمیم اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’کامریڈ سوبھو گیان چندانی کا سلسلہ درس روایت کے مطابق ان کے اپنے گھر سے شروع ہوا اور انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے دادا پرتھ داس سے حاصل کی تھی۔ جنھوں نے سندھی حروف تہجی، فارسی الف بے اور گورمکھی کی شد بد کم عمری میں ہی کرادی تھی۔

گرنتھ صاحب اور رامائن کے بعض منتخب اشلوک بھی ورد کرا دیے تھے۔ پانچ سال کی عمر (1925) میں جب وہ بگھی نامی گاؤں کے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں اپنے بڑے بھائی کیول رام کے ساتھ داخل کیے گئے تو انھیں بہت سی باتوں میں اپنے ہم سبقوں پر فوقیت حاصل تھی یہ اسکول گاؤں بندی سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ پرائمری تعلیم کی تکمیل کے بعد انھیں اور ان کے بڑے بھائی کیول رام کو لاڑکانہ ضلع کے تعلقہ شہر قمبر کے اے۔ وی ہائی اسکول میں (1929) میں داخل کرادیا گیا تھا ، جو ماضی قریب سے نئے ضلع شہداد کوٹ کا صدرمقام ہے۔

ابھی قمبر کے اسکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری تھا کہ ہیڈ ماسٹر روچی رام شاہانی سبک دوش ہوگئے جو ایک شفیق اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ان کی جگہ علی گڑھ یونیورسٹی کے تربیت یافتہ ایک ایسے استاد کا تقرر ہوا جن کی سخت گیری کی شہرت ان سے پہلے اسکول پہنچ گئی تھی۔

چنانچہ کامریڈ سوبھو کے بزرگوں نے قمبر ہائی اسکول سے لاڑکانہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں ان کا تبادلہ کرالیا۔ قمبر کے اسکول سے انھوں نے انگریزی کی چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ ہائی اسکول لاڑکانہ کے قیام کے دوران میں انھوںنے انگریزی کی استعداد خاصی مضبوط کرلی تھی۔ جب لاڑکانہ گورنمنٹ اسکول کے ہیڈ ماسٹر کرم چند ہنگورانی کا تبادلہ لاڑکانہ سے این جے وی ہائی اسکول کراچی ہوا تو وہ سوبھو گیان چندانی کو بھی اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔

اس زمانے میں این جے وی ہائی اسکول کراچی ہی نہیں پورے سندھ کی بہترین درس گاہ شمار ہوتا تھا۔ جہاں بہترین صلاحیت رکھنے والے طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرتے تھے۔این جے وی اسکول کراچی کا دور ان کی زندگی کا سب سے اہم دور رہا ہے۔

اس دور سے ان کی شخصیت کی تعمیر اور نکھارکا آغاز ہوا اور ان کی کردار سازی کی بنیاد پڑی۔ انھوں نے این جے وی اسکول کراچی سے 1937 میں میٹرک اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد ج سوبھو گیان چندانی نے ڈی جے سندھ کالج کے شعبہ فنون میں داخلہ لیا۔ انٹر پاس کرنے کے بعد 1939 میں انھیں شانتی نکیتن میں داخلہ ملا۔‘‘

سوبھو صاحب کی ایک بڑی خوش نصیبی یہ تھی کہ میٹرک کے بعد انھیں رابندر ناتھ ٹیگور کے سائے میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی شانتی نکیتن میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان بھر میں گرو دیو ٹیگور کے نام کی دھوم تھی۔ ان کی نظموں کا انگریزی ترجمہ ڈبلیو بی ایٹس کرچکے تھے اور ٹیگورکو ادب کا نوبیل انعام مل چکا تھا۔ ’ گیتا نجلی‘ بیسویں صدی کی دوسری دہائی سے ہندوستان کے رومان پرست اور آدرش وادی نوجوانوں کے لیے بائبل کی حیثیت رکھتی تھی۔ سوبھو بھی ان کے عاشق تھے اور پندرہ برس کی عمر میں ان کی چند نظموں کا سندھی میں ترجمہ کرچکے تھے۔ انھوں نے گرودیو پر ایک مضمون لکھا تھا جو 1939 میں ان کے کالج کے سالانہ میگزین میں شایع ہوا تھا۔

کلکتہ یقینا کراچی سے اور سندھ سے بہت دور تھا، اسی لیے جب انھوں نے شانتی نکیتن جاکر پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو گھروالوں نے بہت مخالفت کی لیکن آخرکار انھیں نوجوان اور پُرجوش سوبھو کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ سوبھو شانتی نکیتن گئے۔ وہاں انھوں نے گرو دیو ٹیگور سے فیض حاصل کیا۔ سوشلسٹ تحریکوں سے جڑے، ترقی پسند تحریک نے ان کے خیالات کو مہمیز کیا۔ جوش ، فیض ، مخدوم ، پریم چند ،کرشن چندر اور سجاد ظہیر کی تحریروںسے متاثر ہوئے۔ شانتی نکیتن میں تین برس گزار کر جب وہ گھرلوٹے تو سیاسی شعور، انقلابی خیالات اور جوش و جذبے سے بھرے ہوئے ایک ایسے نوجوان تھے جو دنیا کو بدل دینے کی خواہش سے بے تاب تھا۔

وہ اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی طلبہ تحریک میں سرگرم رہے، شانتی نکیتن سے لوٹے تو انقلابی سیاست ان کے لہو میں گردش کررہی تھی۔ اگست 1942 میں ’’ہندوستان چھوڑ دو ‘‘ کا نعرہ بلند ہوا تو  سندھ میں سوبھو گیان چندانی اور ان کے رفقاء نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ ، سکھر، شکارپور اور دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں یہ تحریک ایک آگ کی طرح پھیل گئی اور تحریک کے لیڈر ایک ایک کرکے گرفتارہوئے۔

تحریک اس قدر توانا تھی کہ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں کی جیلیں کم وبیش چار پانچ ہزار طالب علموں سے بھر گئیں۔ سوبھوگیان چندانی طلباء تحریک کی قیادت کے سلسلے میں کبھی یہاں ہوتے ، کبھی وہاں، پولیس جگہ جگہ ان کی بو سونگھتی پھرتی تھی لیکن یہ کوئی نہ کوئی بھیس بدل کر بچ کر  نکل جانے میںکامیاب ہوجاتے تھے، لیکن جب طلباء پر پولیس تشدد انتہا کو پہنچ گیا تو سوبھو نے 25 جنوری 1943ء کی صبح میٹھا رام ہوسٹل کراچی کے ٹینس کورٹ میں تقریرکی اورگرفتاری دے دی۔ ان کے ساتھ طلباء کے ایک بڑے جتھے نے بھی اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔ سوبھوکی یہ پہلی جیل یاترا جولائی 1944 تک جاری رہی۔

شیخ ایاز نے کامریڈ سوبھوکے بارے میں لکھا تھا ’’سوبھوگیان چندانی جیسی آزاد طبیعت اور گہری صداقت کی حامل کوئی دوسری شخصیت میں نے نہیں دیکھی ہے۔ وہ ایک پہاڑ کی طرح اٹل شخص ہے جسے کوئی آندھی ، کوئی طوفان ڈانوا ڈول نہیں کرسکتا۔ نہ جانے ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو اپنی چھاتی کے زخموں کی بہار سجا کر سر کو بلند رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور طرح طرح کے مظالم سے دلیرانہ طور پر نبردآزما چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس جنگ میں دشمنوں سے لڑتے لڑتے لہولہان ہوکر اس مٹی کا رزق بن جاتے ہیں جس کے وقارکے تحفظ کے لیے انھیں اپنی جان کی بھی پروا نہیں ہوتی۔‘‘

سوبھوگیان چندانی نوجوانی سے ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں سرگرم رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پارٹی کی پولٹ بیوروکے سب سے کم عمر رکن ہوا کرتے تھے۔ بہت سے قارئین کو معلوم نہیں ہوگا کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کی پر زور حمایت کی تھی ۔ نوجوان سوبھو بھی سرخ جھنڈا اٹھائے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگاتے اور تقریریں کیا کرتے تھے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان بنانے کی تحریک میں ان کا بھی حصہ تھا۔ پاکستان تو بن گیا لیکن اس کے بعد ، اس ملک کے بنانے والوں کے ساتھ کیا ہوا وہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

جناح صاحب کے معالج کی باتیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کو غدار تک کہنا۔ حسین شہید سہروردی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سب کے علم میں ہے، خواجہ ناظم الدین جیسے شریف اور نفیس انسان کی جس طرح توہین کی گئی ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سائیں جی ایم سید کو آخری سانس تک غدار کہا گیا جن کی وجہ سے سندھ اسمبلی میں سب سے پہلے پاکستان کی حمایت میں قرار داد منظورکی گئی تھی۔ سوبھو اور ان جیسے ان گنت لوگوں نے ملک کو ایک جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا۔ ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔

سوبھوگیان چندانی کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ نامساعد ترین حالات کے باوجود وہ اپنی سرزمین سے جڑے رہے۔ ان کی عظمت کا اعتراف بالآخر سب کو بھی کرنا پڑا۔ انھیں 2004 میںاکادمی ادیبات پاکستان کی طرف سے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’کمال فن‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔ وہ 8دسمبر 2014 کی دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی راکھ اس سندھو دریا کے سپرد کی گئی جن کے عشق میں وہ آخری سانس تک گرفتار رہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔