میونسپلٹی یا بلدیہ کیا ہے؟

زبیر رحمٰن  جمعرات 30 دسمبر 2021
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

ویسے تو آج سے 7000 سال قبل موئن جو دڑو کے عوام اپنے سارے مسائل خود انحصاری کی بنیاد پر حل کرتے اور ضروریات زندگی کو رواں دواں رکھتے تھے۔

موئن جو دڑو کی دریافت پر جان مارشل اور یوسف شاہین نے جو تحقیق کی ہے، اس میں سہولیات زندگی اور ضروریات زندگی کی ساری چیزیں مہیا ہوتی تھیں لیکن طبقاتی نظام ناپید تھا۔ موئن جو دڑو کی کھدائی کے بعد وہاں سے کوئی محل ، مندر ، اسلحہ ، توپ، جنگی ساز و سامان، ہتھیار یا مذہبی پوجا پاٹ کرنے کے کوئی نمونے نہیں ملے۔ یعنی مقامی بنیادوں پر وہ سب مل کر پیداوار کرتے تھے اور ضرورت کے اعتبار سے تقسیم کرلیتے تھے۔

وہ نہ کسی پر حملہ آور ہوئے اور نہ کسی نے ان پر حملہ کیا۔ موئن جو دڑو کی کھدائی سے ایک ڈانسنگ گرل کا مجسمہ ملا ہے، عراق ، شام اور مصر سندھیانی یا موسیلنی کے کپڑے برآمد کرتے تھے۔ آپس میں سب کمیون کی بنیاد پرکارہائے زندگی کو رواں رکھتے تھے۔ 18 ویں صدی میں مقامی اور علاقائی بنیادوں پر منتخب نمایندوں پر مشتمل میونسپل کمیٹیاں بنائی جاتی تھیں اور وہ اپنے علاقے کی تعلیم ، صحت ، فراہمی آب ، نکاسی آب ، شہروں کا بنیادی ڈھانچہ ، ترقیاتی منصوبے ، عام پولیس اور ٹریفک پولیس کے انتظام سنبھالتے تھے۔

وہ مرکزیت کی نفی اور مقامی بنیادوں پر مقامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے مسائل کو حل کرتے تھے۔ ان میونسپل کمیٹیوں کو تمام مندرجہ بالا اختیارکل حاصل ہوتا تھا۔ اس سے قبل قرون وسطیٰ اور ازمنہ وسطیٰ میں شہری حکومتیں ہوا کرتی تھیں اور وہ بھی مقامی بنیادوں پر چلائی جاتی تھیں۔

جب بادشاہت اور فاتحین نے مرکزیت کی بنیاد رکھی تو ہمہ وقت خلفشار ، انتشار ، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا راج تھا۔ کامریڈ پیترکروپوتکن نے درست کہا تھا کہ اسلحہ فاتحین پیدا کرتے ہیں اور فاتحین قتل کرتے ہیں، قبضہ کرتے ہیں اور ریپ کرتے ہیں۔ اس بادشاہت کا خاتمہ پہلی بار وائٹر روسو سے متاثر ہو کر انقلاب فرانس برپا ہوا۔ یقینا یہ انقلاب کوئی غیر طبقاتی یا کثرت سے اکثریت کی بھلائی کا انقلاب نہیں تھا۔ مساوات ، آزادی اور برابری کے نعرے صرف 10 فیصد بورژوازی کے لیے تھا۔ ہاں مگر بادشاہت کا انتہائی ظالمانہ جبر کا دور ختم ہوا۔

دنیا میں مزدوروں کا پہلا انقلاب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 1871 میں برپا ہوا۔ وہاں مزدوروں نے کمیون نظام تشکیل دیا۔ اس لیے یہ انقلاب پیرس کمیون کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 70 دن تک قائم اس کمیون میں نہ کوئی بھوکا مرا، بے روزگار رہا، اغوا ہوا، ریپ ہوا، گداگری ہوئی یا مہنگائی رہی۔ سارے لوگ مل کر کام کرتے اور پیداوار ہر ایک کو ضرورت کے لحاظ سے تقسیم کر دی جاتی تھی۔ کمیون بنیادی طور پر میونسپلٹی کمیٹیوں پر مشتمل تھی۔

فیڈریشن کا تصور بھی 1871 میں منظر عام پر آیا۔ میونسپلٹیوں کے نمایندوں پر مشتمل فیڈریشن تشکیل پایا ، مگر یہ فیڈریشن صرف رابطے کے لیے تھی۔ فیصلے وہی ہوتے تھے جو مقامی بلدیہ کے نمایندے پیش کرتے تھے ، مگر آج بورژوازی دور میں بلدیاتی نظام ایک مردہ گھوڑا ہے اور فیڈریشن نے اپنی مرکزیت قائم کرکے اختیارکل کی آمریت حاصل کرلی ہے۔

پاکستان میں بلدیاتی نظام اور منتخب نمایندوں کو اختیارکل دے دیا جائے تو کم ازکم 50 فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اب اس بلدیاتی انتخابات میں خواہ کوئی بھی جماعت ، آزاد یا انجمن جیت کرکیوں نہ آئے ان بلدیاتی اداروں کو تعلیم کا مکمل اختیار دے دیا جائے تو وہ تعلیمی بجٹ مختص کریں گے اور ہر علاقے میں تعلیمی ادارے کھلتے جائیں گے۔ اسی طرح صحت کے محکمے میں اختیار دیا جائے تو ہر محلے میں میٹرنٹی ہوم، اسپتال، ڈسپنسری اور مڈوائف محلے کے عوام کی خدمت کرسکتی ہیں۔ پولیس کو بھی اگر مقامی بنیادوں پر اختیار دیا جائے تو جرائم میں خاصی حد تک کمی آسکتی ہے۔

ٹریفک پولیس کے نظام کو رشوت کی بجائے خدمت کے کام میں لیا جاسکتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ وہاں اگر ان کی کارکردگی میں کوئی بددیانتی ہوئی تو صوبائی یا مرکزی حکومت اس کا سدباب کرسکتی ہے، لیکن رپورٹنگ مقامی لوگوں سے لینا ضروری قرار دینا ہوگا۔

اب کے پی کے، کے بعد سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور اس بات کی کوشش ہوکہ امیدواروں کی تعداد مرد و عورت محنت کشوں، پیداواری قوتوں کی زیادہ ہو۔ اب کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات ہوگئے۔ خواہ انجینئرڈ ہوں یا پری پلان یا منصفانہ، جو بھی جیتا ہے اسے مکمل اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں بھی ہونا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔