شعبہ زراعت بحران کا شکار

ایڈیٹوریل  بدھ 6 اپريل 2022
ملک میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گندم کی پیداوار میں انیس لاکھ ٹن کمی کا امکان ہے۔ فوٹو؛ فائل

ملک میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گندم کی پیداوار میں انیس لاکھ ٹن کمی کا امکان ہے۔ فوٹو؛ فائل

ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے باعث گزشتہ چند روز سے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ، گزشتہ روز ڈالر 1.26روپے اضافے سے 185روپے کا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ملک میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گندم کی پیداوار میں انیس لاکھ ٹن کمی کا امکان ہے ، رواں برس ملک میں گندم کی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 89 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا ، تاہم نئے اعداد و شمار کے مطابق اب گندم کی پیداوار ہدف سے 2.5 فی صد کم ہوکر دو کروڑ 68لاکھ میٹرک ٹن کے آس پاس رہنے کا امکان ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ کاشتکاروں کی کھاد کی رسائی میں مشکلات اور ناموافق موسمی حالات ہیں ۔

گزرے برس سے اب تک کھادوں کی قیمتوں میں مسلسل فیصد اضافہ زرعی معیشت کا دعویٰ رکھنے والے ملک کے لیے غیر معمولی تشویش کا موجب ہے۔ ایک اور خبر میں مختلف اقسام کی کھادوں کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران ہونے والے اضافے کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جو کہ ایک سو بیس فی صد کے بنتا ہے، جس کے مطابق ڈی اے پی، نائٹرو فاس، امونیم نائٹریٹ اور یوریا کی قیمتوں میں بھی قریب دگنا اضافہ ہوا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ دگنا قیمتوں پر بھی اکثر کھادیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور کاشتکار مسلسل ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دے رہے ہیں۔

حکومت نے کھاد کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی مگر اس کا اثر کیا ہوا؟ کاشتکار بدستور کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ صرف دگنا قیمتوں کا مسئلہ ہی نہیں کھادوں کی دستیابی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔ اصولی طور پر صوبائی حکومتوں کو اس صورت حال میں مداخلت کرنی چاہیے مگر صوبائی حکومتیں اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

عرصہ دراز سے ہم سب یہ پڑھتے آ رہے تھے کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے کیونکہ پاکستان کی جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 30 فیصد اور لیبر فورس میں 40 سے 45 فصد حصہ تھا۔

پاکستان کی کل برآمدات کا 50 فیصد سے زائد حصہ اسی زرعی شعبے کا مرہون منت تھا اور ہم زرعی شعبے کی برآمدات سے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے تھے لیکن ہماری ناقص منصوبہ بندی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا سب سے اہم شعبہ زراعت بحران کا شکار ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زراعت جسے ہم اپنی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے تھے۔ وہ ہڈی جگہ جگہ سے ٹوٹ بھی چکی ہے اور شکستہ بھی ہو چکی ہے۔

افسوس اس بات کا ہے ہر آنے والی حکومت نے عوام کو سرسبز انقلاب اور خود کفالت کے سہانے خواب دکھائے لیکن عملاً زراعت کی ترقی کے لیے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا‘ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے آج زراعت اور کاشتکار بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے دیہی عوام 16 ویں صدی جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔

ہمارے صاحبان اقتدار یہ بات اپنے پلے باندھ لیں کہ جب تک دیہات اور کسان کے مسائل حل نہیں ہوں گے زرعی خود کفالت ایک ڈراؤنے خواب سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی تقریباً 65 فیصد آبادی جو زراعت اور لائیوا سٹاک سے وابستہ ہے اس کے مسائل حل کیے بغیر زرعی ترقی ممکن ہی نہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق اب زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ کم ہو کر 19.2 فیصد اور لیبر فورس بھی کم ہو کر 38.5 فیصد ہو چکی ہے۔

اسی سروے کے مطابق ہماری زراعت نے مقرر کردہ ہدف 2.8 کے مقابلے میں 2.77 فیصد حاصل کیا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے گندم‘ دھان‘ گنے‘ مکئی کی پہلے سے زیادہ پیداوار حاصل کی اور خاص طور پر کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے عوام آٹا چینی گندم اور کپاس کے سابقہ بحرانوں اور قلت کے تناظر میں نتائج خود ہی اخذ کر سکتے ہیں۔

ہمارا زرعی شعبہ نہ صرف خوراک اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کے لیے خام مال کی پیداواری کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ خوراک کی پیداوار، برآمدی صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی اور روزگار کی سب سے بڑی مارکیٹ، یہ تین بنیادی اسباب زرعی شعبے کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر زرعی شعبہ کبھی اس قدر حکومتی ترجیح حاصل نہیں کر پایا جس کا یہ حق دار ہے۔

اس کے نتائج خوراک کے بحران، ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے کپاس کی درآمد اور افرادی قوت کی گاؤں اور قصبوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کی صورت میں واضح ہیں۔

ان نتائج میں ہر ایک کی بھاری قیمت اد اکی جاتی ہے مگر زرعی شعبے کی حقیقی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کے ذریعے اس کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت اس معاملے میں ماضی سے بڑی مثالیں فراہم کررہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اربوں ڈالر صرف اناج کی درآمد پر خرچ کیے گئے، چینی کی درآمد پر جو اخراجات ہوئے وہ اس سے الگ ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ مالی سال کے دوران اشیائے خوراک کی درآمد پر آٹھ ارب 34 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔

یہ اخراجات ایک برس پہلے کے مقابلے 54 فیصد زیادہ تھے۔ چینی، گندم، پام آئل اور دالیں خوراک کے شعبے کی بنیادی درآمدات تھیں اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں پیداواری بحران تھا۔ کیا ہم خوراک کی ضروریات اسی طرح درآمدات سے پوری کریں یا ملکی زراعت کو ترقی دے کر خوراک کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کریں گے؟ درآمدات سے خوراک کی مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور عوام میں تشویش بڑھے گی۔

گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران لاکھوں ایکڑ زرخیز زرعی رقبے پر جو بے ہنگم رہائشی اسکیمیں بنی ہیں اور مسلسل بن رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زرخیز زرعی اراضی پر ان رہائشی اسکیموں کے بننے کی وجہ سے ہی پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے 17.60 ملین ہیکٹر رقبے کو جسے مختلف وجوہ کی بناء پر خالی چھوڑا ہوا ہے اس پر کاشتکاری کے لیے عملاً کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ہمارے زرعی تعلیم و تحقیق کے اداروں اور محکمہ زراعت کے عملہ نے جدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں کوتاہی کی ہے۔

دوسری طرف ہمارے زرعی سائنسدان زیادہ پیداوار دینے والے بیج جو بیماریوں کے خلاف زبردست قوتِ مدافعت رکھتے ہوں، تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہماری زراعت پر اس سے بھی بڑھ کر ایک ظلم یہ ہوا کہ کسانوں کو مہنگے داموں، ناقص اور ملاوٹ شدہ بیج ،کھاد ، زرعی ادویات ڈیزل مل رہا ہے، بجلی، آبپاشی کے لیے پانی اور زرعی آلات مہنگے دستیاب ہیں۔

نہری نظام بشمول چھوٹی نہریں اور کھالے بھل اور گھاس پھوس سے اٹے پڑے ہیں۔ ہماری زیادہ تر زرعی اراضی ناہموار ہے ان مندرجہ بالا مسائل کی وجہ سے زراعت کو مناسب پانی نہیں ملتا۔ ہمارے کاشتکاروں کو کسی نے نہیں بتایا کہ آبپاشی کے لیے پانی کی کمی کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ زمین اور پانی کا تجزیہ کیوں ضروری ہے؟ فصلوں کی کٹائی کے وقت پیداوار کو ضایع ہونے سے کس طرح بچانا ہے؟ زرعی پیداوار کو اسٹوریج کیسے کرنا ہے؟

کاشتکار کی پیداوار کم ہو جائے تو بھی عذاب، پیداوار زیادہ ہو جائے تو پھر بھی وہ اس کی فروخت کے لیے آڑھتیوں کے مکمل رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ہمارے محنتی کسانوں کے ساتھ یہ ظلم، زیادتی اور ناانصافی صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ زراعت اب ہماری ترجیح ہی نہیں رہی۔

رواں سال کھاد کی ہوش ربا قیمتوں، بجلی اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے اور گندم کی امدادی قیمت نہ بڑھنے کی وجہ سے گندم کی بوائی کا ہدف پورا نہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ گندم اور کپاس سے آگے دالوں اور تیل دار فصلوں کی کاشتکاری کی جانب دیکھیں تو حالیہ چند برس کے دوران کوئی قابل ذکر حکومتی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ حکومت کی یہ ناکامی کھانے کے تیل اور دالوں کی درآمدات میں اضافے کی صورت میں واضح ہے۔

اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی کوئی بڑا کام نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ حکومت جب پیداوار میں اضافے کا دعویٰ کرتی ہے اور زرعی شعبے کو بہتر بنانے کے جامع منصوبے اور اس پر ترجیحی بنیاد پر عمل درآمد کا ذکر کرتی ہے تو اس سے آخر کیا مراد ہے؟

زمینی حقیقتوں میں تو نہ کوئی ایسا جامع منصوبہ نظر آتا ہے اور نہ ہی ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حال ہی میں زرعی قرضوں میں اضافے کا ہدف ضرور مقرر کیا گیا ہے مگر سود کی شرح جس قدر بڑھائی جاچکی ہے۔

اس کے ساتھ یہ قرض زرعی شعبے کے لیے کتنے فائدہ مند رہ گئے ہیں، اسے بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں زراعت کو سرمایے کی کمی کا سامنا ہے مگر صرف سرمایہ کچھ نہیں کرسکتا جب تک کہ حکومت کی جانب سے اس شعبے کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی اور منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔