سیاسی اور آئینی بحران جلد حل ہونا چاہیے

ایڈیٹوریل  منگل 5 اپريل 2022
اس ملک کے باشعور اور فہمیدہ حلقوں کو یقین نہیں تھا کہ آئین کی آڑ لے کر یہ سب کچھ کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

اس ملک کے باشعور اور فہمیدہ حلقوں کو یقین نہیں تھا کہ آئین کی آڑ لے کر یہ سب کچھ کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

ملک میں جو سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوا ہے‘ اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں‘ پاکستان کی مختصر تاریخ سیاسی اور آئینی بحرانوں سے عبارت ہے، اب جیسا آئینی بحران پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ‘ جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے۔

اس ملک کے باشعور اور فہمیدہ حلقوں کو یقین نہیں تھا کہ آئین کی آڑ لے کر یہ سب کچھ کیا جائے گا۔ ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہا ہے، اسے دیکھ کر یہ بات سچی ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کے ارکان کو اپنا آئینی حق استعمال کرنے دیا جاتا تاکہ کوئی بحران پیدا ہی نہ ہوتا، لیکن ڈپٹی قومی اسمبلی نے چند منٹ میں نہ صرف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیا بلکہ اسمبلی کا اجلاس بھی ملتوی کردیا، اس کے فوراً بعد وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ایوان صدر کو ارسال کردی اور صدر مملکت نے فوراً اس کی توثیق کردی، ادھر اپوزیشن نے اسے ماننے سے انکار کردیا اور نہ صرف قومی اسمبلی کی کارروائی جاری رکھی بلکہ اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کرکے تحریک عدم اعتماد کی کارروائی مکمل کرلی ۔

لگتا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقات میچورٹی‘ تدبر‘ ذہانت کے اس معیار پر پورا نہیں اترے جو کسی ملک میں جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں‘ اتوار کو کی چین آف ایونٹس پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ معاملات گڑبڑ ہوں گے،اخبارات میں جو رپورٹس شایع ہوئی ہیں، ان کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں 12بج کر 5منٹ پر شروع ہوا تھا۔

فروغ نسیم کے استعفے کے بعد نئے وفاقی وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ7مارچ کو ایک میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے ایک روز بعد 8 مارچ کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے۔

ہمارے سفیر کو7 مارچ کو ایک میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے، اس میں دوسرے ممالک کے حکام بھی بیٹھتے ہیں، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا رہی ہے، پاکستان سے ہمارے تعلقات کا دارومدار اس عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی پر ہے، اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا لیکن اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو آپ کا اگلا راستہ بہت سخت ہو گا۔

انھوں واضح کیا کہ یہ غیر ملکی حکومت کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی بہت ہی موثر کوشش ہے، بدقسمتی سے اس کے ساتھ ہی اتحادیوں اور ہمارے22 لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے اور معاملات یہاں تک آ پہنچتے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا، کیا یہ22 کروڑ لوگوں کی قوم اتنی نحیف و نزار ہے کہ باہر کی طاقتیں یہاں پر حکومتیں بدل دیں، ہمیں بتایا جائے کہ کیا بیرونی طاقتوں کی مدد سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔

کیا یہ آئین کے آرٹیکل5 کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا ہم پاکستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیا ہم غلام ہیں؟ کیا اپوزیشن لیڈر کے بقول ہم بھکاری ہیں؟ اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشا نہیں چل سکتا اور اس پر رولنگ آنی چاہیے۔ وفاقی وزیرقانون کے اظہار خیال کے بعد قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل5 کے تحت کسی بھی غیرملکی طاقت کے کہنے پر حکومت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

لہٰذا اپوزیشن کی8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا جاتا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے، یوں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی نوبت نہ آسکی۔

ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے فوراً بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے تقریباً 5منٹ کا مختصر خطاب کیا اور اعلان کیا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز صدر مملکت کو بھجوادی ہے۔ ہمارے اسپیکر نے حکومت تبدیل کرنے کی سازش کو مسترد کیا ہے، یہ ایک غیر ملکی ایجنڈا تھا اور اس کے مسترد ہونے پر وہ ساری قوم کو مبارک باد پیش کرنا چاہتے ہیں۔

اسپیکر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا ، اس کے بعد صدر مملکت کو تجویز بھیج دی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کریں ، ہم جمہوری طریقے سے عوام میں جائیں گے اور عوام فیصلہ کریں کہ وہ کس کو چاہتے ہیں۔ کوئی باہر کے لوگ اور ایسے لوگ پیسے خرچ کر کے اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہ کریں۔

میڈیا کے مطابق بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 58 (1) اور 48 (1) کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز منظور کی ہے۔

یہ تو ایونٹس کا ایک رخ ہے ، دوسری طرف تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ کے لیے ملتوی کرنے کے باوجود متحدہ اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی کے ایوان میں اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ اپوزیشن ارکان نے اسمبلی ہال میں ہی قومی اسمبلی کا علامتی اجلاس بلالیا، اس اجلاس کی سربراہی پینل آف چیئر کے رکن ایاز صادق نے کی جنھوں نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی۔

اپوزیشن کے علامتی اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی کی بھاری اکثریت نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیدیا اور یوں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ قومی اسمبلی کے علامتی اسپیکر ایاز صادق نے اسپیکر کی نشست سنبھالتے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف اپنی رولنگ دیدی۔ ایاز صادق نے کہاکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے خلاف ہے، اسے مسترد کرتا ہوں۔ انھوں نے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا علامتی اجلاس چھ اپریل تک ملتوی کردیا۔ یوں ملک کا آئینی بحران خاصا پیچیدہ ہوگیا ہے۔

متحدہ اپوزیشن نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ عمران خان نے ملک اور آئین کے خلاف کھلی بغاوت(Coup)کی ہے جس کی سزا آئین کے آرٹیکل6میں درج ہے، اس بغاوت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،آج ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جس میں آئین، جمہوریت ، قانون اور سیاسی اخلاقیات کے خلاف بغاوت کی گئی ہے،اسپیکر سمیت تمام حکومتی ٹولے کے غیرآئینی وغیرپارلیمانی اقدامات اور رویوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انھیں آئین شکن قرار دیتے ہیں۔

اپنے مشترکہ بیان میں متحدہ اپوزیشن نے کہا کہ ایوان کے اندر اپوزیشن اپنی واضح اکثریت ثابت کرچکی ہے جب کہ یہ بھی بلاشک وشبہ عیاں ہوچکا ہے کہ اپوزیشن کے پاس ایوان کی واضح اکثریت ہے۔

بیان میں مزید کہاگیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے صورت حال کا نوٹس لینے کے اقدام کی تحسین کرتے ہیں، ملک وقوم کو درپیش سنگین آئینی بحران کے پیش نظر چیف جسٹس اور ان کے برادر ججز کی طرف سے فوری کارروائی کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں، عوام پرامید ہیں اعلیٰ عدلیہ آئین شکنی کے اقدامات سے پیدا ہونے والے بحران پر ایک دستور کی روشنی میں فیصلہ صادر فرمائے گی۔

اب یہ معاملہ عدالت عظمی کے پاس ہے ، اس پر کیا فیصلہ آئے گا، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ملک اس بحران کی طوالت کو برداشت نہیں کرسکتا ، یہ آئینی جلد حل کیا جانے چاہیے تاکہ ملک کی انتظامیہ اور معیشت کام کرتی رہے۔ ویسے بھی پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے، مہنگائی ناقابل برداشت ہوچکی ہے، روپے کی قدر 49فیصد تک کم ہوچکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔