اوباما انتظامیہ کا ہزاروں امریکی فوجیوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک  منگل 25 فروری 2014
2017 تک ملک میں کئی فوجی اڈوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چک ہیگل۔ فوٹو: رائٹرز

2017 تک ملک میں کئی فوجی اڈوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چک ہیگل۔ فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکہ نے دفاعی بجٹ میں کمی کے باعث 2017 تک 13 فیصد فوجیوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے حجم میں کمی کے باعث فوجیوں کی تعداد کو 13 فیصد کم کر کے دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی تعداد پر لایا جائے گا، حاضر سروس فوجیوں کی تعداد کو 5 لاکھ 70  ہزار سے کم کر کے 4 لاکھ 40 ہزار اور 4 لاکھ 50 ہزار کے درمیان لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرد جنگ کے دور کے امریکی فضائیہ کے جاسوس لڑاکا طیارے ‘اے10′ کا فلیٹ بھی مکمل طور پر ختم کرکے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے ‘یو2′ جاسوسی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، 2017 تک ملک میں کئی فوجی اڈوں کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی کے منصوبے  میں بجٹ سے متعلق حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کو یقینی بنایا گیا  ہے تاکہ فوج مستقبل میں بھی امریکی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ ہمارے مالی چیلجنز کے حجم کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے، ہمیں مستقبل میں بھی اس قسم کے مشکل فیصلے کرنے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی وزیر دفاع نے فوجیوں کی رہائش کے معاوضے میں کمی اور تنخواہوں میں اضافے میں کمی کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

واضح رہے کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی اور دیگر اقدامات کے منصوبے کی کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے جب کہ گزشتہ چند سالوں میں کانگریس اس طرح کے کئی منصوبے مسترد کر چکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔