راز حیات

اقبال خورشید  جمعرات 20 فروری 2014

سرما کی سرمئی صبح جب سورج اُُگ رہا ہوتا، اور کرنیں چٹخنے لگتیں، وہ چادر میں لپٹی گھر کی دہلیز تک آتیں۔ اپنے بچوں کو اسکول وین میں سوار کرواتیں۔ جب ننھے بچے کھڑکی سے دیکھ کر ہاتھ ہلاتے، تو پرندے مسرت سے چہک اٹھتے۔ الوداع کہتے سمے ماؤں کے لبوں پر دعا ہوتی۔ اور چہرے مثل سورج دمکتے۔

جب دن گنگناتا ہوا طلوع ہوتا، تو عورتیں اپنے شوہروں کے ٹفن تیار کرنے لگتیں۔ انھیں رخصت کرتے ہوئے آنکھوں میں اُن کی واپسی کا خیال ہوتا۔ سانس امید سے لبریز ہوتا۔ اور بوڑھی عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتیں، جب اُن کی اولاد یافت کی تلاش میں گھر سے نکلنے کو ہوتی۔ وہ اُن کے لیے منتیں مانگتیں، اور وظیفے پڑھتیں۔

یہ عورتیں دن بھر منتظر رہتیں، اور جب ان کے بچے اسکولوں سے لوٹتے، شوہر واپس آ جاتے، بھائی خیر و عافیت سے گھر پہنچ جاتے، یہ کھل اٹھتیں۔ باورچی خانوں میں کھٹ پٹ ہوتی۔ سوندھی سوندھی خوشبو گھر میں پھیل جاتی۔

پر کبھی کبھی یوں ہوتا کہ ان کے پیارے لوٹ کر نہیں آتے۔ کبھی وین میں ہونے والا سلنڈر دھماکا بہانہ بن جاتا۔ کبھی کوئی اندھی گولی جواز فراہم کر دیتی۔ کبھی کوئی ٹرک تلے کچلا جاتا۔ اگر دہشت گردی کا واقعہ ہوتا، تو سانحات کے ڈھیر لگ جاتے۔ یہ المیوں کا زمانہ ہے۔ انسانی زندگی ارزاں ہو گئی۔ اموات معمولات میں رچ بس گئیں۔ اسکول وین میں ہونے والا ہر دھماکا ملک پر سوگ کی چادر تان دیتا ہے۔ کتنے ہی گھر ماتم کے اندھیرے میں ڈوب جاتے۔ پھر اجالوں کے شہر میں یومیہ قتل ہونے والوں کا تذکرہ شروع ہوتا۔ بیش تر کا تعلق مفلوک الحال طبقے سے۔ بیش تر گھر کے اکلوتے کفیل۔ بیش تر بے قصور۔ قتل و غارت گری کی خبریں روز پگھلے سیسے کی طرح سماعتوں میں اترتی ہیں۔

گاڑیاں اپنی خستہ حال شریانوں پر، جنھیں ہم سڑکیں کہتے ہیں، بے ہنگم دوڑتی ہیں۔ انسانوں کو نگلنے میں رعایت نہیں کرتیں۔ روز ہی کئی زندگیوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ کبھی میاں بیوی اور بچہ کچلے جاتے ہیں۔ کبھی باپ بیٹا موت کی کھائی میں اتر جاتے ہیں۔ سانحے کا تذکرہ سانس روک دے، مگر گاڑیاں چلتی رہتی ہیں۔

دہشت گردی کے واقعات کے لیے تو الگ دفتر درکار ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو، جب یہ دھرتی خون کا ذایقہ نہ چکھتی ہو۔ سورج انسانیت کو چیتھڑوں میں تقسیم ہوتے نہ دیکھتا ہو۔ مگر اس موضوع کو رہنے دیتے ہیں۔ زبان پر مہر لگی ہے، اور حلقۂ زنجیر میں زبان رکھنے کے لیے فیضؔ جیسا جگر چاہیے۔

طبعی، حادثاتی اور سانحاتی اموات تو ہمارے المیے کا فقط ایک حصہ ہیں۔ یہاں تو روز روحیں خود کشی کرتی ہیں۔ گرانی آسمان کو چھور ہی ہے۔ بے روزگاری اوج پر ہے۔ عدم مساوات اور ناانصافی، دونوں ہی دست یاب ہیں۔ ناخواندگی اور جہالت کو زرخیز زمین مل گئی ہے۔ دنوں ناسور خوب پھل پھول رہے ہیں۔

اگر آپ نے حکم راں کی طرح بے حسی کی چادر نہیں اوڑھ رکھی، حساس دل رکھتے ہیں، تو پھر زندہ رہنا دشوار سمجھیں۔ المیوں کی سنگ ریزی لہولہان کر دے گی۔ زندہ درگور ہو جائیں گے۔ اور حساس انسانوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ ہر کوئی تو سیاست داں نہیں ہوتا ناں۔ درد دل رکھنے والے وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، اور اُن کے پاس کڑھنے، گریہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جب تک زندگی ہے، تب تک جبر سہنا ہے۔

اکثر سوچا، یہ جو سترہ کروڑ ہیں، کیا معاشرتی تبدیلی اور حالات کی بہتری میں اِن کا کوئی کردار نہیں؟ ہر بار جواب اثبات میں پایا۔ اوروں کی طرح ایک عرصے کٹھناؤں اور جبر سے پھوٹنے والی بے بسی نے بے کل رکھا۔ جب وہ مقام آ گیا کہ چلتی پھرتی لاش کا منصب مل جائے، خیال گزرا، اس گھٹن زدہ ماحول میں جینے کی آخری کوشش کر کے دیکھتے ہیں۔ راز حیات پانے کے لیے کتابوں سے رجوع کیا۔ کتابیں، جو لکھاری کو زندہ رکھتی ہیں، قاری کو زندگی بخشتی ہیں۔

کچھ کتابوں کو اس ضمن میں خاموش پایا۔ شاید وہ بھی گھٹن کا شکار تھیں۔ کچھ اس حالت میں ملیں کہ اُن کی آنکھ سے آنسو رواں تھے۔ چند گریہ کرتی نظر آئیں، چند کو قہقہے لگاتے دیکھا۔ پھر سرما کی ایک صبح، جب سورج مہک رہا تھا، والٹیر کے لازوال کردار ’’کاندید‘‘ سے ملاقات ہوئی۔ شاہ کار کے درجے پر فائز اُس ناول کی ایک سطر نے چونکا دیا۔ سوچنے کا نیا زاویہ عطا کیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ناول کے آخری حصے میں، جب حالات کا جبر مستقل حیثیت کا روپ دھار لیتا ہے، مرکزی کردار کہتا ہے: ’’ہمیں بلاچون و چرا کام میں مصروف رہنا چاہیے، یہی حالات کو قابل برداشت بنانے کا اکلوتا طریقہ ہے۔‘‘

اِس سطر میں پیوست دانش نے دل میں ڈیرا ڈال لیا۔ قائد اعظم کا فرمان یاد آ گیا: ’’کام کام اور صرف کام!‘‘

مستقبل میں جب کبھی زندہ کُتب سے سامنا ہوا، یہ الفاظ کچھ اور دمکنے لگتے۔ ایک روز خیال گزرا، کام تو ہر انسان کرتا ہے۔ اور دیوانے کی طرح کرتا ہے، مگر یہ خوشی عطا کرنے کے بجائے مزید افسردہ کر دیتا ہے۔ یاسیت اور گھٹن بڑھنے لگتی ہے۔

ادراک ہوا، کاندید نے حالات کو قابل برداشت بنانے کے لیے جس عمل (کام) کی جانب اشارہ کیا، مراد اُس سے روزمرہ کی وہ سرگرمی نہیں، جو ہم مشینی انداز میں انجام دیتے ہیں۔ یہ تو وہ عمل ہے، جس کا تذکرہ معروف روحانی مفکر، دیپک چوپڑا نے اپنی مشہور زمانہ کتاب  The Seven Spiritual Laws of Success میں کیا۔ دیپک چوپڑا کے سات اصولوں میں سے آخری اصول ’’دھرم ‘‘ یا مقصد حیات سے متعلق ہے، جس کے مطابق ہر انسان ایک اچھوتی اہلیت کا حامل ہوتا ہے، جس کے اظہار کا ایک یکتا طریقہ ہے۔ کائنات میں اس کی موجودگی کا ایک سبب، ایک مقصد ہے، جس کے حصول کی مخلصانہ اور مسلسل کوشش نہ صرف انسان، بلکہ اُس کے اردگرد بسنے والوں کی فلاح کا بھی امکان پیدا کرتی ہے۔

تو دوستو، آج دہشت اور وحشت کے اس لمحے، جب ہم مصائب میں گھرے ہیں، جینے کا بس یہی ایک طریقہ میسر ہے کہ ہم اپنی اچھوتی اہلیت کو شناخت کریں، اور بلاچون و چرا اس کے اظہار میں مصروف ہو جائیں کہ یہی حالات کو قابل برداشت بنانے کا اکلوتا امکان ہے۔

اگر آپ کے خمیر میں شاعر گندھا ہے، تو گہرا سانس لیں، اور اس احساس کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیں، جو برسوں سے آپ کی روح کے تار چھیڑ رہا ہے۔ اگر گیت گاتے ہیں، تو غم اور الم کے درمیان بھی گاتے چلیے۔ مصور ہیں، تو کائنات کو رنگوں سے بھر دیں۔ سازندے ہیں، تو ساز کے باج سے زندگی ہم آہنگ کر لیں، رقاص ہیں، تو محو رقص ہو جائیں ۔ قصّہ گو ہیں، تو الاؤ کے گرد محفل جما لیں۔

ہاں، اموات اور المیوں کی اس کائنات میں جینے کا یہی اکلوتا طریقہ ہے کہ جس مقصد کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا، اُس کی تکمیل میں جٹ جائیں۔ کام میں لگ جائیں، اُس احساس میں داخل ہو جائیں، جسے خلیل جبران نے یوں بیان کیا:

’’کام کی تکمیل کے سمے آپ ایک ایسے ساز میں ڈھل جاتے ہیں، جس کے دل سے گزرتی سمے کی سرگوشی گیت بن جاتی ہے۔ اور کام اور محبت کا رشتہ، دل کے تار سے کپڑا بُننے جیسا ہے۔ کپڑا، جسے آپ کے محبوب کا لباس بننا ہے۔‘‘

آئیں، ایک ساز میں ڈھل جائیں!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔