اسلام آباد میں القاعدہ، طالبان، لشکر جھنگوی موجود ہیں، داخلہ کمیٹی میں اعتراف

ایمرجنسی نفاذکی تجویز پرنبیل گبول اور تہمینہ میں جھڑپ، حکومت چوڑیاں پہن لے، متحدہ رکن، مذاکرات کیخلاف قراردادکی اجازت نہ ملی،
  فوٹو: فائل

ایمرجنسی نفاذکی تجویز پرنبیل گبول اور تہمینہ میں جھڑپ، حکومت چوڑیاں پہن لے، متحدہ رکن، مذاکرات کیخلاف قراردادکی اجازت نہ ملی، فوٹو: فائل

اسلام آباد: نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے ڈائریکٹر جنرل طارق لودھی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ اسلام آباد میں القاعدہ ، طالبان اور لشکر جھنگوی سے خطرہ ہے جبکہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دینے پر ایم کیوایم کے رکن نبیل گبول اور مسلم لیگ (ن) کی رکن تہمینہ دولتانہ کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا شمیم احمد کی سربراہی میں ہوا۔ ڈی جی نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے کمیٹی کو امن وامان کی صورتحال اور دہشت گردی میں ملوث عوامل سے متعلق بریفنگ دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق طارق لودھی نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں القاعدہ ، تحریک طالبان اور کالعدم لشکر جھنگوی موجود ہیں جو اندرون خانہ کافی فعال ہیں۔ بلوچستان میں القاعدہ،13 کالعدم تنظیمیں اور تحریک طالبان جبکہ پنجاب میں تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی بڑا خطرہ ہیں ۔ سندھ میں لشکر جھنگوی ، القاعدہ اور ٹارگٹ کلرز ہیں۔ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ القاعدہ اور غیر ملکی عناصر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں لشکر جھنگوی اور فرقہ وارانہ تنظیمیں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ملک میں مشرقی اور مغربی سرحدوں سے اسلحہ آرہا ہے، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بھارت براہ راست کارروائیوں میں ملوث ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے بتایا کہ ملک میں لاکھوں غیر ملکی ہیں، نارا اور نادرا ملکر ایسے غیر ملکیوں کا ڈیٹا تیار کر رہا ہے،اب تک 60 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے مدارس کو ملنے والی امداد پر نظر ہے، داخلی سلامتی کی پالیسی تشکیل دیدی ہے، سائبر کرائمز کی روک تھام کیلیے بل کا مسودہ بھی وزارت قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔ایک ٹی وی کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے غالب اندیشہ نے بتایا کہ ادارے میں1200اسامیاں خالی ہیں اسکے باوجود بجلی، گیس اور تیل چوری روکنے کا کام بھی سونپ دیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایم کیوایم کے رکن نبیل گبول کی مسلم لیگ (ن) کی رکن تہمینہ دولتانہ اور پیپلزپارٹی کے رکن یوسف تالپور سے تلخ کلامی ہوئی۔ نبیل گبول کی جانب سے طالبان سے مذاکرات نہ کرنے کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی جسے دیگر جماعتوں کے ارکان نے پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔

نبیل گبول نے کہا کہ مذاکرات کی بات کرنیوالے بیوقوف ہیں، حکومت چوڑیاں پہن لے اور صدر مملکت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کر دیں۔جس پر تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ وہ مارشل لا کی تجویز دے رہے ہیں۔ نبیل گبول نے کہا آرٹیکل 232 کا مطلب مارشل لا نہیں۔ تلخ کلامی پر چیئرمین اور دیگرارکان نے معاملہ رفع دفع کرایا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لا کی کوئی ضرورت نہیں۔ جے یو آئی ف نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کے مطالبے کی مخالفت کی۔ بعد میں کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر حملے، مہمند ایجنسی میں 23 ایف سی اہلکاروں کے قتل اور پشاور میں پاک فوج کے میجر پر حملے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی اور شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اے پی پی کے مطابق کمیٹی نے آج ٹی وی، وقت ٹی وی اور اے آر وائی ٹی وے پر حالیہ حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے اتفاق رائے سے مذمتی قرارداد منظور کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔