شہریوں کو ٹینکرز سے پانی دے کر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں، سندھ ہائیکورٹ

کورٹ رپورٹر  پير 24 جنوری 2022
ڈی ایچ اے اپنے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا؟ سندھ ہائیکورٹ

ڈی ایچ اے اپنے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا؟ سندھ ہائیکورٹ

 کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے کے مکینوں کو پانی کی عدم فراہمی کیخلاف درخواست پر ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سے جواب طلب کرلیا۔

ہائیکورٹ میں ڈی ایچ اے کے مکینوں کو پانی کی عدم فراہمی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ڈی ایچ اے کے مکینوں کو ٹیکسز کی ادائیگی کے باجود پانی خریدنا پڑتا ہے، حالانکہ ڈی ایچ اے حکام مکینوں کو پانی کی فراہمی کے پابند ہیں، لیکن عدالتی احکامات کے باجود پانی فراہمی کے اقدامات نہیں کیے گئے۔

عدالت نے ڈی ایچ اے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ اپنے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ شہریوں کو ٹینکرز کے ذریعے پانی ملتا ہے، ٹینکروں سے پانی دے کر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور فریقین کو 30 دن کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سے جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔