کیا اس وقت ملک میں کوئی وفاقی حکومت ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ

ویب ڈیسک  منگل 5 اپريل 2022
صحافیوں کو تحفظ فراہمی کی درخواست پر حامد میر کو عدالتی معاونت کی ہدایت

صحافیوں کو تحفظ فراہمی کی درخواست پر حامد میر کو عدالتی معاونت کی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست پر حامد میر کو عدالتی معاونت کی ہدایت کردی۔

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے صحافیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے پی ایف یو جے کی درخواست کی سماعت کی۔ پیمرا نے درخواست پر اپنا جواب جمع کروا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی کے وکیل نے درخواست کی کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ جواب جمع کرائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا اس وقت ملک میں کوئی وفاقی حکومت ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ جس وقت نوٹس ہوئے تھے تب تو وفاقی حکومت موجود تھی۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو بھی آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے صحافی حامد میر کو رپورٹ کا جائزہ لے کر عدالتی معاونت کی ہدایت کی۔ عدالت نے پیمرا رپورٹ کی کاپی فریقین کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ حامد میر صاحب پیمرا کی رپورٹ پڑھ لیں پھر معاونت کریں، صحافی جب خود محفوظ نہیں ہو گا تو بنیادی حقوق پر کیسے بات کرے گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔