دہشت گردی

ایڈیٹوریل  جمعـء 1 اپريل 2022
پرامن ، مستحکم افغانستان ، چین اور پاکستان کے مفاد میں ہے، شاہ محمود قریشی

پرامن ، مستحکم افغانستان ، چین اور پاکستان کے مفاد میں ہے، شاہ محمود قریشی

پرامن ، مستحکم افغانستان ، چین اور پاکستان کے مفاد میں ہے ، ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں پر تشویش ہے، افغان دوستوں کو خدشات سے آگاہ کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے تیسرے اجلاس کے موقعے پر چینی و روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک میں امن واپس آئے گا۔ انھوں نے جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران و جوانوں کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔

ادھر دہشت گردوں کی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ملٹری کمپاؤنڈ میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے نتیجے میں تین دہشت گرد مارے گئے، آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے چھ جری سپوت مادر وطن پر قربان ہوگئے۔

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس سے عام پاکستانی پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہے کہ آخر اس دہشت گردی کا کوئی تدارک تو ہو گا۔

ہماری افغان پالیسی پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آخر کب تک ہم دہشت گردی کا شکار ہوتے رہیں گے؟ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ سرحد کے اس پار عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں اکثر پراکسی جنگوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اب تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے لوگ بھی درپردہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کی مدد کررہے ہیں ۔

دشمن ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں بلکہ ان کی حمایت بھی کی جارہی ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت کو صورتحال کی سنگینی اور نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔

پاکستان کے بارے میں بھارت کی سوچ اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن افغانستان کی موجود ہ حکومت کو ماضی کی حکومتوں سے مختلف کام کرنے کی ضرورت ہے، ایسے عناصر جو پاکستان میں دہشت گردانہ میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاون کیا جانا چاہیے۔ پاکستان میں چین کے مفادات پر بھی دہشت گرد حملے ہوتے رہے ہیں اور طالبان حکومت کے دور میں بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے افغان حکومت سے ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کی ہمیشہ درخواست کی ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے سے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ شمال مشرقی افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں ٹی ٹی پی کی ’’محفوظ پناہ گاہوں‘‘ کو ختم کرے، لیکن افغانستان کی حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن کی حمایت کرتا ہے لہٰذا پاکستان کے خلاف افغان سرزمین دہشت گردوں کی کارروائیوں کے لیے ہر گز استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ٹی ٹی پی کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی ریاستوں بشمول پاکستان، چین اور روس کی طرف سے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ افغانستان میں بدامنی اور لاقانونیت جاری رہی تو افغانستان کے ہمسایہ ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ چین کے حکمران بھی حقائق سے آگاہ ہیں۔

ان کی بھی یہی کوشش ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ایسی پالیسیاں اختیار کرے جس سے عالمی سطح پر اس کی قبولیت میں اضافہ ہو‘ اسی طرح روس کی بھی یہی کوشش ہے کہ افغانستان میں موجود ایسے گروہوں کا خاتمہ ہو جو افغانستان میں عدم استحکام اور ہمسایہ ممالک میں مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ اس وقت عالمی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان کی وجہ سے پاکستان بھی مشکل میں پھنسا ہوا ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ اقوام عالم طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیں‘ پاکستان کی یہ بھی خواہش اور مطالبہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت دوحہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرے۔اپنی حکومت میں افغانستان میں بسنے والی تمام اقوام کو بھرپور نمایندگی دی جائے۔ افغانستان کی حکومت خواتین کے حقوق کے حوالے سے خاصی تنقید کی زد میں ہے۔

عالمی میڈیا میں جو اطلاعات آ رہی ہیں ‘ان میں یہی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں بچیوں کے اسکول اور کالجز کو بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح جو خواتین گھروں سے باہر نکل کر ملازمتیں یا کوئی اور بزنس کر رہی ہیں ‘ ان پر بھی مختلف قسم کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں‘ افغانستان کے نسلی اور لسانی گروہ جن میں تاجک ‘ہزارہ منگول اور ازبک شامل ہیں ‘ وہ طالبان حکومت کی ساخت اور پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔یہ وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے افغانستان کی حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ افغانستان کے غیر ملکی اثاثے منجمد ہیں‘ افغانستان کی حکومت کو دنیا کے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افغانستان اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر اپنا مقدمہ بھی نہیں لڑ سکتا۔ اس ساری صورت حال نے سب سے زیادہ پریشانی اور مشکلات افغانستان کے غریب عوام کو درپیش ہے۔ افغانستان میں کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ بیرونی تجارت بھی انتہائی محدود پیمانے پر ہو رہی ہے۔ پاکستان اپنی بساکھ کے مطابق افغان عوام کی مدد کر رہا ہے لیکن پاکستان کی معاشی حالت بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ افغانستان کا بوجھ اٹھا سکے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ ذمے داری افغانستان کی طالبان حکومت کی ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے مفاد میں اپنے طرز حکومت پر نظر ثانی کرے۔

افغانستان سے اس کے پڑوسی ممالک میں سب سے طویل 2600 کلو میٹر سے زائد کی سرحد پاکستان کے ساتھ ہے اور اس میں سے 1468 کلومیٹر طویل سرحد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساتھ ہے۔ بلوچستان کے ساتھ اس طویل بارڈر پر افغانستان کے چار صوبے لگتے ہیں جن میں ہلمند، قندھار، نمروز اور زابل شامل ہیں۔

ایسے میں کچھ عرصے سے سیاسی اور دفاعی پنڈت ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی افغانستان کی صورتِ حال کا براہ راست اثر بلوچستان پر پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے تھے اوراب ویسا ہی ہو رہا ہے۔پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کا بڑا سبب بھی افغانستان کا غیر مستحکم ہونا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کی حکومت کا بھی پورے افغانستان پر کنٹرول نہیں ہے۔ ریاستی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے وار لارڈز اپنی اپنی مرضی کا قانون نافذ کر رہے ہیں۔

جو لوگ افغانستان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک آپریٹ کر رہے ہیں ‘ ان کی اطلاعات حاصل کرنے کی بنیاد ملکی سلامتی اور اسٹریٹیجیکل معاملات پر نہیں ہے بلکہ ان کا فوکس صرف ایسے لوگوں تک پہنچنا ہوتا ہے جو طالبان کے نظریاتی مخالف ہیں۔ طالبان کی فکر سے ہم آہنگ گروہ من مانی کر رہے ہیں۔ اس لیے افغانستان کے حالات میں جلد بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی۔ پہلے افغانستان میں امریکا اور نیٹو کی شکل میں ایک طاقت موجود تھی۔

جس کی وجہ سے نظام حکومت اور معیشت چل رہی تھی ‘ ترقیاتی کام بھی ہو رہے تھے ‘ افغان عوام کو روز گار اور کاروبار کے مواقع بھی مل رہے تھے ‘ افغانستان کی کرنسی بھی مستحکم ہو رہی تھی لیکن اب یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔اب افغانستان میں کوئی ایسی سنگل پاور موجود نہیں ہے جو وار لارڈز کا خاتمہ کر سکے اور افغانستان کی معیشت کو رواں کر سکے۔ روس یو کرین کی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ روسی حکمرانوں کی ساری توجہ یو کرین کے بحران پر ہے ‘ وہ اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ طالبان کو مالی یا عالمی معاملات میں کوئی سہارا دے سکے۔ عوامی جمہوریہ چین کی ریاستی پالیسی دفاعی نوعیت کی ہے۔

اس لیے وہ کسی بھی عالمی تنازع میں بطور فریق شامل نہیں ہوتا۔ کسی ملک کی مالی مدد کے حوالے سے بھی چینی حکام اپنی شرائط میں نرمی کے قائل نہیں ہیں۔ چینی سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس کے تحفظ کی ضمانت مانگتے ہیں۔

اس لیے یہ خیال کرنا کہ چین کسی ایسے ملک کا بوجھ اٹھا لے گا ‘جو دنیا کی طاقتور اقوام سے متصادم ہو۔ اس لیے افغانستان کے حکمرانوں کو خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو افغانستان اور اس کے عوام کے لیے محبت اور خلوص رکھتا ہے۔ افغانوں کو بھی اس کا عملی ثبوت مہیا کرنا چاہیے نہ کہ ایسی پالیسی اپنائے جو پاکستان کے مفادات اور سلامتی کے خلاف ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔