پاکستان سپر لیگ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا

حسنین انور  جمعرات 27 جنوری 2022
2021 کے سیزن میں پشاور زلمی رنر اپ رہی تھی
فوٹو : فائل

2021 کے سیزن میں پشاور زلمی رنر اپ رہی تھی فوٹو : فائل

پی ایس ایل سیزن 7 کا بس آغاز ہوا ہی چاہتا ہے، پاکستان کی اپنی لیگ اپنے ہی ملک میں ایک بار پھر سے جادو جگانے کو تیار ہے، کھلاڑیوں کا جوش و جنون عروج پر پہنچ چکا ہے، شائقین سنسنی خیز لمحات سے لطف اندوز ہونے کے بے تابی سے منتظر ہیں، بولرز دھاک بٹھانے کو بے چین ہیں تو بیٹرز اپنا رنگ جمانے کیلیے تیار ہیں۔

ان سب کے ساتھ ایک چھپا دشمن کورونا بھی گھات لگا کر بیٹھا ہوا ہے جس سے بچنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، گذشتہ برس میں بھی اس وائرس نے پاکستان میں ہونے والی پارٹی خراب کردی تھی جس کی وجہ سے تمام ٹیموں کو بوریا بستر باندھ کر متحدہ عرب امارات میں باقی ایونٹ مکمل کرنا پڑا تھا۔ اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلیے فول پروف انتظامات کیے ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزاؤں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے سیزن 7 کو بھی گذشتہ برس کی طرح اس بار بھی صرف 2 وینیوز کراچی اور لاہور تک ہی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ اور بات ہے کہ 2021 میں کراچی کے بعد ٹورنامنٹ کو یواے ای میں مکمل کیا گیا تھا۔ اس بارملتان سلطانز کو ٹائٹل کا دفاع کرنا ہے، وہ اس کیلیے مکمل طور پر تیار بھی ہے، لیگ کی کراچی سے ابوظبی منتقلی گذشتہ برس سلطانز کیلیے کافی فائدہ مند ہوئی تھی، آب و ہوا تبدیل ہوتے ہی اس کی پرفارمنس میں ایسا نکھار آیا تھا کہ باقی سب دیکھتے ہی رہ گئے۔

کراچی میں کھیلے گئے میچز میں سلطانز جدوجہد کرتے ہی دکھائی دیے، یہاں پر اس کو 5 میچز میں سے صرف ایک میں ہی فتح حاصل ہوئی تھی، وہ واحد ٹیم تھی جو ہدف کے تعاقب میں ناکام رہی مگر کوویڈ کے بے قابو ہونے کی وجہ سے جب ٹورنامنٹ کو ابوظبی منتقل کیا گیا تو پھر اس نے آخری 8 میں سے 7 میچز جیت کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ ٹیم کی قیادت اس بار بھی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ہاتھوں میں ہوگی۔

جنھیں آئی سی سی ٹی 20 کرکٹر آف دی ایئر قرار دے چکی ہے، ٹیم میں شان مسعود، صہیب مقصود، خوشدل شاہ، شاہنواز دھانی، رومان رئیس جیسے مقامی اسٹارز کے ساتھ ٹم ڈیوڈ، ریلی روسیو، جانسن چارلس، عمران طاہر، ڈیوڈ ویلی اور بلیسنگ موزربانی جیسے غیر ملکی پلیئرز بھی موجود ہیں۔ اس بار ٹیم کو اپنے سابق سینئر اسٹارز شاہد خان آفریدی اور سہیل تنویر کا ساتھ حاصل نہیں ہوگا، یہ اور بات ہے کہ آفریدی گذشتہ سیزن میں بھی ابوظبی میں کھیلے گئے میچز کا حصہ نہیں تھے، اس بار وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کریں گے۔

2021 کے سیزن میں پشاور زلمی رنر اپ رہی تھی، لیگ کی اب تک کی سب سے کامیاب ٹیم ہونے کے ناطے اب بھی اس کی نگاہیں ٹرافی پر ہی مرکوز ہوں گی، وہ پی ایس ایل کے 6 میں سے 4 فائنلز کھیل چکی ہے، گذشتہ برس لیگ راؤنڈ میں 10 میں سے 5 میچز جیتے تھے۔

لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کو رن ریٹ پر پیچھے چھوڑتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر کے ساتھ اختتام کیا اور پھر ایلیمینیٹر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو مات دے کر فائنل میں رسائی پائی تھی۔

جہاں پر 207 رنز ہدف کے تعاقب میں ناکام رہنے کی وجہ سے چیمپئن بننے کا موقع گنوا دیا تھا۔ گدشتہ سال زلمی پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے ہائی اسکورنگ میچ کا بھی حصہ تھی جہاں اسلام آباد یونائیٹڈ نے 2 وکٹ پر 247 رنز بنائے تھے اور جواب میں زلمی کی ٹیم 6 وکٹ پر 232 رنز بنا سکی تھی۔

قیادت بدستور وہاب ریاض کے ہاتھوں میں ہے جبکہ ٹیم کو حضرت اللہ زازئی، میٹ پارکنسن، شیفین ردرفورڈ، پیٹ براؤنڈ، ٹام کولہر کیڈمور اور بین کٹنگ جیسے غیرملکی کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہیں، حیدر علی، شعیب ملک، عثمان قادر، حسین طلعت، کامران اکمل، محمد حارث، امام الحق اور عماد بٹ جیسے مقامی اسٹارز بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ سیزن 6 کی انتہائی مضبوط ٹیم بن کر سامنے آئی تھی مگر آخر میں قسمت ایسی روٹھی کہ ٹورنامنٹ میں سفر کا اختتام تیسرے نمبر پر کرنا پڑا، لیگ مرحلے کے اختتام پر اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم نمبر ون تھی، اس نے اپنے 10 میں سے 8 میچز جیتے جبکہ باقی کوئی بھی ٹیم 5 فتوحات سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی، پلے آف میں قسمت کا پہیہ یونائیٹڈ کیلیے الٹا گھوم گیا، جہاں اسے ایلیمینیٹر میں ملتان سلطانز کے ہاتھوں شکست ہوئی اور پھر دوسرے چانس میں سامنا پشاور زلمی سے ہوا، جہاں پر وہ اہم ترین ٹاس ہار گئے، بولرز مکمل طور پر آف کلر دکھائی دیے۔

اس طرح ٹورنامنٹ کی سب سے بہترین سائیڈ لگاتار تیسرے سیزن میں فائنل کی ٹکٹ کٹوانے میں ناکام رہی۔ قیادت اس بار بھی شاداب خان کے ہی ہاتھوں میں ہوگی، کولن منرو، مرچنٹ ڈی لینگے، الیکس ہیلز، ایڈم لیتھ، پال اسٹرلنگ، رحمان اللہ گرباز اور ظاہر خان کی صورت میں غیرملکی اسٹارز کی خدمات ٹیم کو میسر ہیں، حسن علی، آصف علی، فہیم اشرف، اعظم خان اور موسیٰ خان جیسے مقامی اسٹارز بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

کراچی کنگز 2021 کے سیزن میں پلے آف میں جگہ بنانے والی چوتھی ٹیم تھی مگر پہلے کوالیفائر میں ہی اسے پشاور زلمی کے ہاتھوں 5 وکٹ کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔

لیگ راؤنڈ میں کنگز نے اپنے 10 میں سے 5 ہی میچز جیتے تھے مگر بہتر رن ریٹ کے باعث اس کو اگلے مرحلے میں رسائی کا موقع میسر آیا۔ اس بار قیادت بابر اعظم کے مضبوط ہاتھوں میں ہوگی جنھیں آئی سی سی کی ٹی 20 اور ون ڈے ٹیم آف دی ایئر دونوں کاکپتان قرار دیا جا چکا ہے، شائقین کو ان سے عمدہ پرفارمنس کے ساتھ ٹیم کو ٹائٹل تک رسائی دلانے کی بھی بہت زیادہ توقع ہوگی، انھیں جو کلارک، لیوس گریگوری، کرس جورڈن، محمد نبی اور روماریو شیفرڈ کی صورت میں غیرملکی اسٹارز کا ساتھ میسر ہے۔ عامر امین، فیصل اکرم، عماد وسیم، محمد عامر، محمد الیاس، روحیل نذیر اور شرجیل خان بھی فتوحات میں کردار ادا کرنے کیلیے موجود ہوں گے۔

لاہور قلندرز میں اس بار نیا یہ ہے کہ قیادت نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے ہاتھوں میں ہوگی، گذشتہ سیزن میں قلندرز کا اختتام ایونٹ میں پانچویں نمبر پر ہوا تھا، ٹیم کا آغاز کافی اچھا رہا تھا۔

اس نے اپنے ابتدائی 6 میں سے 5 میچز جیت لیے تھے اور پلے آف میں جگہ پانے کیلیے مزید صرف ایک فتح درکار تھی مگر قسمت روٹھ گئی، ایک تو قلندرزکو مزید کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی اور دوسرا رن ریٹ ٹورنامنٹ میں دوسرا سب سے برا ثابت ہوا جس کی وجہ سے وہ پلے آف میں جگہ پانے والی 3 ٹیموں کی طرح 10 پوائنٹس رکھنے کے باوجود رن ریٹ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ ٹیم میں فخر زمان، حارث رؤف، محمد حفیظ، عبداللہ شفیق، سید فریدون اور عاکف جاوید جیسے مقامی پلیئرز کے ساتھ راشد خان، ڈیوڈ ویزا، بین ڈنک، میتھیو پوٹس، ڈین فاکس کرافٹ اور سمت پٹیل کی صورت میں غیرملکی اسٹارز بھی موجود ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم سیزن 6 میں کافی بدقسمت ثابت ہوئی، اسے 10 میں سے صرف 2 ہی میچز میں کامیابی حاصل ہوئی، قیادت اس بار بھی سرفراز احمد کے ہاتھوں میں ہوگی، گلیڈی ایٹرز کوبین ڈکٹ، جیمز فالکنر، نوین الحق، جیسن روئے اور جیمز ونس جیسے غیرملکی پلیئرز کی خدمات حاصل ہیں۔ اس بار گلیڈی ایٹرز میں 2 انتہائی سینئر پلیئرز شاہد خان آفریدی اور سہیل تنویر بھی شامل ہیں، کپتان سرفراز کو ان دونوں کا تجربہ ٹیم کے کام آنے کی بہت زیادہ توقع ہے، عمر اکمل، عبدل بنگلزئی، افتخار احمد، محمد حسنین، محمد نواز، خرم شہزاد اور نسیم شاہ بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔