بنگلادیش میں خواتین اور بچوں کیلیے مختص ساحلی پٹی کو ختم کردیا گیا

ویب ڈیسک  جمعـء 31 دسمبر 2021
بدھ کو خواتین کے خصوصی حصے کا افتتاح کیا گیا تھا، فوٹو: فائل

بدھ کو خواتین کے خصوصی حصے کا افتتاح کیا گیا تھا، فوٹو: فائل

ڈھاکا: بنگلا دیش کے مرکزی سیاحتی مقام پر خواتین اور بچوں کے لیے ایک ساحلی پٹی مختص کی گئی تھی تاکہ وہ آزادی سے اور بلا خوف و خطر لطف اندوز ہوں تاہم اب وہ ساحلی پٹی ختم کرکے مردوں کو بھی اس حصے میں جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک روز قبل ہی کاکس بازار کے حکام نے بنگلادیش میں دنیا کے سب سے طویل قدرتی سمندری ساحل کے ایک حصے کو صرف خواتین اور بچوں کے لیے مختص کرنے کا افتتاح کیا گیا تھا۔

ساحل پر خواتین اور بچوں کے لیے مختص علاقے کو جنگلے سے گھیرا گیا تھا اور مردوں کو اس حصے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ اقدام باحجاب خواتین کی درخواست پر اُٹھایا گیا تھا۔

ان خواتین کا مؤقف تھا کہ وہ ایک پُرہجوم مقام پر شرم محسوس کرتی ہیں اور خود کو محفوظ بھی تصور نہیں کرتیں اس لیے ساحل پر ایک ایسا حصہ ہونا چاہیئے جہاں صرف عورتیں اور بچے ہوں۔

تاہم اس حصے کے افتتاح کے چند گھنٹوں بعد ہی سوشل میڈیا پر اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کو شدت پسند اسلامی ملک بنایا جا رہا ہے اور کچھ نے اس اقدام کو طالبانائزیشن قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر تنقید اور عوامی دباؤ پر کاکس کے حکام نے فیصلہ واپس لیتے ہوئے خواتین اور بچوں کے لیے مختص حصے کو ختم کردیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کاکس بازار میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعے نے شہر بھر میں خواتین کے تحفظ پر کھلبلی مچادی تھی اور خواتین کے لیے الگ تفریحی مقامات کے مطالبات زور پکڑنے لگے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔