مصنوعی ناک، آنکھ اور کان اس شفاخانے سے لے جائیں

ویب ڈیسک  جمعـء 8 اپريل 2022
پروفیسر ایلیسن نے حال ہی میں کینسر میں ناک کھونے والے ایک شخص کو اصل سے قریب ناک لگائی ہے۔ فوٹو: ڈیل میل

پروفیسر ایلیسن نے حال ہی میں کینسر میں ناک کھونے والے ایک شخص کو اصل سے قریب ناک لگائی ہے۔ فوٹو: ڈیل میل

ٹیکساس: 42 سالہ ڈاکٹر ایلیسن ویسٹ ٹیکساس میں رہتی ہیں اور وہ دنیا کی ممتاز ایناپلاسٹولوجسٹ ہیں جو کینسر اور حادثوں میں آنکھ ، ناک، کان اور دیگر اعضا کھونے والے افراد کے لیے امید کی ایک کرن بھی ہیں۔

ایلیسن کو چہرے کی دوبارہ تدوین (ری کنسٹرکشن) پر ملکہ حاصل ہے۔ اب تک وہ لاتعداد مریضوں کے کان بناچکی ہیں اور حال ہی میں سرطان میں ناک کا نرم حصہ کھونے والے ایک مریض کو اصل سے قریب تر ناک کا تحفہ دے چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا کام بہت صبرآزما ہے جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، آرٹ اور فنِ طب کے اکثر پہلو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک خاتون کو دونوں مصنوعی ہاتھ بھی لگا چکی ہیں۔ تاہم حقیقت سے قریب تر اعضا سلیکون اور پالیمر سے تیار کیا جاتا ہے۔

ان کی کمپنی کا نام موزائک پروستھیٹکس ہے جہاں روزانہ لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ وہ جلنے والے چہرے کے خدوخال کو کمال مہارت سے درست کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں بھی خصوصی جگہ دی گئ ہے۔گزشتہ 16 برس میں وہ 600 سے زائد انتہائی پیچیدہ آپریشن انجام دے چکی ہیں۔ تاہم ایک مصنوعی جراحی کی قیمت 5000 سے 15000 ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اس عمل میں ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے۔

ایلیسن کے کلینک میں جگہ جگہ آنکھ، انگلیاں، اعضا کے حصے اور مصنوعی جلد موجود ہے اور یہاں آنے والے اپنے نقائص دور کرنے کے بعد اطمینان اور احساس کے ساتھ اپنے گھر لوٹتے ہیں۔ دوسری جانب پیدائشی نقائص والے بچے بھی ان کے شفاخانے لائے جاتے ہیں۔ ایلیسن بہت توجہ سے ان کا علاج کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے مریض اسے ایک ہیرو قرار دیتے ہیں اور ان کی شہرت چار عالم پھیل چکی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک 65 سالہ مریض کو حقیقت سے قریب تر مصنوعی آنکھ لگائی ہے جو کینسر کی وجہ سے ایک آنکھ سے محروم ہوچکے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔