دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

نصرت جاوید  جمعـء 21 فروری 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

امریکا اور یورپ کے بہت سارے صحافی جو کئی برسوں سے بیروت یا قاہرہ میں رہتے ہوئے اپنے اداروں کو عرب دُنیا کے بارے میں باخبر رکھے ہوئے تھے آج کل اپنی تحریروں میں کافی پریشان نظر آتے ہیں۔ حسنی مبارک ایک سفاک آمر تھا۔ میں جب 2002ء میں حکومت مصر کی دعوت پر اس ملک میں دس روز رہا تو معدودے چند لوگوں کو سرگوشیوں میں اس کے خلاف کچھ کہتے سنا۔ 30 سال سے کم عمر کا ایک چھوٹا سرکاری افسر اس پورے سفر میں میرا گائیڈ تھا۔ پہلے دوروز تک وہ کرید کرید کر مجھ سے اس وقت کے ہمارے فوجی آمر کے بارے میں خیالات جاننے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے اس ضمن میں طنزیہ جوابات اسے ’’باغیانہ‘‘ محسوس ہوئے۔ اس کا خیال تھا کہ شاید میں اپنے ملک میں ان خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا اور بیرون ملک آ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہوں۔ بڑی شائستگی سے اس نے یہ معلوم کر لیا کہ اخبار کے لیے لکھی میری خبریں اور کالم انٹرنیٹ کے ذریعے کیسے پڑھے جا سکتے ہیں۔

میرے قیام کے تیسرے دن کی صبح وہ مجھے ہوٹل سے لینے آیا تو مجھے دیکھتے ہی وارفتگی سے میرے بوسے لینا شروع کر دیے۔ میں ہکا بکا ہوا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے کئی گھنٹے لگا کر میرے کچھ کالم پڑھے ہیں۔ اس کو یہ سب کالم جنرل مشرف کے بارے میں میرے طنزیہ رویے سے کہیں زیادہ ’’خوف ناک‘‘ محسوس ہوئے۔ اسے بڑی حیرت تھی کہ ایسے کالم لکھنے کے باوجود میں ابھی تک جیل کیوں نہیں گیا۔ زیادہ حیرت کی بات اس کے لیے یہ بھی تھی کہ میرے دورئہ مصر کے دوران قاہرہ میں مقیم چند پاکستانی سفارت کار مجھے بار بار دوستانہ خبر گیری مارکہ ٹیلی فون کرنے کی ’’جرأت‘‘ دکھاتے رہے۔ بڑی مشکل سے میں اسے سمجھا پایا کہ پاکستان میں مختلف فوجی آمریتوں کے باوجود یہاں کے صحافی اور لکھاری اپنے دل کی بات کر ہی لیتے ہیں۔

مصر سے پہلے میں کئی بار عراق اور شام بھی جا چکا تھا۔ اس لیے مجھے اس کے دل میں موجود خوف کے بارے میں کوئی حیرت نہ ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کسی وجہ سے میں ان دنوں قاہرہ پہنچ جاؤں تو وہاں کے متوسط طبقے کی اکثریت میں پائے جانے والے جذبات مجھے حیران و پریشان نہیں کریں گے۔ امریکا اور یورپ کے صحافیوں کا رویہ اس حوالے سے بہت ساری وجوہات کی بنا پر کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ صحافی ہم لوگوں کے مقابلے میں یقینا زیادہ محنتی ہوتے ہیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے وسائل بھی ہم سے کہیں زیادہ میسر ہوتے ہیں۔ مسلم اور خاص کر عرب ملکوں میں رہنے والوں کی مگر ایک خاص نفسیات ہے۔ امریکا اور یورپ کے صحافی اپنے تمام تر وسائل اور طویل Exposure کے باوجود اس نفسیات کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ ’’موجود‘‘ پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وہ ان معاشروں میں صدیوں سے موجود اور گہرے ہوئے تضادات سے اکثر غافل ہی رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر ان دنوں امریکا اور یورپ کے صحافیوں کو یہ جان کر بڑی حیرت ہو رہی ہے کہ الاخوان المسلمین کی جانب سے بھاری اکثریت کے ساتھ مصر کے صدر منتخب ہونے والے مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل سیسی قاہرہ کے متوسط طبقے میں بے حد مقبول ہو رہا ہے۔ اس مقبولیت سے کہیں زیادہ حیرت انھیں اس بات پر ہو رہی ہے کہ آج سے تقریباََ دو سال قبل تک مبارک حکومت کے خلاف برپا ’’عرب بہار‘‘ کی پہلی صفوں میں پائے جانے والے کئی ’’لبرل‘‘ حضرات بھی ان دنوں جنرل سیسی کے انتہائی جذباتی حامی بن چکے ہیں۔ لوگوں کے رویوں میں ایسی تبدیلی کی وجوہات کو نہ سمجھنے کے باعث امریکا اور یورپ کے صحافی یہ اقرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بالآخر مصر ’’فرعونوں کا ملک‘‘ ہے۔ یہاں کے لوگوں میں گہری ہوئی ’’خوئے غلامی‘‘ مستحکم حکومت فراہم کرنے والے مطلق العنان حکمرانوں کو محض گوارا نہیں کرتی بلکہ زیادہ تر سراہتی بھی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کبھی بھی ’’فرعونوں‘‘ کی سرزمین نہیں رہا۔ اپنی خوش حالی کی وجہ سے پانچ دریاؤں کی یہ سرزمین لیکن تواتر کے ساتھ غیر ملکی یلغاروں کا نشانہ ضرور بنتی رہی۔ اس خطے پر اپنا اقتدار مستحکم کر لینے کے بعد مگر غیر ملکی بھی یہاں کے ماحول میں رچ بس کر بالآخر ہمارے ہی جیسے بن جایا کرتے تھے۔ مقامی آبادی سے صرف برطانوی حکمران ہی بہت کٹ کر رہے۔ ان کی پیدائشی رعونت سے کہیں زیادہ ان کا یہ رویہ خوف میں مبتلا کرنے والے ان نتائج پر مبنی تھا جو انھوں نے 1857ء کے واقعات سے اخذ کیے تھے۔

آج کے زمانے کی طرف لوٹتے ہوئے کھلے دل کے ساتھ ہمیں اعتراف کرنا ہو گا کہ مصر ہو یا پاکستان، ان ملکوں میں تیزی سے پھیلتے ہوئے متوسط طبقات میں جو نام نہاد ’’لبرل‘‘ وغیرہ کہلاتے ہیں انھیں اپنا پیغام عام لوگوں کی اکثریت تک پہنچانا نہیں آیا۔ جن ’’مذہبی جنونیوں‘‘ سے ان حضرات کو خوف آتا ہے ان کا پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے۔ مقدس حوالوں سے اس پیغام کو آسانی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ اور عوامی مسائل کے بارے میں سفاکانہ بے حسی عام شہریوں کو مسلسل غصہ ہی نہیں دلاتی رہتی بلکہ بہت زیادہ منتقم المزاج بھی بنا دیتی ہے۔ ’’سستے اور فوری انصاف‘‘ کا نعرہ ایسے میں بہت اثر دکھاتا ہے اور ایک غیر منصفانہ نظر آنے والے سیاسی نظام کو تباہ کرنے کے لیے عوام کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مصر کے الاخوان المسلمین نے اپنے عوام کے دلوں میں صدیوں سے پلنے والے اس غصے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ بالآخر جب انھیں اقتدار ملا تو سمجھ میں آیا کہ صرف ’’شریعتہ‘‘ کے نفاذ سے لوگوں کے سارے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستان ہو یا مصر، آج کی دُنیا کا ہر ملک ایک عالمی معاشی نظام سے بری طرح جڑا ہوا ہے۔

ہمارے جیسے ملکوں کے لیے مسائل اور بھی زیادہ گھمبیر اس وجہ سے ہیں کہ ہمارے اپنے وسائل انتہائی محدود اور آبادی بے تحاشہ ہے اور اس کی توقعات بھی۔ قومی غیرت وغیرہ کے نام پر ’’کشکول‘‘ توڑ دیا جائے تو ملکی معیشت میں شدید عدم استحکام آ جاتا ہے۔ معاشرتی اتھل پتھل اس کے ہوتے ہوئے عدم تحفظ کا گہرا احساس بھی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسی فضاء میں بالآخر جنرل سیسی نمودار ہوتے ہیں۔ اپنے ’’عزیز وطنو‘‘ کو تحفظ کا احساس دلا کر ہر چیز ٹھیک کر دینے کا وعدہ کرتے ہیں اور لوگ پنجابی کی ’’آنے والی تھاں‘‘ پر واپس آ جاتے ہیں۔ آج کل کے مصر میں جنرل سیسی کی وہاں کے متوسط طبقے میں مقبولیت کو سمجھنا ہو تو جنرل مشرف کے ابتدائی ایام یاد کر لیں۔ ہمار ے ’’لبرل‘‘ حضرات کی بے پناہ اکثریت ان دنوں اس Enlightened Moderate کے بارے میں کتنی پر مسرت محسوس کیا کرتی تھی۔ اس سے دل بھر گیا تو عدلیہ بحالی کی تحریک چلی۔ جمہوریت آ گئی۔ مگر اب کچھ دنوں سے متوسط طبقے کے گھروں میں چلے جائیں تو بہت زیادہ لوگ ’’بس بہت ہوگئی‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں۔ اب تو مذاکرات مذاکرات کا کھیل بھی ختم ہو گیا ہے۔ دیکھئے نئی صورت حال کے بعد کیا نمودار ہوتا ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔