نااہل افسروں کی چھانٹی، ڈائریکٹری رٹائرمنٹ رولز پر عمل کا فیصلہ

ارشاد انصاری  منگل 11 جنوری 2022
اجلاس میں بڑی وزارتوں اور ڈویژنوں کیلیے نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لینے کی تجویز- فوٹو:فائل

اجلاس میں بڑی وزارتوں اور ڈویژنوں کیلیے نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لینے کی تجویز- فوٹو:فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول بیوروکریسی سے نااہل اور نکمے بیورو کریٹس (Dead wood) چھانٹی کرنے کیلیے وزارتوں اور ڈویژنوں میں ڈائریکٹری رٹائرمنٹ رولز پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ سے وزارتوں اور ڈویژنوں میں ڈائریکٹری رٹائرمنٹ رولز پر عملدرآمد اور پیشرفت کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔ کابینہ اراکین نے اعلی سطح کی بیوروکریسی کا جدید دور کے ہائپرکائنیٹک ماحول سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کے باعث ہائبرڈ نظام قائم کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

پہلے مرحلے میں بڑی وزارتوں اور ڈویژنوں میں نجی شعبہ سے تجربہ کار ،ماہر پروفیشنل اور بہترین ٹیلنٹ بھرتی کئے جانے کا امکان ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کابینہ اراکین نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی بیوروکریسی اور بطور خاص اعلی سطح کی بیوروکریسی جدید دور کے ہائپرکائنیٹک ماحول سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں، مسائل کے بولڈ اور آؤٹ آف دی باکس حل تلاش کرنے کیلئے تارکین وطن اور نجی شعبہ سے اسپیشلسٹ اور پروفیشنلز لانے کی ضرورت ہے ۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔