عالمی یومِ کوہسار اور صحابی رسولؓ کے مزار پر حاضری

ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری  اتوار 9 جنوری 2022
جام پور میں سجنے والے ایک شان دار سیاحتی میلے کا تذکرہ ۔ فوٹو : فائل

جام پور میں سجنے والے ایک شان دار سیاحتی میلے کا تذکرہ ۔ فوٹو : فائل

11 دسمبر کا دن ہر سال عالمی سطح پر پہاڑوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں پہاڑوں کے حوالے سے سیمینار، کانفرنسز، نمائشیں اور سیاحتی دورے منعقد کیے جاتے ہیں جن کا مقصد پہاڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی بقاء کی ضمانت دینا ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں یہ دن زیادہ شدومد سے منایا جا رہا ہے۔ عوام میں اس دن کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے جس کا کریڈٹ پاکستان کے کوہ پیماؤں سمیت حکومت اور سیاحتی تنظیموں کو بھی جاتا ہے۔

وسیب ایکسپلورر سرائیکی خِطے کی وہ نمائندہ سیاحتی تنظیم ہے جس نے وسیب میں نت نئی جگہیں کھوج کہ نہ صرف انہیں عوام کے سامنے رکھا بلکہ وہاں بہت سی ریلیاں و تقریبات منعقد کر کے ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ بھی دیا جس سے ان جگہوں کو شناخت اور وہاں کے مقامیوں کو روزگار ملا۔

سال 2021 کا عالمی یومِ کوہسار اس تنظیم کی طرف سے جام پور اور اس سے ملحقہ کوہ سلیمان کے خطے پچادھ میں منایا گیا۔

جام پور ہی کیوں؟یہ سوال بہت سے لوگوں نے کیا۔

میرا جواب ہے کہ جام پور یا کوہِ سلیمان کیوں نہیں؟؟؟

اگر آپ سوات، گلگت، مکران و چترال کے پہاڑوں کو پسند کرتے ہیں تو آپ جام پور کے پہاڑوں میں بھی سکون پائیں گے۔ انسان اگر متجسس ہے اور فطرت کے حسین نظاروں اور رازوں کی کھوج کی جستجو کرتا ہے تو اسے ہر اس جگہ جانا چاہیے جو کم دریافت شدہ ہے، جہاں کے پیڑ ابھی گرد آلود ہیں، جہاں کے پہاڑوں پر پڑنے والی دھوپ ابھی نرم ہے، جہاں بہتے جھرنوں میں ابھی ملاوٹ نہیں ہوئی اور جہاں کے لوگوں کا خلوص ابھی شہد جیسا ہے۔

اور جام پور سمیت خطہ پچادھ ایسی ہی ایک جگہ ہے۔

جام پور؛پنجاب کے جنوب مغرب میں واقع آخری ضلع راجن پور کی سب سے بڑی تحصیل جام پور، دریائے سندھ کے مغربی کنارے واقع ہے۔ اس کی لوکیشن بھی کافی بہترین ہے جہاں ایک جانب سندھو بہتا ہے تو دوسری جانب کوہ سلیمان کے بلند پہاڑ اور رودکوہیاں ہیں وہیں تیسری جانب سرسبز میدان۔ ایک طرف قلعہ ہڑند کا تاریخی مقام ہے تو ایک طرف ڈیمس گیٹ اور شاہی مسجد جیسی تاریخی عمارات ہیں۔

جام پور رقبے کے لحاظ سے اس خطے کی سب سے بڑی تحصیل ہے جہاں اس بار ملک بھر اور خصوصاً پنجاب سے آئے سیاحوں اور کوہ نوردوں نے ڈیرے ڈالے اور اہلیانِ جام پور کی میزبانی سے لطف اندوز ہوئے۔

پہاڑوں کے دن پر ہماری منزل کوہِ سلیمان میں درہ کاہا کا وہ علاقہ تھا جہاں صحابی حضرت سہل بن عدی انصاری کا مرقد مبارک تھا۔ یوں یہ سفر صرف مہم جوئی و دل جوئی کے لیے نہیں تھا بلکہ اس میں عقیدت، خلوص اور محبت بھی شامل تھی۔

تمام مہمان 10 دسمبر بروز جمعہ کو جام پور میں اکٹھے ہوئے جہاں جام پور مانومنٹ پر جام پور رائیڈرز اور ملک ہاشم صاحب کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ گروپ فوٹو کے بعد انڈس ہائی وے کی مشہور ہوٹل سدا بہار پر تمام شرکاء کو چائے پیش کی گئی جس کی لذت یہاں کے لوگوں کے خلوص کی غمازی کر رہی تھی۔

یہاں ایک مزے کا واقعہ ہوا۔ ریلی کو آتا دیکھ بہت سے شہری جمع ہو گئے۔ چند سادہ لوح مزدور میرے پاس آئے اور سرائیکی میں پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ کوئی جلسہ ہے کیا ابھی تو الیکشن دور ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ایک ایونٹ ہے سیاحت کا۔ تو وہ بولے کہ اتنے سب لوگ یہاں کیا دیکھنے آئے ہیں؟

میں نے جواب دیا ”پہاڑ۔”

پھر پوچھا گیا کہ کیا سب کی ایک جیسی گاڑیاں (بائیکس) حکومت کی طرف سے دی گئی ہیں؟؟

تو میں نے انہیں تفصیل سے بتایا کہ یہ ایک سیاحتی قافلہ ہے جس میں شوقین لوگ اپنی اپنی بائیکس پر سوار ہو کر شامل ہو رہے ہیں اور اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں اور وہ یہ سن کر حیران ہو گئے کہ اتنے دوردراز شہر میں ہیوی بائیکس پر سوار سیکڑوں افراد کا یہ قافلہ صرف اپنے شوق کی تسکین کے لیے یہاں موجود ہے۔

اس کے بعد بائیکس اور کاروں نے جام پور شہر کا چکر لگایا اور مغرب تک ہم اسپورٹس کمپلیکس پہنچ گئے۔

شام کو اسپورٹس کمپلیکس میں راجہ عبدالرزاق اور ان کی ٹیم کی طرف سے پھولوں کی پتیوں سے بھر پور استقبال کیا گیا جس کے بعد بائیکس پارک کر کے تمام شرکاء نے اپنے بستر لگائے نماز ادا کی اور کچھ دیر آرام کیا۔

رات کو نو بجے کے قریب تقریب تقسیمِ انعامات شروع ہوئی جسے جناب کاشف بخاری اور ڈاکٹر مزمل حسین نے ہوسٹ کیا۔

ملک بھر سے آئے سیاحوں، لکھاریوں، فوٹوگرافروں سمیت جام پور کے معززین کو جام پور بائیکرز اور وسیب ایکسپلورر کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر ملک فاروق احمد، حاجی اکرم قریشی، ڈاکٹر واصف اقبال اور جناب سردار شریف خان لنڈ تھے۔ آخر میں راقم سمیت دیگر سیاحوں کو جناب راجہ عبدالرزاق کی جانب سے میڈلز پہنائے گئے۔

رات کے کھانے کے بعد احباب گپ شپ کرتے نظر آئے اور کچھ سو گئے۔

اگلی صبح بہت سے جوان فجر کے وقت اٹھ بیٹھے۔ سب نے اپنی نماز ادا کی اور پیکنگ شروع کر دی۔ محترم طاہر جونیئر جو پاکستان کے مشہور اسکاؤٹ ہیں، نے ہال کا کچرہ جمع کر کے ایک شاپر میں ڈالا اور تلف کیا۔

جناب عمران اخگر اور علی قریشی بھائی نے شرکاء کو ناشتہ کروایا۔

جام پور کی سوغات میں سے ایک ”لال چنے” ہیں جو ہمیں ناشتے میں پیش کیے گئے جس نے ناشتے کا مزہ دوبالا کر دیا۔

معلوم ہواکہ اسے لالڑی چنے بھی کہا جاتا ہے۔ ایک سو سال سے بھی قدیم اس سوغات کوکروڑ لعل عیسن کی وجہ سے لالڑی کہا جاتا ہے۔

گتے اور شاپر کے آنے سے پہلے انہیں پیپل کے پتے پہ رکھ کے پیش کیا جاتا تھا۔

بغیر گھی کے بنائے جانے والی اس سوغات میں لال رنگ شامل کیا جاتا ہے جس سے یہ لال نظر آتے ہیں جبکہ لوگ پہلی نظر میں انہیں بہت تیکھا سمجھتے ہیں۔

اس کا ذائقہ بہت تیکھا تو نہیں ہے لیکن اس میں شامل ہری مرچ اور پیاز اسے اور لذیز بناتی ہے۔جام پور کی دوسری سوغات یہاں کے لوگوں کی مخلصی اور محبت ہے۔ ویسے تو وسیب کے تمام علاقے مہمان نوازی اور محبت میں ایک سے بڑھ کے ایک ہیں لیکن کوہ سلیمان و پچادھ کے لوگ ایک قدم آگے ہیں۔ انتہائی ہنس مکھ اور محبت کرنے والے۔

ناشتے سے فارغ ہو کر بائیکس سٹارٹ کی گئیں اور ایک لائن میں قافلہ جام پور سے داجل کے لیے نکلا۔

داجل؛داجل تحصیل جام پور کے مغرب میں ایک بڑا قصبہ ہے جس کے کھیر پیڑے بہت مشہور ہیں۔

اس کے نام کے پیچھے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک داؤد نامی شخص اس جگہ آیا تھا جہاں ایک جال نامی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا اور یہیں بس گیا۔ اس کے بعد ایک ایک کرکے لوگ یہاں آباد ہوتے گئے اور اس طرح ایک بستی وجود میں آگئی جس کا نام اس پہلے آنے والے شخص اور درخت کے نام پر رکھ دیا یعنی ” داؤد جال”۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام مختصر ہو کر “داؤجل” پڑ گیا اور آج یہ داجل ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے درہ کاہا سلطان، ہڑند اور ماڑی کو راستے جاتے ہیں۔

داجل میں جناب افضل شاہین، شکیل جان و ابوبکر مجاہد لالہ کی جانب سے شہر کی گزرگاہوں پر شان دار استقبال کے بعد یہ قافلہ لنڈی سیداں اور ہڑند سے ہو کر درہ کاہا سلطان سے ذرا پہلے رکا۔ یہاں اتر کر سواریوں کو ترتیب سے لگایا گیا اور شرکاء نے قومی ترانہ پڑھا۔ سرائیکی جھومر کے بعد قافلہ آگے بڑھا اور درہ کاہا کی پہاڑ کے قریب بنی پارکنگ پر جا رکا۔

درہ کاہا و پچادھ؛وطنِ عزیز کو اللہ پاک نے ایک دو نہیں بلکہ کئی سارے پہاڑی سلسلوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک ”کوہ سلیمان” بھی ہے جو ملک کے بالکل وسط میں شمالی و شمال مشرقی بلوچستان اور جنوب مغربی پنجاب کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔

کوہِ سلیمان کے اس علاقے کو ”پچادھ” بھی کہا جاتا ہے۔ پچادھ سرائیکی زبان میں مغربی سمت یا علاقے کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ پہاڑی سلسلہ ضلع راجن پور و ڈیرہ غازی خان کے مغرب میں واقع ہے اس لیے مقامی اسے ’’پچادھ‘‘ ہی کہتے ہیں۔

دوسرے پہاڑی سلسوں کی طرح کوہِ سلیمان میں بھی مختلف درے (پہاڑوں کے بیچ موجود راستے) موجود ہیں جن میں سے ایک ”درہ کاہا سلطان” ہے۔

کاہا یا کہا، کوہِ سلیمان میں بہنے والی ایک رودکوہی ہے جسے آپ ایک بڑی ندی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ندی ضلع راجن پور کے مغرب میں دور تک پھیلی ہوئی ہے جس کی کچھ شاخیں بلوچستان تک چلی جاتی ہیں۔

اس ندی کے کنارے موجود راستے قدیم دور سے ہی مقامی چرواہوں اور قافلوں کی گزرگاہوں کے طور پہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔

بارشوں کے موسم میں یہ نالہ کوہ سلیمان، داجل، ہڑند اور اطراف کے دیگر علاقوں میں اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے۔

چوںکہ اس نالے کا گزر پہاڑوں کے بیچ موجود درے سے ہوتا ہے، اس مناسبت سے اسے درہ کاہا کا نام دیا گیا ہے۔اسی درے سے گزر کہ ہم صحابی حضرت سہل بن عدی انصاری رض کے مرقد مبارک تک پہنچتے ہیں۔

یہ خطہ اپنی زرخیزی میں لاجواب ہے اور ایک زمانے میں پورے علاقے میں اناج (گندم، چنا، مکئی، جوار، باجرا) اسی خطے سے ترسیل ہوتا تھا۔ ساتھ ہی کچھ روایتی پھل (بیر، کھجور، پیلوں) بھی وافر مقدار میں ملتے تھے۔

حضرت سہل بن عدی انصاری رض؛اگر میں کہوں کہ یہ مقام ہی وہ جگہ تھی جس کی وجہ سے کئی لوگ دور دراز سے یہاں کھنچے چلے آئے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

بہت سے صحابہ کرام رض نے دور دراز علاقوں سمیت برصغیر کی طرف جہاد، تبلیغ اور تجارتی غرض سے سفر کیا تھا۔ انہی میں سے ایک حضرت سہل بن عدی رض بھی تھے جو پاکستان میں مدفون ہیں۔حضور پاکﷺ کے اصحاب رض کی برصغیر میں آمد کے حوالے سے مختلف تعداد بتائی جاتی ہے۔ زیادہ تر روایات میں یہ تعداد 25 بتائی گئی ہے جن میں سے 12 حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں آئے تھے۔

سید محمد سفیان گنگوہی کی کتاب ”حضرت محمدﷺ اور صحابہ کرام رض کے مبارک اسفار” کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بارہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہندوستان تشریف لائے، جن کے مبارک نام یہ ہیں:

(1) حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ، انہوں نے ارض ہند میں تین معرکے کیے حضرت عثمان بن ابو العاص الثقفی رضی اللہ عنہ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف کا والی مقرر فرمایا تھا۔

(2) حضرت حکم بن ابوالعاص الثقفی رضی اللہ عنہ، انہوں نے تھانہ اور بہرائچ فتح کیا۔

(3) حضرت مغیرہ بن ابوالعاص الثقف رضی اللہ عنہ، انہوں نے دبیل فتح کیا۔ یہ تینوں سگے بھائی تھے۔

(4) حضرت ربیع بن زیاد مذحجی رضی اللہ عنہ، انہوں نے کرمان مکران میں جہاد کیا۔

(5) حضرت حکم بن عمرو بن مجدع ثعلبی رضی اللہ عنہ فاتح مکران۔

(6) حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان انصاری رضی اللہ عنہ فتح مکران میں شامل ہوئے۔

(7) حضرت سہل بن عدی بن مالک خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ فتح مکران میں شامل ہوئے۔

((8 حضرت شہاب بن مخارق بن شہاب تمیمی یامازنی رضی اللہ عنہ، یہ مدرک ہیں، فتح مکران میں شامل ہوئے۔

(9) حضرت صحاربن عباس عبدی رضی اللہ عنہ فتح مکران میں میں شامل ہوئے۔

(10) حضرت عاصم بن عمرتمیمی رضی اللہ عنہ، انہوں نے نواحی سندھ اور سجستان کے علاقے فتح کیے۔

(11) حضرت عبداللہ بن عمیر اشجی رضی اللہ عنہ، انہوں نے بعض بلادِسندھ فتح کیے۔

(12) حضرت نسیر بن دیسم بن ثور عجلی رضی اللہ عنہیہ مخضرم تھے، انہوں نے بلوچستان کے بعض علاقے فتح کیے۔

حضرت سہل بن عدی خزرجی انصاری رض کا تعلق انصارِ مدینہ کی ایک شاخ قبیلہ خزرج سے تھا۔ یہ قبیلہ یمن سے ہجرت کرکے مدینہ میں آباد ہوا تھا۔ بنو خزرج کے 6 افراد سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ ابن اثیر کے مطابق آپ نے غزوہ بدر میں بھی حصہ لیا تھا۔

اس طرح پاکستان میں مدفون صحابہ کرامؓ میں آپ واحد بدری صحابی ہیں۔ آپ کے دو بھائی حضرت ثابت بن عدی رض اور حضرت عبدالرحمٰن بن عدی رض بھی شرفِ صحابیت سے بہرہ ور تھے۔ حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ اور آپ کے برادران نے غزوہ احد میں بھی حصہ لیا تھا۔ صحابہ کرامؓ میں آپ کا ایک ممتاز رتبہ تھا۔

حضرت عمر رضی اللّہ عنہ کے دورِخلافت میں خلیفہ سوم نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رض کو خط لکھا کہ حضرت سہل کو مکران کا والی مقرر کیا جائے۔ یوں اس خطے میں آپ کی آمد ہوئی اور آپ مکران و کیچ گئے اور اس کے گردونواح کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر علی محمد اپنی کتاب ”حضرت عمر بن خطابؓ شخصیت اور کارنامے” میں رقم طراز ہیں؛

” 23 ہجری میں حضرت سہل بن عدی رض کرمان کی مہم پر گئے اور اسے فتح کیا۔ کچھ کے نزدیک کرمان کو حضرت عدباللہ بن بدیل رض نے فتح کیا۔

23 ہجری میں ہی حکم بن عمرو رض کی قیادت میں مکران فتح ہوا۔ حضرت سہل بن عدی اور عبد اللہ بن عبداللہ بن عتبان رض بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔ سب نے متحد ہو کر شاہ سندھ کے خلاف محاذآرائی کی اور فتح یاب ہوئے۔”

تاریخ ابنِ کثیر میں بھی الفاظ کے ردوبدل کے ساتھ یہی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔

شاہ معین الدین کی تالیف کردہ ”تاریخِ اسلام” کے مطابق؛

کرمان کی مہم سہل بن عدی کے متعلق تھی۔ فارس کے بعد کرمان کا صوبہ سامنے تھا۔ چناںچہ 23 ہجری میں سہیل بن عمرو نے کرمان پر چڑھائی کی۔

مزارشریف کے راستے میں ایک چار پانچ فٹ کے پتھر پر عربی، ہندی اور ایک نامعلوم رسم الخط میں کچھ عبارات کندہ بھی گئی ہیں۔

انگریز مصنف ”ایچ اے روز” 1883 کی سینسس رپورٹ برائے پنجاب سے اقتباس کرتا ہے کہ قلعہ ہڑند سے پانچ میل کے فاصلے پر درہ کاہا میں پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک ساتھی کا مزار ہے جہاں عیدالاضحی کے موقع پر زائرین کا خوب رش دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرت سہل بن عدی رض اس علاقے میں آئے اور اسے فتح کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس کے بعد آپ کو کیا معاملات درپیش رہے، اس بارے کوئی تاریخی حوالہ دست یاب نہیں۔

آپ کے مزار کی بات کریں تو جام پور سے براستہ داجل اور لنڈی سیداں ایک راستہ پچادھ کے اس علاقے تک جاتا ہے جہاں کاہا ندی کے کنارے کوہِ سلیمان میں درہ کاہا واقع ہے۔

یہاں آپ کار اور موٹر سائیکل تک جا سکتے ہیں جب کہ پارکنگ کی سہولت اور ایک دیسی کینٹین بھی موجود ہے۔ یہاں سے آپ کا پیدل سفر شروع ہوتا ہے جس میں آپ بہترین نظارے دیکھ سکتے ہیں۔ پارکنگ سے مزارشریف تک سوا دو کلومیٹر فاصلہ طے کرنے میں کم از کم پونا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

پتھریلے راستوں، ریتیلے میدانوں اور دو پہاڑیوں سے ہوکر آپ کو دور سے ہی قبر مبارک اور اس کے گرد کی دیوار نظر آ جاتی ہے۔ قریب جانے پر ایک مسجد اور چھوٹا سا پتھریلا قبرستان بھی دکھائی دیتا ہے۔

پتھروں کی ایک درمیانی چاردیواری کے بیچوں بیچ قبر کا تعویز ایک بڑے چبوترے پر واقع ہے جس کے ایک جانب پر دو کتبے لگے ہیں۔

ایک پر آپ کا نام اور وصال کا سال جب کہ دوسرے پر درج ذیل الفاظ لکھے ہیں؛

”آپ 23 ہجری مدینہ پاک سے تشریف لائے۔ آپ رض نے برصغیر کے بہت علاقے فتح کیے جن میں کیچ (موجودہ بلوچستان کا جنوبی ضلع) اور مکران وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے 27 ہجری 9 ذوالحج کو وصال پایا۔ حضرت سہل بن عدی انصاری کا ذکر مولانا اطہرمبارکپوری نے اپنی کتاب برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش میں کیا ہے۔”

یہاں تک پہنچنے کے لیے آپ جام پور سے براستہ داجل، ٹبی لنڈان جائیں اور آگے مقامیوں سے درہ کاہا کا راستہ معلوم کر لیں۔ اس راستے سے سفر کم ہے لیکن یہ راستہ بہت خراب ہے۔

دوسرا راستہ فاضل پور (ضلع راجن پور) سے نکلتا ہے جو کچھ طویل ہے لیکن سڑک کی حالت اول الذکر راستے سے بہت بہتر ہے۔ فاضل پور سے حاجی پور، میراں پور، لعل گڑھ، لنڈی سیدان، ہڑند، ٹبی لنڈان ہوتے ہوئے درہ کاہا تک راستہ جاتا ہے۔ اس راستے میں صرف ہڑند تا ٹبی لنڈان چند کلومیٹر سڑک زیر تعمیر ہے۔ باقی تمام سڑک بہتر ہے۔ یہ جگہ راجن پور سے 85 کلومیٹر اور ڈیرہ غازی خان سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ویسے تو پہاڑی چرواہے کب سے یہاں آجا رہے ہیں اور یہ جگہ موامی افراد کے علم میں بھی رہی ہے لیکن اس جگہ کو قومی سطح پر متعارف کروانے کا سہرا وسیب ایکسپلوررز کو ہی جاتا ہے اور اس ایونٹ کے بعد تو بہت سے دوست اس مقدس مقام سے واقف ہو ہی گئے ہیں۔مزار سے واپسی پر وہیں پہاڑوں کے دامن میں میزبانوں کی طرف سے لذیز کھانا پیش کیا گیا جس کے بعد شرکاء نے مختلف ٹولیاں بنائیں اور اپنے اپنے شہر کوچ کیا۔ہم نے واپسی پر قلعہ ہڑند دیکھا جس کا تفصیلی ذکر جام پور کے ایک علیحدہ مضمون میں کروں گا۔

آخر میں ڈاکٹر فیصل شہزاد، کاشف ممتاز بخاری، عمران اخگر، محمد علی قریشی، عبدالرزاق راجہ، فہیم عباس جعفری سمیت جام پور، داجل اور کاہا سلطان کے تمام میزبانوں کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اگر ان تمام بہترین لوگوں کی پُرخلوص میزبانی اور محبت نہ ہوتی تو تمام سیاح پچادھ دھرتی سے خوشیاں، یادیں اور مسکراہٹ لیے نہ لوٹتے۔ وسیب ایکسپلورر اور کراس روٹ کلب کو ایک کام یاب تقریب پر بہت بہت مبارک باد۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔