مسلمان اور پسماندگی

جمیل مرغز  جمعـء 1 اپريل 2022
jamilmarghuz1@gmail.com

[email protected]

آخر مسلمان مما لک ‘انتہائی کو ششوں کے باوجود پسماندہ کیوں ہیں؟ ان ملکوں میں یورپی ملکوں کی طرح ترقی کیوں نہ ہو سکی ؟حالانکہ یورپی یونین کی طرح مسلمان ملکوں نے بھی ایک اتحاد بنام OICبنایا ہے‘ تیل اور دوسری قیمتی معدنیات کے ذخائر ان کے پاس ہیں‘تعلیم پر بھی اب ان کی خاص توجہ ہے۔

جدیدیت کی طرف بھی مائل ہیں‘پھر کیا وجہ ہے کہ بات بن نہیں پا رہی ؟ OICکاقیام 1969میں ہوا تھا ‘اقوام متحدہ کے بعد یہ سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے ‘جس میں 57 مسلمان ممالک شامل ہیں‘جن کی GDP کا حجم 28ٹریلین ڈالر ہے ‘اس کے مقابلے میں یورپی یونین 1993میں قائم ہوئی ‘رکن ممالک کی تعداد 27ہے ‘اس اتحاد کی GDPکا حجم 17ٹریلین ڈالر ہے۔

اسی طرح تیل معدنیات کی دولت سے مالامال ‘والا سبق تو ہم نے طوطے کی طرح اسکول سے رٹا ہوا ہے ‘مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں‘تعلیم پر بھی مسلم ممالک خاصے وسائل استعمال کر رہے ہیں‘بعض مسلمان ممالک نے تو دنیا کی بہترین جامعات کے کیمپس اپنے ملک میں قائم کر دیے ہیں۔

جہاں ذہین طلباء کو وظائف بھی دیے جاتے ہے ‘شاہ عبداللہ سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی دنیا کی پہلی500 یونیورسٹیوں میں ایک ہے ‘رہی بات جدیدیت کی تو سعودی عرب جیسے ملک میں سینماکھل رہے ہیں‘ترکی‘ انڈونیشیا‘ملائیشیا‘اور دبئی تو خیر اس سے کہیں آگے ہیں‘پھر مسئلہ آخر کہاں ہے؟۔

جہاں تک OICکا تعلق ہے ‘اکثر مخلص مسلمان اور تجزیہ نگار اس تنظیم کو بے حد اہمیت دینے کے قائل ہیں‘حقیقت یہ ہے کہ اس تنظیم کو زیادہ روحانی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں‘یہ سوال بہت اہم ہے کہOIC‘ مسلم اکثریتی ریاستوں کی نمایندہ ہے یا امت مسلمہ کی؟کیا اس سے وابستہ ہماری توقعات حقیقی ہیں کہ خیالی ؟ امت مسلمہ ایک روحانی اور مذہبی تصور ہے ‘اس زمین پر آباد ہر آدمی جو نبیﷺ کو آخری نبی و رسول اور اسلام کو اپنا دین مانتا ہے۔

اس میں شامل ہے ‘بھارت کے کروڑوں مسلمان‘ امریکا کے لاکھوں مسلمان ‘جاپان‘ برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے بھی اس میں شامل ہیں۔مسلم ملکوں سے مراد وہ ریاستیں ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور زمام کار ان کے ہاتھوں میں ہے‘ OICان ممالک کی نمایندہ ہے ‘امت مسلمہ کی نہیں‘ مسلم ممالک کی تشکیل قومی ریاست کے ماڈل پر ہوئی ہے ‘تمام مسلمان ممالک دراصل قومی ریاستیں ہیں‘ایسی ریاستیں جن کی اساس نسل، زبان اور جغرافیہ ہے۔

سعودی عرب عربوں کا ملک ہے اور ترکی ترکوں کا ؟بنگلہ دیش ‘بنگالیوں کا ہے اور پاکستان مختلف قومیتوں کا وطن ہے ‘یہ اساس ان ممالک کے مفادات کا تعین کرتی ہے‘ یہ ممالک جو حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔

اس کا تعلق ان کے قومی مفاد کے ساتھ ہوتا ہے ‘سعودی عرب اور بھارت کے تعلقات کو اگر قومی ریاست کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے‘ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم امت مسلمہ کے تصور کے تحت ‘اسلامی ملکوں سے یہ توقع رکھتے ہیںکہ وہ بھارت کے خلاف اور کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہوجائے‘ ہم ایسا اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہم علامہ اقبال کے اس شعر سے متاثر ہیں۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

ان شاعرانہ تصور کو حقیقت مان کر ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ ایک سیاسی وجود کا نام ہے اور اس کا حصہ ہوتے ہوئے ہر مسلمان ملک کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوجائے‘ اگر ایک طرف پاکستان میں OICکے وزراء خارجہ کا اجلاس ہو رہا تھا اور اسی وقت دو سری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سرمایہ دار ہندوستان میں کشمیر کے اندر سرمایہ کاری کے موضوع پر کانفرنس میں شریک تھے۔ تو اس میں حیرانی کی بات نہیں تھی ‘ ان مسلمان ریاستوں کے معاشی مفادات ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہیں‘کیونکہ وہ سرمایہ کاری کے لیے بڑی منڈی ہے ‘بعض مسلمان اکثریت والے ملکوں کے مفادات اسرائیل کے ساتھ وابستہ ہیں اور بعض کا ہندوستان کے ساتھ اور کچھ کا امریکا کے ساتھ۔

مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک توجیہہ تو یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ مغرب کو اس مقام تک پہنچنے میں لمبا عرصہ اور تلخ تجربات سے گزرنا پڑا ‘نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا‘صنعتی انقلاب آیا ‘رومانویت اور سیکولرزم کی تحریکیں پروان چڑھیں‘بادشاہتوں کی جگہ جمہوریت کے ذریعے عوام کو حاکم بنایا گیا ‘جنگیں ہوئیں ‘سلطنتیں تباہ کردی گئیں‘بے شمار لوگ مارے گئے‘ پھر کہیں جاکر یورپ حکمرانی کا وہ ماڈل بنانے کے قابل ہوا ‘جس پر پوری دنیا عمل پیرا ہے۔

چاہے کسی کو پسند ہو یا نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ مسلمان یورپ میں اپنے آپ کو آزاد اور محفوظ سمجھتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ مسلمان ممالک کے قیام کو ابھی بہت کم عرصہ ہوا ہے ‘ان ملکوں کی اشرافیہ اور سیاسی قیادت نے کوئی انقلابی تبدیلی نہیں کی‘اور نہ ہی انقلاب برپا کرنے کے لیے یورپ کی طرح جدوجہد کی ہے مگر ایک فائدہ ان ملکوں کو حاصل ہے کہ یورپ کے سامنے تشکیل نو کے لیے کوئی ماڈل موجود نہیں تھا۔

جب کہ یورپ کے برعکس مسلم ممالک کے سامنے ایک ماڈل پہلے سے موجود ہے ‘اس لیے ضروری نہیں کہ مسلمان ملکوں کو بھی ترقی کرنے میں صدیاں اور وہ تمام مراحل طے کرنے پڑیں‘ جو یورپ نے طے کیے ہیں۔ بظاہر مسلم ممالک وہ ماڈل اپنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو رہے ‘آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ایک وجہ ہی سمجھ میں آتی ہے کہ اور وہ ہے عدم جمہوریت‘ لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے اگر جمہوریت ترقی کی ضمانت ہے تو پھر چین کو کس خانے میں فٹ کیا جائے گا؟

مسلمان ممالک کے پاس دو راستے ہیںایک تو وہی جس پر وہ گامزن ہیں اور دوسرا وہ جو ترقی یافتہ مغربی ممالک نے اپنایا ۔مسلم ممالک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ یونیورسٹیاں تو بنا رہے ہیں لیکن سوچنے کی آزادی نہیں دے رہے ‘نشاۃ ثانیہ کا اصلی ثمر وہ آزادی تھی‘ جس پر یورپ آج بھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔مسلم ممالک کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ نہ چین کا ماڈل اپنا سکے اور نہ یورپ کا‘رہا اپنا اسلامی ماڈل تو اس کی تو ہم تشکیل ہی نہ کر سکے ؟

ہم اس پر فخر بھی کرتے ہیں اوریہ سچ بھی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے ‘مسئلہ یہ ہے کہ یہ دور تعداد (Quantity) کا نہیں ہے بلکہ استعداد (Quality)کا ہے ‘ورنہ مٹھی بھر صیہونی ‘دنیا پر حکمرانی نہ کر رہے ہوتے ‘ آخر یہ بات مسلمانوں کے عقل میں کب آئے گی کہ اس زمانے میں ترقی کا واحد راستہ صرف ’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ کا راستہ ہے۔

ہمارے ہاں مذہبی ریاست کا تصور بہت زوروں پر ہے اور اب تو خیر سے ریاست مدینہ کے نام پر حکومت کی جا رہی ہے۔ برسوںگزر گئے ‘مذہبی نفرتوں کی آگ میں جلتے ہوئے‘ایک دوسرے کو قتل کرتے ہوئے‘ایک دوسرے کو کافر کہتے ہوئے ‘کیا اب بحیثیت قوم یہ تسلیم کرنے کا وقت آ نہیں گیا کہ مذہب کا سیاسی اور ریاستی امور میں کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔