روس اور یوکرین جنگ ختم کرانے کی ضرورت

ایڈیٹوریل  اتوار 3 اپريل 2022
یوکرین نے ایک ماہ سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار روسی سرزمین کو نشانہ بنایا ہے۔ فوٹو: فائل

یوکرین نے ایک ماہ سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار روسی سرزمین کو نشانہ بنایا ہے۔ فوٹو: فائل

روس اور یوکرین کے درمیان جاری لڑائی میں امریکا اور مغربی یورپ باقاعدہ ایک فریق بن چکے ہیں۔ امریکا اور مغربی یورپ کی حکومتیں نہیں چاہتی ہیں، کوئی ایسا ملک جو ان کے ساتھ گہرے معاشی اور اسٹرٹیجک تعلقات رکھتا ہو، موجودہ حالات میں روس کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرے۔

گزشتہ روز امریکا نے بھارت او روس کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی پر اپنے تحفظات ظاہر کردیے ہیں۔ امریکا نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ روس پر انحصار نہیں کر سکتا، یہ بات ایسے موقع پر کہی گئی ہے جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سرکاری دورے پر بھارت میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق روس کے وزیر خارجہ نریندر مودی حکومت کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ مغرب کے دباؤ میں آ کر یوکرین جنگ کی مذمت نہ کریں۔ سب کو پتہ ہے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش ہوئی تھی اور اس پر تھارت نے ووٹنگ سے گریز کیا تھا۔ جنگ کے بعد سفارتی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے باوجود بھارت، روس سے تیل خرید رہا ہے کیونکہ روس موجودہ بحران کے پیش نظر سستا تیل فروخت کررہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا میں عالمی اقتصادیات کے نائب مشیر دلیپ سنگھ نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران کہا ہے کہ اگر ایک اور تنازع پیدا ہوگیا تو بھارت روس پر انحصار نہیں کر سکے گا۔ان کی دلیل تھی کہ موجودہ حالات میں چین کے ساتھ تعلقات میں روس جونیئر پارٹنر ہو گا اور پھر روس کو چین پر جتنی زیادہ برتری حاصل ہو گی، یہ اتنا ہی بھارت کے لیے کم سے کم سازگار ہو گا۔

دلیپ سنگھ نے کہا کہ اگر چین نے ارونا چل میں پھر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو روس دوبارہ بھارت کے دفاع کے لیے بھی بھاگتا ہوا نہیں آئے گا جب کہ امریکا بھارت کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور دفاعی ساز و سامان کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ روس پر معاشی پابندیاں نظرانداز کرنے والے ممالک کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس پیش رفت کے بعد بھارت کیا پوزیشن لیتا ہے،اس کا پتہ ایک دو روز میں چل جائے گا، البتہ تازہ پیش رفت تو یہی ہے کہ گزشتہ روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ دو ہفتوں میں ہندوستان کے دورے پر آئے برطانیہ، چین، آسٹریلیا، یونان اور میکسیکو سمیت کسی بھی ملک کے وزیر سے ملاقات نہیں کی تھی۔ ایسے میں روس کے وزیر خارجہ کے ساتھ وزیراعظم مودی کی یہ ملاقات کافی اہم مانی جا رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس یوکرین بحران پر بھارت کی ثالثی کے کردار کے لیے تیار ہے۔ سرگئی لاوروف نے کہا کہ انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو پیغام پہنچایا ہے۔

ادھر میڈیا نے یہ خبر بھی دی ہے کہ یوکرین نے ایک ماہ سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار روسی سرزمین کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین کے 2 ہیلی کاپٹرز نے روسی شہر بلگورود میں مختلف اہداف پر متعدد میزائل داغے۔ روس نے بھی اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یوکرین میں روسی افواج ملک کے مشرق میں اپنے حملوں کو دگنا کرنے کے لیے دوبارہ منظم ہو رہی ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے آئی ایم ایف بھی کہہ چکا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے اثرات دنیا کی معیشت پر ترقی کی رفتار میں کمی، مہنگائی میں اضافے کی شکل میں سامنے آئیں گے۔ پناہ گزینوں کی لہر اور دوسرے انسانی مسائل کے علاوہ اس جنگ سے افراط زر بڑھے گا۔ خوراک اور توانائی کی اشیا مہنگی جب کہ آمدنی میں کم ہو گی۔ علاقائی اقتصادی ترقی میں کمی کا خدشہ ہے۔ سیاحت ، تجارت سمیت مختلف میدانوں میں دباؤ کو محسوس کیا جائے گا۔

بلاشبہ روس اور یوکرین کا تصادم عالمی معیشت کے لیے ایک دھچکا ہے جس سے پیداواری شعبہ متاثر ہو رہا ہے اور اشیائے خورونوش کے نرخ بڑھ رہے ہیں ، جنگ مزید جاری رہنے کی صورت میں یہ جنگ یوکرین کو تباہ اور روس کی معیشت کو مفلوج کر دیتی ہے تو اس کے پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے۔

گلوبلائزڈ ورلڈ اور عالمی سپلائی چینز کی محتاج عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے دور میں اقتصادی پابندیاں پوری عالمی منڈی کو متاثر کرتی ہیں۔ روس متاثر ہو گا تو مغربی دنیا بھی متاثر ہوگی۔ دنیا یک قطبی نہیں رہی، کثیر القطبی ہو گئی ہے ۔ نیٹو کے ذریعے روس کی ناکہ بندی نہ صرف عالمی امن اور کرہ ارض کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے، اس صورتحال میں بھارت پرانے مخمصے میں پھنس گیا ہے۔

یو کرین اور روس کے مابین جاری تنازعہ نہ صرف یورپ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا خطہ بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے ۔ یوکرائن اور روس کی جنگ کے منفی اثرات جزیرہ نما عرب پر بھی پڑیں گے، بالخصوص امریکا کے قریبی اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر۔ سعودی عرب اوپیک میں اپنی اہمیت قائم رکھنے کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے، جب کہ اس نے روس کے ساتھ عسکری تعاون کا ایک سمجھوتہ بھی کر رکھا ہے۔

اگر یہ لڑائی یوں ہی جاری رہی تو سعودی عرب امریکا کا ساتھ دے گا یا روس کا، یہ ریاض حکومت کے لیے ایک درد سر بن سکتا ہے۔ دوسری طرف یمن کا تنازعہ بھی جاری ہے۔ اس خطے میں ایران کے اثرورسوخ سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جو روس کا اہم اتحادی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو روس، مغربی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی خاطر اپنا یہ کارڈ بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یوکرین کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے دنیا پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین شعبہ خوراک کا بھی ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے معاشی و سماجی ترقیاتی شعبے کے ماہرین کہہ چکے ہیں کہ روس، یوکرین تنازعہ نے یوکرین میں فصلوں اور برآمدات کو متاثر کیا ہے، اگر اسے بروقت اور دانش مندی سے حل نہ کیا گیا تو دنیا کو خوراک کی فراہمی میں طویل المدتی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک اور درپیش بڑا مسئلہ کھاد کی قیمتوں کا بھی ہے، اگر روس سے توانائی کی سپلائی کم ہو جاتی ہے یا روس کی توانائی اور کھاد کی برآمدات پر پابندیاں طوالت اختیار کر جاتی ہیں تو مستقبل میں کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کو خوراک کی فراہمی میں حقیقی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یوکرین دنیا میں گندم برآمد کرنے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں چودہ ممالک ایسے ہیں جہاں یوکرین سے درآمد کی جانے والی گندم کی شرح کل کھپت کے دس فیصد سے زیادہ ہے۔ صدیوں سے یوکرین مشرقی افریقہ سے لے کر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو اناج کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، اسی لیے یورپ والے یوکرین کو اپنی بریڈ باسکٹ کہتے ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ابتدائی دنوں میں نیٹو کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کے بیانا ت سامنے آتے رہے لیکن اب نیٹو اتحاد کی سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ نیٹو اس جنگ کا جنگ کا حصہ بننے جارہا ہے۔ روس کی فوج جس وقت یوکرین میں فوجی آپریشن کررہی تھی اس وقت نیٹو اپنی ایک رسپانس فورس بنا رہا تھا،اس کے علاوہ نیٹو نے پہلی بار مشرقی یورپی ممالک میں اپنی فوجیں بھی اکٹھی کرلی ہیں جنھیں خاص طور پر روس کے خلاف ڈیزائن کیا گیا ہے ، نیٹو نے بالٹک ریاستوں اور مشرقی یورپ میں اپنی فضائی پولیسنگ کو بھی بڑھا دیا ہے۔

یوکرین اور روس کے مابین مسلح تنازعہ نہ صرف یورپ کو متاثر کر ے گا بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا خطہ بھی بری طرح متاثر ہوگا ، اگر روس اور یوکرین جنگ نے طول کھینچا تو یورپی ممالک کے درمیان بھی تناو بڑھے گا، یہ صورتحال یقینا اچھی نہیں ہے لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ روس یوکرین جنگ کو ختم کرایا جائے۔ اس معاملے میں ایسے ممالک جو امریکا اور چین کے قریب ہیں اور عالمی سیاست میں اثر ورسوخ بھی رکھتے ہیں، انھیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

دنیا تیسری عالم گیر جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ روس یوکرین تنازع بظاہر ایسا خطرناک موڑ اختیار کرتا نظر نہیں آ رہا جس سے کسی بڑی جنگ کے بھڑکنے کا خدشہ ہو لیکن اس جنگ کے فریق انتہائی طاقتور ہیں۔ اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو خدشہ ہے کہ کہیں صبر کے پیمانے لبریز نہ ہو جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔