شکست سے خود احتسابی تک

ایم جے گوہر  جمعـء 31 دسمبر 2021
فوٹوفائل

فوٹوفائل

جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے جسے آسان اور سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے عوام کی حکومت۔ جمہوری طرز حکمرانی میں تمام فیصلے کرنے کا اختیار کسی فرد واحد کے پاس نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمایندوں کے پاس ہوتا ہے۔

جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں اول بلاواسطہ جمہوریت، دوم بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہو سکتی ہے جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور عوام الناس کا کسی ایک مخصوص جگہ پر جمع ہو کر عوامی مسائل کے حوالے سے غور و فکر کرنا ممکن ہوسکے۔

اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کے شہری علاقوں میں تھی اور موجودہ دور میں یہ طرز جمہوریت سوئٹزر لینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔ چونکہ جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا کسی ایک منتخب جگہ پر جمع ہو کر عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی اپنی آرا کا اظہار کرنا ممکن نہیں ، اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمایندگی پر رکھی گئی ہے جس میں رائے دہندگی کے ذریعے عوام اپنے نمایندوں کو منتخب کرلیتے ہیں جو اپنے ووٹروں کی جانب سے ریاستی امور سرانجام دیتے ہیں اور لوگوں کے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔

دنیا بھر کے مہذب جمہوری معاشروں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ملکی سطح پر مضبوط جمہوری و پارلیمانی نظام کی بنیاد وہاں کا فعال، مربوط، مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام قرار دیا جاتا ہے۔

بلدیاتی نظام حکومت کی ایک مستند تعریف کے مطابق ’’ مقامی حکومت سے مراد ایسا ادارہ ہے جو اپنے محدود اور معین علاقے میں اختیارات کے تعین اور ان کو روبہ عمل لا کر عام یا خاص ضرورتوں کو پورا کرے اور حکومت کے مقابلے میں کم اختیارات رکھتا ہو۔‘‘ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اور کامیابی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہاں نچلی سطح پر رائج مقامی حکومتوں کا نظام کس قدر توانا، شفاف اور بااختیار ہے۔

نیز عوام کے مسائل کے حل میں وہ نظام کس قدر موثر ہے اور لوگ اس نظام کی کارکردگی سے کتنے مطمئن ہیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں سات دہائیاں گزرنے کے باوجود صوبائی اور وفاقی سطح پر جمہوریت ہی اپنی جڑیں مستحکم نہ کرسکی تو بلدیاتی نظام کے تسلسل کا اونٹ کیوں کر اور کیسے کسی کروٹ بیٹھ سکتا تھا۔ ان 70 برسوں میں نصف کے قریب آمریت کی نذر ہو گیا اور ملک بھی دو لخت ہوا۔

سیاسی رہنماؤں کے عاقبت نااندیش و غیر حکیمانہ طرز عمل کے باعث جمہوریت کی بساط پر آمریت کے مہرے اپنی چالیں بدلتے رہے اور ملک جمہوریت و آمریت کے درمیان پنڈولم بنا رہا۔ اسی طرح بلدیاتی ادارے بھی کبھی فعال اورکبھی غیر فعال رہے۔ ان کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی رہی نتیجتاً عوام کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ برسر اقتدار آنے والے ہر جمہوری و غیر جمہوری حاکم وقت نے بلدیاتی نظام میں اپنی خواہشوں کی ملاوٹ سے نت نئے تجربات کیے۔

ایوب خان کی بنیادی جمہوریت کے تجربے سے لے کر موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے خیبرپختونخوا میں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام تک کئی اتار چڑھاؤ سے گزرنے والا یہ نظام ابھی تک کسی ایک کروٹ نہیں بیٹھ سکا۔ شومئی قسمت دیکھیے کہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیاسی جماعتیں اور ان کے اکابرین اپنے دور حکومت میں نیک نیتی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کرانے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔

پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح بلدیاتی انتخابات سے فرار کی راہ پر گامزن رہی۔ تاہم ملک کی عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق مجبور ہو کر پی ٹی آئی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالنا پڑا۔

بلدیاتی انتخابات ہوں یا ضمنی انتخابات قومی سیاسی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ صوبائی اور وفاقی ہر دو سطح پر برسر اقتدار جماعتوں کو ہی فتح نصیب ہوتی ہے۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں اول عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ حکمراں جماعت کے پاس ہی سارے اختیارات ، وسائل اور اکثریت ہے۔

دوم ، ضمنی و بلدیاتی ہر دو انتخابات میں حکمران جماعت کے نمایندوں کو ہی منتخب کیا جائے تاکہ ان کے مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔ پی ٹی آئی کی حکومت گزشتہ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے سے برسر اقتدار ہے۔

وفاق ، پنجاب اور کے پی کے میں پورے اختیارات اور وسائل کے ساتھ عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ کے پی کے میں تقریباً آٹھ سال سے بلاشرکت غیرے حکمراں ہے ، لیکن حیرت انگیز طور پر گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سرکاری وسائل اور اختیارات رکھنے کے باوجود پی ٹی آئی کو تقریباً تمام ضمنی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص پنجاب میں جہاں مسلم لیگ (ق) بھی پی ٹی آئی کی مضبوط اتحادی ہے، ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا پلہ بھاری رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاونین، مشیران اور وزرائے کرام کی فوج ظفر موج (ن) لیگ کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کرپشن کی بڑی بڑی کہانیاں سناتے رہے، کڑے احتساب کے نعرے لگاتے رہے اور قومی دولت لوٹنے والوں کو انجام تک پہنچانے اور ملکی دولت واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرانے کے دعوے اور وعدے کرتے رہے لیکن عوام نے حکمرانوں پر بھروسہ نہ کیا اور ضمنی انتخابات میں (ن) لیگ کو کامیاب کروا کے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے رہے۔

وہ غم و غصہ کیا ہے؟ عوام پر مسلط ہونے والا سب سے بڑا عذاب مہنگائی کا سونامی، غربت و بے روزگاری میں اضافہ، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کہ غریب آدمی روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے سے قاصر اور خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ معیشت کا برا حال ہے، قرضوں کا بار بڑھ رہا ہے، آئی ایم ایف کے شکنجے کے باعث منی بجٹ لانے کی خبریں آ رہی ہیں۔ ان حالات میں عوام کا غم و غصہ فطری ہے جو قابل فہم ہے۔

عوام کا یہی غم و غصہ کے پی کے، کے بلدیاتی انتخابات میں بھی چھایا رہا۔ جہاں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے مخالف مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی (ف) نے حیران کن طور پر بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی۔

مولانا نے اپنی جیت کا کریڈٹ پی ٹی آئی اور طاقتور حلقوں کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں اور ان کی عدم مداخلت کو قرار دیا جب کہ وزرائے پی ٹی آئی کہتے ہیں کہ مہنگائی اور پی ٹی آئی کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے ہمیں ہار ہوئی ، جب کہ وزیر اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ ہم نے غلطیاں کیں اور خمیازہ بھگتا کہ ہم نے غلط امیدواروں کا انتخاب کیا۔

آیندہ مرحلے کے انتخابات کی نگرانی خود کروں گا اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں فتح کے لیے حکمت عملی خود بناؤں گا، کے پی کے میں شکست کے بعد عمران خان نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کے تمام صوبائی صدور کو تبدیل کردیا ہے، پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، اسد عمر مرکزی جنرل سیکریٹری بن گئے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اپنے گھر کے پی کے میں شکست پی ٹی آئی کے زوال کا آغاز ہے۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور وزیر اعلیٰ بزدار کا ’’کلین سویپ‘‘ کا دعویٰ نقش برآب ثابت ہوگا۔

آیندہ کامیابی کے حصول کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا شکست کے اسباب کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا ہوگا، وہ اقتدار سے قبل عوام سے کیے وعدوں اور دعوؤں کی روشنی میں اپنی ساڑھے تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیں کہ انھوں نے عوام کو کیا دیا؟ کہ جواب میں عوام انھیں دوبارہ اقتدارکی کرسی پر بٹھا دیں۔۔۔۔!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔