قومی سلامتی پالیسی… ایک جائزہ

مزمل سہروردی  جمعـء 31 دسمبر 2021
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

حکومت نئی قومی سلامتی پالیسی کا بہت کریڈٹ لینے کی کوشش کررہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے پہلی قومی سلامتی کی پالیسی دی ہے۔ اس نئی قومی سلامتی پالیسی کے خدو خال ابھی عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی یہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی گئی ہے تا ہم اس کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے گئے ہیں۔ واہ واہ کی گردان شروع ہو چکی ہے۔ اب یہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ قومی سلامتی کی پالیسی  جسے میں نے دیکھا ہے اور نہ ہی پڑھا ہے، میں اس کی تعریف کیسے بیان کرسکتا ہوں۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پہلی دفعہ قومی سلامتی کو معیشت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جب تک معیشت مضبوط نہیں ہو گی تب تک قومی سلامتی بھی محفوظ نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اس پالیسی میں ملکی معیشت اور اقوام عالم کے ساتھ معاشی تعلقات کو اہمیت دی گئی ہے۔ بلکہ کہا جا رہا ہے کہ اس کو اب بنیادی نقطہ کی حیثیت حا صل ہو گی، اس کو جیواکانومی کہا جا رہا ہے۔ ایسے جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ مار لیا گیا ہو۔

اب جیسے کہ میں نے لکھا ہے کہ یہ قومی پالیسی کا مسودہ ابھی حکومت کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے، حکومتی ارکان اسمبلی بھی اس سے ناواقف ہیں، میں نے ایک وزیر سے بات کی ہے اس نے بھی اس کے خدو خال اور پوائنٹس بتانے کے بجائے اس کی تعریفوں پر ہی ٹائم ضایع کر دیا۔ جب میں نے اصرار کیا تو اس نے کہا، تھوڑا انتظار کر لو چند دن میں سب کے سامنے آجائے گی۔

میں چپ کر گیا۔ اپوزیشن کو بھی کچھ علم نہیں۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا ۔ جس کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا تھا۔ اس اجلاس کے بعد جب ایک حکومتی خاتون رکن باہر آئیں اور ان سے اجلاس کے بارے میں سوال ہو اتھا تو انھوں نے کہا، کمرے سے نکلتے وقت بجلی کے بلب بند کر دیا کریں، رات کو گیزر بند کر دیا کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ یہ کلپ بہت وائرل ہوا۔ اب اگر یہ قومی سلامتی پالیسی کی پالیسی ہے تو اﷲ ہی حافظ ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس خاتون رکن نے استعاروں میں واضح کردیا ہے کہ کچھ نہیں ہے یا انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا ہے۔

میں حیران ہوں ایک طرف حکومت  ملکی تاریخ کی پہلی قومی سلامتی پالیسی بنانے کا کریڈٹ بھی لے رہی ہے۔ دوسری طرف یہی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کر رہی ہے جس سے حکومت پاکستان کا اپنے ہی اسٹیٹ بینک پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ جب ہم آئی ا یم ایف کی ڈکٹیشن لینے کو تیار ہیں، ہم نے اپنے ہی اسٹیٹ بینک کو غیروں کو دے دیا ہے، ہمارا اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے احکامات کے تابع ہے اور پھر مزے کی بات دیکھیں حکومت قومی سلامتی کی پالیسی بنانے کا کریڈٹ لے رہی ہے۔

موجودہ حکومت نے اپنے ملک کی کرنسی پر کنٹرول پر بھی ختم کر دیا ہے۔ ہم نے آئی ایم ایف کو لکھ کر دے دیا ہے کہ ہم روپے کی قدر میں کمی اور زیادہ ہونے پر کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ روپے کی قدر روز گرتی ہے اور حکومت ایک خاموشی تماشائی بن کر دیکھتی رہتی ہے۔ اب اگر ہمارا اپنے ملک کی کرنسی پر ہی کنٹرول نہیں رہا اور ہم یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی بنا لی ہے تو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ اللہ خیر ہی کرے۔ اگر بغیر کسی قومی سلامتی کی پالیسی کے اس حکومت نے یہ کر دیا ہے تو قومی سلامتی کی پالیسی کے بعد کیا کرے گی۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف بھی بہت کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھوں نے پاکستان کو پہلی قومی سلامتی کی پالیسی دے دی ہے۔ ایسا منظر نامہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے یہ قومی سلامتی کی پالیسی نہ ہوئی کوئی جادو ٹونا ہوگیا، جس سے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ حالات کچھ بھی ہوں، ہماری قومی سلامتی کے معاملات ایسے ہاتھوں میں ہونے چاہیے جن کا جینا مرنا پاکستان ہو۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے جس میں عوام کو بھی اسٹیک ہولڈر بنایا گیا ہے۔ کیا یہ عوا م کے ساتھ مذاق نہیں۔ یہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر پاکستان کی عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈ ال رہی ہے اور کہہ رہی کہ اس نے ایک قومی سلامتی کی پالیسی بنائی ہے جس میں عوا م اسٹیک ہولڈر ہیں۔ بجلی اور گیس بیرونی دباؤ پر مہنگی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ عوام اسٹیک ہولڈر بنا د یے گئے ہیں۔ سود کی شرح بڑھائی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عوام کو اسٹیک ہولڈر بنا دیا گیا ہے۔

یہ کیسی قومی سلامتی کی پالیسی ہے کہ چین ہم سے نارض ہے۔ امریکا ہم سے ناراض ہے۔ معید یوسف کے امریکی دورے ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں لائے۔عرب ہمیں پاکستان میں ہونے والی او آئی سی کے اجلاس میں کشمیر پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ فیٹف سے ہم نہیں نکل سکے۔ ہم نے حافظ سعید کو سزائیں دے دیں لیکن ہم فیٹف سے نہیں نکل سکے۔ افغانستان جس کے لیے ہم نے پوری دنیا کو ناراض کر دیا ہے وہاں سے بھی کوئی اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ سرحد پر لگی باڑ اکھاڑی جا رہی ہے۔ اس باڑ پر پاکستان کے اربوں روپے لگے ہیں۔ کیسے طالبان قیادت سرحد کو عارضی لکیر کہہ سکتی ہے۔

اگر کوئی اچھا مضمون لکھنے سے اچھی قومی سلامتی پالیسی بن جاتی ہے تو پھر کیا ہی بات ہے۔ اگر کوئی اچھا پیپر لکھنے سے قومی سلامتی پالیسی بن سکتی ہے تو پھر  بات قابل فہم ہے۔ لیکن اگر قومی سلامتی پالیسی کو عملی اقدامات کے تناظر میں دیکھنا ہو تو پھرجو نظر آرہا ہے وہ کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ عالمی تنہائی اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کی ذمے داری موجودہ حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے اور وہ کوئی نئی قومی سلامتی کی پالیسی بنا کر اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔