انڈونیشیا؛ طالبات سے زیادتی پر اسلامی اسکول کے استاد کی عمر قید سزائے موت میں تبدیل

ویب ڈیسک  پير 4 اپريل 2022
مجرم کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، فوٹو: فائل

مجرم کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، فوٹو: فائل

جکارتا: انڈونیشیا کی عدالت نے 13 نابالغ طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے استاد کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے اسلامی بورڈنگ اسکول کے 36 سالہ سربراہ اور استاد ہیری ویرامین کو طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی پر فروری میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسلامی بورڈنگ اسکول کے استاد پر الزام تھا کہ انھوں نے 2011 سے 2016 کے درمیان لالچ دیکر یا ڈرا دھمکا کر 11 سے 16 سال کی 13 طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ان طالبات کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے تھا اور والدین نے بچیوں کو پالنے کی قوت نہ رکھنے کے باعث اسلامی بورڈنگ اسکول میں داخل کرایا تھا۔

یہ خبر پڑھیں : انڈونیشیا میں 13 طالبات کیساتھ جنسی زیادتی کرنے والے استاد کو عمر قید 

جنسی زیادتی سے 9 طالبات حاملہ بھی ہوئیں اور بچوں کو جنم بھی دیا۔ مقامی عدالت نے 16 فروری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عوامی دباؤ پر حکومت نے سفاک شخص کو موت کی سزا دلوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر آج اعلیٰ عدلیہ نے مجرم کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کردیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔