طالبان کی غلطیوں کی سزا بھوک و افلاس کے شکار افغان عوام کو نہ دیں؛ اقوام متحدہ

ویب ڈیسک  اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان کے منجمد اثاثوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے، فوٹو: فائل

افغانستان کے منجمد اثاثوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے، فوٹو: فائل

جنیوا: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ طالبان کی غلطیوں کی سزا بھوک و افلاس سے نبرد آزما افغان عوام کو نہ دی جائے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مسلسل دو دہائیوں کے جنگ زدہ ملک کے عوام کو غربت، بھوک، موسم کی سختی اور بیروزگاری کا سامنا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپیل کی کہ عالمی ادارے اور مغربی ممالک مجبور و لاچار عوام کے لیے افغانستان کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال کریں چاہے وہ مشروط ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ خبر پڑھیں :  افغانستان میں لاکھوں افراد بالخصوص بچوں کو فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہے، وزیراعظم عمران خان 

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان میں سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے مزید بتایا اس حوالے سے طالبان پر واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور امداد کی بحالی کے لیے ضروری ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق طالبان کو یہ بھی بتایا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف ان کی حکومت بلکہ ان کے عوام کے مفاد میں بھی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا نے افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد کردیئے تھے جب کہ عالمی تنظیموں کی جانب سے ترقیاتی کام بھی روک دیئے گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔