ملکی معیشت اور امن و امان

ایڈیٹوریل  جمعـء 21 فروری 2014
معیشت میں بہتری کے وہ عشارئیے دکھائی نہیں دے رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی فوٹو: فائل

معیشت میں بہتری کے وہ عشارئیے دکھائی نہیں دے رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی فوٹو: فائل

ملک کی موجودہ معاشی صورت حال پر غور کیا جائے تو مجموعی طور پر معیشت میں بہتری کے وہ عشارئیے دکھائی نہیں دے رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے پر درپیش متعدد چیلنجز کو حل کرنے کے دعوے کیے اور اس جانب قدرے پیشرفت بھی کی مگر ابھی تک وہ نتائج سامنے نہیں آئے جو آنے چاہیے تھے۔ ملک میں سرمایہ کاری میں ایک حد تک بہتری بھی آئی مگر امن و امان کی بگڑتی صورت حال اس کی برق رفتاری میں آڑے آ رہی ہے۔ اخباری خبر کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمو کی شرح سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنا خوش آیند ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں لارج اسکیل مینو فیکچرنگ گروتھ 6.76 فیصد رہی جو مالی سال 2006-07 کی 9.6 فیصد کی گروتھ کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر2012 ء کے مقابلے میں دسمبر 2013ء کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمو کی شرح 13.17 فیصد رہی ۔ یہ خوش کن امر تو ہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے مگر توانائی کے بحران اور امن منافی سرگرمیوں کے باعث ملکی ترقی مجموعی طور پر متاثر ہو رہی ہے اور چھوٹی صنعتیں بحرانی کیفیت سے نہیں نکل پا رہیں۔

پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ مزید بہتری آئے گی۔ جی ایس پی اسکیم کے تحت پاکستان کو یورپی منڈیوں تک آسان رسائی دی گئی مگر ابھی تک پاکستان اس اسکیم کے فوائد سمیٹنے میں مناسب کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا۔ توانائی بحران حل کرنے کے لیے حکومت پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے مگر ابھی تک یہ بحران فوری طور پر حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت نے توانائی بحران کے حل کے لیے جو منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا ان کی تکمیل میں ایک عرصہ درکار ہے۔ جب تک توانائی بحران حل نہیں ہوتا ملکی صنعتی ترقی کا پہیہ مطلوبہ رفتار سے نہیں چل سکتا۔ اس وقت گیس کے بحران نے بھی جہاں گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں صنعتی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا سفر کرنے میں احتیاط برتیں۔ اس طرح کہ احتیاطی اعلانات پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔نتیجتاً پاکستانی حکومت کی جانب سے بارہا دعوت دینے کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کو خطرناک خطہ تصور کرتے ہوئے ادھر کا رخ کرنے سے گریزاں ہے۔

ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب ملکی سرمایہ کار بھی عدم تحفظ کا شکار ہو کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی کے ساتھ ساتھ ہنر مند افراد بھی مناسب روز گار نہ ملنے کے باعث بیرون ملک جا رہے ہیں۔ اس طرح برین ڈرین اور اسکل ڈرین کا عمل بھی ملکی ترقی کے تیزی سے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس وقت یورپی یونین کے ممالک غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ویزے کی شرائط کو نرم کرنے کے علاوہ زمین اور جائیداد کا حصول بھی آسان بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یورپ میں امن و امان کی بہتر صورت حال‘ جدید ٹیکنالوجی اور لوگوں کی بہتر قوت خرید غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑی تیزی سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ پاکستانی حکومت چین‘ ترکی اور عرب سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے دعوت دے رہی ہے  لیکن غیر ملکی سرمایہ کار جب یہاں سرکاری اداروں میں موجود بدعنوانی‘ توانائی بحران اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال کا جائزہ لیتا ہے تو وہ پاکستان آنے کے بجائے یورپی ممالک کا رخ کرنا زیادہ بہتر خیال کرتا ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے عہدیداروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام اور برآمدات میں اضافے کے لیے چین‘ بھارت اور ملائیشیا کی طرز پر آزاد معیشت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا‘ معاشی نمو اور بڑے پیمانے پر روز گار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے نئی سرمایہ کاری بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے اندرونی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی تجارت بالخصوص علاقائی تجارت کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا پاکستان کی جانب رخ مطلوبہ ٹارگٹ کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔ ملکی صنعتوں کو بحران سے نکالنے کے لیے قریبی اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے زمینی اور سمندری راستوں سے رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ہو گا۔

بیرون ملک بھی پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کمرشل قونصلروں کو متحرک کرنا ہو گا۔ حکومت کو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ملکی ترقی میں زیادہ سے زیادہ شراکت کو یقینی بنانے کے لیے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران کے حل پر خصوصی توجہ دینی ہو گی کیونکہ سرمایہ ہمیشہ امن اور محفوظ جگہ کی جانب رخ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں موجود بدعنوانی اور سرخ فیتہ کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے ورنہ ترقی کے لیے حکومتی پالیسیاں‘ اقدامات اور کوششیں وہ نتائج نہیں دے سکیں گی جس کی توقعات عوام کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔