’سائنسی صحافت‘: اس سے آسان ممکن نہیں

آصفہ ادریس  بدھ 6 اپريل 2022
’سائنسی صحافت‘ نوآموز صحافیوں اور طالب علموں کےلیے ایک غیر نصابی، عملی رہنما کتاب ہے۔ (فوٹو: فائل)

’سائنسی صحافت‘ نوآموز صحافیوں اور طالب علموں کےلیے ایک غیر نصابی، عملی رہنما کتاب ہے۔ (فوٹو: فائل)

شوبز کی چکاچوند سے سجی اور سیاست دانوں کے گرما گرم بیانات پر ٹکی آج کل کی صحافت میں سائنس جیسے مضمون کو اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری بنانا ایسا کام ہے جو پاکستان جیسے تحقیق اور مطالعے سے تقریباً محروم ملک میں دیکھنے میں کم کم آتا ہے اور اگر سائنس کی بات اردو میں ہو تو ویرانی کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔

اس منظرنامے میں علیم احمد کی تحریر کردہ ’’سائنسی صحافت‘‘ کے نام سے سامنے والی کتاب کے بارے میں بہت سے باتیں ایسی ہیں جو عام ڈگر یا یوں کہہ لیجئے کہ ’کمرشل ازم‘ سے ہٹ کر اور چونکا دینے والی ہیں۔

کتاب پر بات کرنے سے پہلے کچھ باتیں صاحبِ کتاب کے بارے میں ہوجائیں۔ سائنسی حلقوں میں علیم احمد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ طویل عرصے سے صحافت کے دشت کی سیاحی کرنے والے علیم احمد ماہانہ جریدے ’’گلوبل سائنس‘‘ کے مالک، ایڈیٹر، پبلشر یا عرف عام میں کرتا دھرتا رہ چکے ہیں۔

اعلیٰ معیار کے سائنسی مضامین اور بین الاقوامی تحقیقی کام ’گلوبل سائنس‘ میگزین کی پہچان ہوا کرتے تھے جو نہ صرف سائنس سے دلچپسی رکھنے والے بالکل عام قاری کےلیے بھی کچھ نہ کچھ نیا لے کر آتے تھے۔

علیم صاحب کی ہمت اور کوشش سے گلوبل سائنس لمبے عرصے تک پڑھنے والوں کو فیض پہنچاتا رہا لیکن پھر ’ناگزیر‘ وجوہات کی بنا پر میگزین بند کرنا پڑا۔ یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ سائنس جیسے مضمون پر نکلنے والے میگزین کی قسمت میں جلد یا بدیر بند ہونا ہی تھا۔

اب آتے ہیں کتاب کی طرف۔ سب سے پہلے تو کتاب کا نام ہی لے لیجیے جو صحافت کے دشت میں ایک مخصوص مضمون اور وہ بھی ایسا جس کےلیے مہارت درکارہوتی ہے، کی نشاندہی کررہا ہے۔ سائنسی صحافت پر پہلی سرسری نظر ڈالنے پر جس چیز نے فوری طور پر توجہ اپنی طرف کھینچی وہ ’حرفِ آغاز‘ تھا، جو روایتی کتابوں کے برعکس شروع میں ہونے کے بجائے سب سے آخر میں تھا۔ سعادت مند اور باادب شاگرد کی طرح علیم صاحب نے کتاب کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے اپنے استاد کو دیا ہے، جو باادب، بانصیب ہونے کی نشانی ہے۔

سائنسی صحافت کو نہایت بنیادی سطح سے سمجھانے اور سکھانے کےلیے کتاب کا آغاز اچھے سائنسی صحافی کو درکار عمومی باتوں سے ہوتا ہے اور جیسے جیسے کتاب آگے بڑھتی ہے مختلف سائنسی اصطلاحات اور مخصوص چیزوں کی سائنسی تعریف سے متعارف کراتی ہے۔

سائنسی صحافت میں کسی بھی نوآموز صحافی کے سیکھنے کےلیے بہت کچھ ہے۔ لکھاری کا مخاطب کون اور کس عمر کا طبقہ ہے، سے لے کر سائنسی تحریر کو غیر دلچسپ اور خشک ہونے سے بچانے کےلیے سادہ الفاظ اور تراکیب کے استعمال تک ہر چیز کے بارے میں رہنمائی موجود ہے۔

اپنی تحریر کو سائنسی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہونے کے قابل بنانے کےلیے جو چیزیں لازمی چاہیے ہوتی ہیں ان کا تذکرہ بھی تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔

سائنسی صحافت کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے کتاب میں سائنس کو ’ٹھونسنے‘ کی کوشش نہیں کی بلکہ عام فہم انداز میں اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

ایک اور پہلو جو نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ مفید بھی، وہ ہے سائنس کو سائنٹیفک اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے پیش کرنا۔ سائنسی صحافت کےلیے مفید ویب سائٹس سے متعلق معلومات کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

کتاب میں اپنی تحریر میں سوال اٹھانے، جواب کی تلاش کےلیے تحقیق اور سائنسی نکتہ نظر اس کی افادیت کو ثابت کرنے پر نہ صرف زور دیا گیا ہے بلکہ اس کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔

سائنسی صحافت میں جو ایک اور بات غیرمعمولی ہے وہ بچوں کو سائنس کی طرف راغب کرنے اور بچوں کے لیے سائنس کو محض ایک خشک سبجیکٹ کے طور پر نہیں بلکہ دلچسپ مضمون بنا کرپیش کرنے سے متعلق ہے۔

سائنسی تحقیقات اور اصطلاحات کو اردو کے قالب میں ڈھالنا یقیناً مشکل کام ہے۔ سائنس کی خبریں ہوں یا فیچر یا پھر آرٹیکل لکھنا، اس سب کےلیے جس چیز میں مہارت یا کم ازکم بنیاد مضبوط ہونا ضروری ہے، وہ ہے ترجمہ۔ سائنسی صحافت میں ترجمے کی اہمیت اور اس کی مختلف تکینک کے بارے میں بہت تفصیلی بات کی گئی ہے اور ترجمہ کرنے کے عمل کو سادہ زبان میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ترجمہ کس طرح کرنا ہے، اس کی مشقیں بھی کتاب میں موجود ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنی بات نوجوانوں سمیت پوری دنیا تک پہنچانے کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ جدید دور میں سائنسی رپورٹنگ کو کس انداز میں پیش کیا جائے۔ علیم صاحب نے اپنی کتاب میں عمدگی سے ڈیجیٹل سائنسی اسٹوری کی تیاری کےلیے ضروری مختلف تراکیب کو بیان کیا ہے جو ایک اچھی ڈیجیٹل اسٹوری تیار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

’سائنسی صحافت‘ میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں بہتر کیا جاسکتا تھا، مثلاً کچھ چیزوں کو سمجھانے کےلیے کی گئی بات طویل ہوجاتی ہے۔ چند جگہوں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بات دہرائی گئی ہے جو پچھلے کسی صحفے پر شاید پڑھی تھی۔ ترجمے کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ترجمے سے متعلق باب بھی طوالت کا شکار نظر آتا ہے۔

مجموعی طور پر ’سائنسی صحافت‘ کو ایک اچھی کوشش اور کاوش قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں سائنس کی صحافت کرنے کے شوقین افراد کےلیے سیکھنے کو بہت کچھ موجود ہے، بس استفادہ کرنے والا ہونا چاہیے۔

سائنسی صحافت میں بہت سی ایسی چیزوں پر بات کی گئی ہے جن میں سے ہر ایک پر الگ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ سائنسی صحافت خود مصنف کے اپنے الفاظ ایک طویل سفرکا پہلا قدم اور طویل داستان کا حرف آغاز ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ‘سائنسی صحافت‘ سیریز کی مزید کتابیں آنے والے وقت میں نہ صرف عام پڑھنے والے کو فیض پہنچائیں گی بلکہ ملک میں سائنسی صحافت کے نصاب کا حصہ بھی بنیں گی جن سے طالب علم معیاری سائنسی صحافت سیکھ سکیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

آصفہ ادریس

آصفہ ادریس

بلاگر نجی چینل سے وابستہ سینئر صحافی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔