غیرضروری مقدمے بازی پر ایف بی آر کو 20 ہزار روپے جرمانہ

نمائندہ ایکسپریس  اتوار 23 جنوری 2022
ایف بی آر ٹیکس دہندگان کیساتھ قانون کے مطابق شفاف انداز میں معاملات چلائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ۔(فوٹو: فائل)

ایف بی آر ٹیکس دہندگان کیساتھ قانون کے مطابق شفاف انداز میں معاملات چلائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ۔(فوٹو: فائل)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے غیر ضروری مقدمہ بازی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دو صفحات پر مشتمل فیصلہ میں قرار دیا کہ ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی بے وقت قانونی چارہ جوئی سے ٹریبونل، عدالت عالیہ،عدالت عظمی کا وقت ضائع ہوتا ہے،ایف بی آر ٹیکس دہندگان کیساتھ قانون کے مطابق شفاف انداز میں معاملات چلائے۔ قانون کے مطابق ٹیکس ادا کرنے والوں کو جو قانونی حق ملتا ہے ایف بی آر اسکوروک نہیں سکتا۔ فضول قانونی چارہ جوئی سے ایف بی آر کے وسائل غیر ضروری طور پر ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ نجی کمپنی کی خلاف ایف بی آر کی اپیل میں جاری کیا جس میں قانون کے سیکشن 66 اے کے مطابق چار سال بعد کمپنی کو نوٹس کردیا جا نا تھا تاہم ایف بی آر نے گیارہ سال بعد نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔