کراچی میں دستی بموں سے حملے، بارود سے بھری 2 گاڑیاں پکڑی گئیں، ٹارگٹ کلنگ میں ڈاکٹر اور بچے سمیت 11 ہلاک

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 21 فروری 2014
کراچی:سی آئی ڈی پولیس کی کارروائی کے دوران تحویل میں لی گئی وہ سوزوکی ہائی روف جس میں 100 کلو بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی:سی آئی ڈی پولیس کی کارروائی کے دوران تحویل میں لی گئی وہ سوزوکی ہائی روف جس میں 100 کلو بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: کراچی میں کریکردھماکوں،فائرنگ اورتشددکے واقعات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی عہدیدارسمیت 11افرادہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن ایم پی آرکالونی کشتی چوک قبرستان کے قریب موٹرسائیکلوں پرسوارملزمان نے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان کی کارپر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کار میں سوار 5 افراد جاں بحق ہوگئے ،جاں بحق ہونے والوں کی شناخت40سالہ ڈاکٹر اسرار،30سالہ راضم اﷲ، 30سالہ جمشید،32سالہ اقبال اور10سالہ سجاد کے نام سے ہوئی،علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 افرادواردات میں شریک ملزمان کوتحفظ دینے کے لیے کچھ فاصلے پر موجود تھے جو بعدازاں اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ غازی گوٹھ کی جانب فرارہوگئے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے ڈاکٹر اسرار، راضم اﷲ اور جمشید اے این پی قبصبہ کالونی وارڈکے کارکنان تھے جبکہ جاں بحق ہونے والااقبال اور کمسن لڑکا سجاد ڈاکٹر اسرار کے مہمان تھے جو کہ سوات سے آئے تھے، کالعدم تحریک طالبان سواتی گروپ کی جانب سے جاں بحق ہونے والے تینوں کارکنان کو10 سے 20 لاکھ روپے بھتے کی پرچیاں ملی تھیں۔

ایم کیوایم رابطہ کمیٹی نے اے این پی کے علاقائی صدر سمیت 5 افراد قتل کوقانون نافذکرنے والے اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان قراردیاہے اور کہاہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتارکرکے عبرتناک سزادی جائے، رابطہ کمیٹی نے ہلاک شدگان کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کااظہارکیاہے۔جوہرآبادتھانے کی حدودد ستگیر بلاک 15میں نامعلوم مسلح ملزم نے جنریٹرکی دکان پر فائر نگ کردی اور فرار ہوگیاجس کے نتیجے میں دکان میں موجود42سالہ نبیل ناصرہلاک ہوگیا، مقتول دستگیربلاک15کارہائشی جنریٹر کامکینک تھا۔پاک کالونی گٹر باغیچہ کے قریب ہارون آبادمیں گرین سٹی پروجیکٹ کے قریب موٹر سائیکل سوار2ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں56سالہ وزیر ہلاک ہوگیا، قائم خانی کالونی خالدبن ولیدمسجد کے قریب فائرنگ سے38سالہ لیاقت ہلاک ہوگیا،بن قاسم ٹائون تھانے کی حدودنیشنل ہائی وے پرعادل کانٹا کے عقب میں کچے راستے سے2افراد کی لاشیں ملیں جنھیں اغوا کے بعدسروں پرگولیاں مارکرقتل کیاگیا،مقتولین کی عمریں28 سے30سال کے درمیان ہیں دونوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔بہار کالونی میں فائرنگ سے35 سالہ ولی گل زخمی ہو گیا۔ اورنگی ٹاؤن کے علاقے جمشید پمپ کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 35 سالہ مشمل خانہلاک ہوگیا  جو کہ  اورنگی ٹاؤن کا ہی رہائشی بتایا جاتا ہے ۔

سی آئی ڈی سول لائن انویسٹی گیشن اورقانون نافذ کرنے والے ادارے نے ماڑی پورمیں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہرمیں دہشت گردی کی بڑی کارروائی ناکام بنا دی ، چھاپہ مار کارروائی میں کالعدم تنظیم کے3کارندوں کو گرفتار کر کے100 کلو سے زائددھماکاخیز مواد سے بھری ہوئی سوزوکی ہائی روف برآمد کرلی ،ملزمان نے زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے کے لیے گاڑی میں آکسیجن سلنڈراور اینٹی ٹینک مائنز بھی رکھی گئی تھیں،ملزمان کاہدف انسپکٹرشفیق تنولی تھا،شاہ لطیف ٹاؤن سے برآمدکی جانے والی گاڑی اور خودکش بمبارسمیت 3 افراد کوگرفتار کرنے کے حوالے سے سی آئی ڈی پولیس لاعلمی کا اظہار کررہی ہے ، جمشید کوارٹرز میں مدرسے کے ہاسٹل کے قریب بال کریکر دھماکے سے2طالبعلم زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق سی آئی ڈی سول لائن انویسٹی گیشن کے انچارج مظہرمشوانی اورقانون نافذ کرنے والے ادارے نے خفیہ اطلاع پر ماڑی پورگریکس میں کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان فرید اﷲ محسود،سعید اﷲ اور ہمایوں کو گرفتار کر کے خالی پلاٹ پر کھڑی ہوئی سوزوکی ہائی روف وین نمبرCT-4008 برآمد کرلی۔

بارود سے بھری ہوئی وین9 فروری کو سچل کے علاقے سے چھینی گئی تھی جوکہ رفاہی ادارے کے تحت چلنے والے ایک اسکول کی تھی اور اس کی رپورٹ تھانے میں درج ہے ،ملزمان نے گاڑی میں پریشرککر اور آٹے کے کنسترمیں دھماکا خیز بھراتھا جس میں بڑی تعدادمیں بال بیرنگ ، کیلیں اورنٹ بولٹ بھی تھے جبکہ زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے اوراسے طاقتور بنانے کے لیے وین میں2 آکسیجن سلنڈراور3اینٹی ٹینک مائنزبھی رکھی گئیں تھیں،ملزمان کاتعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ولی الرحمٰن گروپ سے ہے جبکہ گرفتارملزم فرید اﷲ محسود عباس ٹاؤن بم دھماکے کاماسٹر مائنڈاور بارود سے بھری ہوئی گاڑیاں بنانے کا ماہرہے۔انھوں نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ بارود سے بھری ہوئی یہ گاڑی ایک اہم سیاسی شخصیت کے کانوائے پراستعمال کی جانی تھی ،انھوں نے بتایا کہ شفیق تنولی پر پرانی سبزی منڈی کے قریب بم حملہ کیا جا چکاہے جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے تاہم اس واقعہ کے بعد سے وہ بکتر بند میں سفر کررہے ہیں اوردہشت گردوں نے اتنا باروداستعمال کیا گیا کہ دھماکے میں شفیق تنولی بکتربند کومکمل طور پر تباہ کیاجاسکے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ذرائع کا کہناہے کہ بارود سے بھری ہوئی وین بلکل تیارتھی ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے سے بھی 50 کلو سے زائد بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی اور نوعمر خودکش بمبار سمیت 3 افراد کو حراست میں لیا ہے تاہم اس حوالے سے سی آئی ڈی پولیس تصدیق کرنے سے گریز کر رہی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ بارود سے بھری گاڑی پکڑنے اور2ملزمان کو گرفتار کرنے پرانھیں پولیس اور سی آئی ڈی کوزبردست خراج تحسین پیش کیاہے،دریں اثناجمشید کوارٹرکے علاقے نیوایم اے جناح روڈاسلامیہ کالج کے قریب واقع مدرسہ تعلیم القران کے طلبہ راجپوت کالونی کے بنگلے میں قائم ہاسٹل کے باہر ٹرک سے سامان اتار رہے تھے کہ اس دوران ٹرک کے قریب کریکر کا دھماکاہوا جس کے کی زد میں آکر 2 طالبعلم 24 سالہ عاطف اﷲ اور 28 سالہ کریم اﷲ زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔