سیاحت کو آفت نہ بنائیے

محمد مشتاق ایم اے  منگل 11 جنوری 2022
سیاحتی مقامات پر حکومت کی جانب سے سہولتیں دستیاب نہیں۔ (فوٹو: فائل)

سیاحتی مقامات پر حکومت کی جانب سے سہولتیں دستیاب نہیں۔ (فوٹو: فائل)

سیاحتی ہل اسٹیشن مری میں ہفتے کو مختلف گاڑیوں کے برف میں پھنس جانے، خوراک کی کمی اور سردی کی شدت سے کم سے کم 23 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سب وہاں موسم سرما کی برف باری کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کےلیے جوق در جوق پہنچے تھے۔ صورتحال کی سنگینی کے باعث حکومت کو فوج طلب کرنی پڑی۔

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی خوبصورت مناظر سے نوازا ہے اور اس میں بہت سارے خطے جنت نظیر ہیں، جن کی دیکھنے کی خواہش ہر کوئی رکھتا ہے اور ہمارے سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کےلیے کوئی خاطر خواہ سہولت دستیاب نہ ہونے کے باوجود بھی ایک قابل ذکر تعداد گرمیوں اور سردیوں میں ان علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کی چھٹیوں میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ اپنے آبائی علاقوں سے ان سیاحتی مراکز میں جاکر اپنی ذہنی تھکن اتارتے ہیں اور چند دنوں کےلیے اپنی پریشانیوں اور روزمرہ مشکلات کو بھول جاتے ہیں۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو لوگ ان علاقوں میں بالخصوص اپنی فیملیز کے ساتھ جاتے ہیں وہ مطلوبہ سہولیات کی شدید کمی کا رونا روتے ہیں اور کئی تو یہ تہیہ کرتے ہیں کہ آج تو یہاں آگئے ہیں دوبارہ نہیں آئیں گے۔

ہماری ہر حکومت ہی اپنی پالیسی اور بیانات کی حد تک اس بات کا اعادہ کرتی رہتی ہے کہ ہم یہاں سیاحت کو فروغ دیں گے، اس کا بجٹ بڑھائیں گے اور بیرون ممالک سے لوگوں کو اپنے حسین مقامات دکھانے کے اقدامات کریں گے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت اور بالخصوص اس کے سربراہ عمران خان تو اس بات سے بخوبی واقف ہیں اور اپنی تقریروں اور بیانات میں کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ پاکستان دنیا کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے اور یہاں کئی سیاحتی مقام ہیں جن کو پروموٹ کرکے ہمارا ملک کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کرے گا کون؟ کیا صرف ہر حکمران کی طرف سے اس حوالے سے بیانات کے ٹوکرے ہی کافی ہیں یا کچھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں؟

یہاں یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ مری میں گاڑیوں کے اس طرح پھنسنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مختلف سیاحتی مقامات پر اس قسم کے درجنوں واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ ہمارے محکمہ سیاحت کو بخوبی علم ہے کہ برف باری کے موسم میں ہمارے ملک کے سیاح پاگلوں کی طرح مری اور گلیات کا رخ کرتے ہیں۔ اس طرح وہاں موجود کاروباری طبقے بھی ایسے ہی موسم کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی یہاں وارد ہو تو ہم اپنا پورے سال کا خرچ پورا کرلیں۔

گاڑیوں کے اس طرح پھنسنے میں ایک طرف تو ٹریفک کو صحیح طریقے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے اور اس کی دوسری بڑی اور اہم وجہ سیاحوں کا خود اپنی گاڑیوں کو اپنی قطار میں نہ رکھنا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑا تیر مار رہا ہے۔ لیکن جہاں سڑک پر صرف ایک گاڑی کے آنے اور دوسری کے جانے کی جگہ ہو، گویا دو رویہ لائن ہوتی ہے تو جب کوئی بھی اپنی گاڑی کو دائیں بائیں کرکے وہاں تیسری لائن بنانے میں ہیرو بننے کی کوشش کرتا ہے اسی وقت ٹریفک جام ہوجاتا ہے، کیوں کہ سامنے والی گاڑی گزرنے کا راستہ تو کوئی نہ کوئی بلاک کرچکا ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد ہر کوئی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر خود بری الذمہ ہونے کہ کوشش میں لگ جاتا ہے۔ لیکن اس رش میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں آ اور جا رہی ہوتی ہیں وہاں سے پھر کوئی کیسے نکل سکتا ہے؟

حکومتی حوالوں سے ہمارے سیاحتی مقامات پر کوئی ایسی سہولتیں دستیاب نہیں کہ وہاں آنے والے سیاحوں کو وہاں کے تاجروں کی لوٹ مار سے بچایا جاسکے اور پھر کھانے پینے کے حوالے سے وہاں کا معیار بہت خراب ہوتا ہے اور کثیر پیسے خرچ کرکے کوئی معیاری چیز نہیں ملتی۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پر حکومتی اداروں کا یا تو سرے سے کوئی کنٹرول ہی نہیں ہے اور یا پھر وہ ادارے وہاں سے اپنی جیب گرم کرکے تمام سیاحوں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سیاحتی مقامات پر مناسب تعداد میں صاف ٹوائلٹس اور واش رومز نہ ہونا ایک الگ دردِ سر ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پکنک پوائنٹس پر کوڑا دان نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے پارک اور پکنک پوائنٹس صفائی کے معاملے میں ایسے مناظر پیش کرتے ہیں کہ لگتا ہے وہ سیاحتی مقامات نہیں بلکہ شہر بھر کا کوڑا اسٹور کرنے کی جگہ ہے۔

ہمارے ملک کے اکثر سیاحتی مقامات پر اکیلی خواتین کو بالخصوص اور فیملیز کے ساتھ خواتین کو بالعموم نوجوان لڑکوں کی طرف اخلاقی قدروں کو پامال کرنے کی کئی شکایات سامنے آچکی ہیں۔ اس لیے کئی مہذب اور پردے والی فیملیز ایسی جگہوں پر جانے سے اجتناب ہی کرتی ہیں۔ اگر وہاں ایسے واقعات سے بچنے کےلیے سرکاری اداروں کی طرف سے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں تو ایک طرف وہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے اور دوسری طرف جو لوگ وہاں جائیں گے وہ اپنے وزٹ کو انجوائے کریں گے، ورنہ وہ ایک انجانے خوف کے سائے میں وقت گزار کر واپس آجائیں گے اور دوسروں کو وہاں جانے سے منع کریں گے۔ اس حوالے سے ایسے مقامات پر سیکیورٹی کے معاملات درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مری جیسے حادثات کی وجہ خواہ کوئی بھی ہو اس کی ذمے داری تو حکومت وقت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ حالیہ واقعے پر بھی وزیراعظم نے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی اور اپنے ٹویٹ میں اس واقعے پر دلی دکھ کا بھی اظہار کیا۔ لیکن کیا صرف ایسا کرنے سے معاملہ حل ہوجائے گا؟ بالکل نہیں! بلکہ اس سارے معاملے کی روشنی میں آئندہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ ایسی صورتحال ہی پیدا ہی نہ ہو۔ اس میں سب سے اہم وہاں ٹریفک کی روانی کو قائم رکھنا ہے اور جو پالیسی بنائی جائے اس پر بلا چوں و چرا عمل کو یقینی بنایا جائے۔ اگر نظر آرہا ہے کہ مری یا کوئی بھی سیاحتی، تاریخی مقام وہاں مزید گاڑیوں یا لوگوں کو ایڈجسٹ کرنے کی پوزیشن نہیں رکھتا تو ایڈوانس میں ایسے اقدامات کیے جائیں اور آگاہی پروگرام رکھے جائیں تاکہ جو لوگ گھروں میں بیٹھ کر وہاں جانے کی پلاننگ کر رہے ہیں وہ رک جائیں اور اپنے ساتھ دوسروں کی جان بھی مشکل میں نہ ڈالیں۔

آخری بات کہ حکومت کے سارے محکمے اور ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان یہ دیکھ لیں کہ ایسی صورتحال میں اور دستیاب سہولیات کی روشنی میں بیرون ممالک سے کتنے سیاح ہمارے یہ علاقے دیکھنے کےلیے پاکستان آئیں گے اور جو آ بھی گئے کیا وہ دوبارہ ادھر کا رخ کریں گے اور اپنے ساتھیوں کو یہاں آنے کا مشورہ دیں گے؟

عوام سے بھی درخواست ہے کہ ایسے موسم میں مری یا گلیات میں پہنچ کر برف باری کے نظارے کو جنت دوزخ کا مسئلہ نہ بنائیں اور اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی کا بھی خیال رکھیں۔ حکومتی اداروں کی ہدایات کو نہ صرف سنیں بلکہ ان پر عمل بھی کریں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد مشتاق ایم اے

محمد مشتاق ایم اے

بلاگر ایک کالم نگار، سیاسی، سماجی اور کاروباری تجزیہ کار ہیں۔ سیاست، مذہب، تعلیم اور دوسرے سماجی موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان ہی پر زیادہ لکھتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر آئی ڈی @MMushtaq28 پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔